تازہ ترین



سیکشن: سعودی قوانین

معتمر جیب کٹ جانے کی صورت میں کرے ؟

shadow
 
کوئی بھی شخص راستوں، صحنوں یا سڑکوں یا مقدس شہروں میں پلوں کے نیچے ڈیرے ڈالنے کا مجاز نہیں 
 
 
ارض مقدس پہنچنے والے معتمرین کے لئے سعودی عرب کے قوانین کے متعلق اس سے پہلے روشنی ڈالی گئی تھی۔  اب مزید چند قوانین اورہدایات پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔ 
 
معتمر کیلئے موثر پاسپورٹ ہونا ضروری ہے ۔مطلوبہ صحت سرٹیفکیٹ منسلک کرنا لازم ہے ۔عمرہ یا حج ویزے کیلئے عازم کے وطن میں سعودی سفارتخانے سے رجوع کیا جائے ۔ سعودی سفارتخانہ یا قونصل خانہ  ویزہ سمیت تمام سہولتیں فراہم کرتا ہے ۔ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں سے آنیوالے  معتمرین اپنے پاسپورٹ اور اپنے ٹکٹ ادارہ معلمین یا فیلڈ سروس گروپ کو پیش کرنے کے پابند ہیں ۔ ادارہ معلمین یا فیلڈ سروس گروپ ہی عازمین کو مطلوبہ سہولتیں فراہم کرتا ہے ۔ یہی گروپ یا ادارہ مدینہ منورہ یا جدہ وغیرہ سفر کا بندوبست کرتا ہے ۔ 
 
ہر پاسپورٹ کے ساتھ عربی زبان میں معتمرکا تعارفی کارڈ منسلک کیا جانا لازم ہے ۔ کارڈ کے ہمراہ معتمر کی تصویر اور نجی معلومات کا اندراج کیا جائے گا ۔ ہر کارڈ پر  ادارے کی مہر لگی ہوئی ہوگی ۔ امیگریشن، کسٹم اور نجی حج اداروں کی فیس کی ادائیگی کے بعد پاسپورٹ یونائٹیڈ ایجنٹ آفس کے نمائندے کے سپرد کر دیا جاتا ہے ۔ یہ نمائندہ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ روانگی کے انتظامات کرتا ہے ۔معتمرین کی رہائش سے متعلق ہدایات کی پابندی لازمی ہے ۔جدہ ، مدینہ منورہ ، مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ سفر کے اوقات کی پابندی  معتمرین پر فرض ہے ۔ حرمین شریفین کی سر زمین کے تقدس  اور سعودی عرب کے قوانین کا احترام ضروری ہے ۔ سعودی قوانین کے بموجب کوئی بھی شخص راستوں خصوصاً مسجد الحرام یا مسجد نبوی شریف کے اطراف یا ان کے صحنوں یا سڑکوں یا مقدس شہروں مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ یا منیٰ وغیرہ میں پلوں کے نیچے ڈیرے ڈالنے کا مجاز نہیں ۔کسی بھی شخص کو کباڑ کے ڈبوں کے سوا کسی اور جگہ کوڑا ڈالنے کی اجازت نہیں ۔ 
 
معتمرین نجی معلومات والے کارڈ اپنے  ہمراہ رکھیں ۔ مکہ مکرمہ میں ادارہ معلمین یا مدینہ منورہ میں فیلڈ سروس گروپ یا اس کے ماتحت  دفتر کی جانب سے جاری  کر دہ کارڈ کی حفاظت کرے ۔ اپنے ساتھ پاسپورٹ سائز 12تصاویر لیکر چلیں ۔ کسی بھی وقت کسی  بھی کام کیلئے کارڈ اور اس پر فوٹو چسپاں کرنے کی ضرور ت پیش آجاتی ہے ۔  اپنی سرکاری دستاویزات اور نقدی ادارہ معلمین یا اس کے ماتحت فیلڈ سروس گروپ یا اپنی رہائش پر مہیا امانت خانوں میں محفوظ کرا دیں ۔ دستاویزات اپنے حج مشن کے کسی معتبر شخص کے پاس بھی رکھوا سکتے ہیں ۔ دستاویزات جہاں بھی جمع کروائیں اس کی رسید لینا نہ بھولیں ۔ اگر حاجی کی جیب کٹ جائے یا اس کا سامان چوری ہو جائے ایسی صورت میں فیلڈ سروس گروپ یا ادارہ معلمین یا وزارت حج کے ماتحت شکایات کمیٹی یا پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرا دے ۔ سامان گم ہونے کی صورت میں حاجی فیلڈ سروس گروپ سے رجوع کرے یا مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ یا جدہ میں وزارت حج کی کسی شاخ سے رابطہ کرے ۔ وزارت نے مذکورہ تینوں مقامات پر گمشدہ اشیاء کا ادارہ قائم کر رکھا ہے ۔ لاپتہ سامان مذکورہ ادارے میں جمع کر دیا جاتا ہے ۔ جس شخص کا بھی سامان گم ہو  وہ گمشدگی سامان کے ادارے پہنچ کر اپنے سامان کی شناخت کر سکتا ہے ۔ 
 
اگر کسی وقت کسی بھی گتھی کو سلجھانے کیلئے یا درپیش رکاوٹ کو ختم کرانے کیلئے مدد کی ضرورت محسوس کرے تو متعلقہ ادارے یا وزارت حج کی قریبی شاخ سے رجوع کرے ۔ اگر کو کسی سے کوئی شکایت ہو تو وہ مکہ مکرمہ یا جدہ یا مدینہ منورہ میں وزارت  حج کے ماتحت شکایات کمیٹی سے رابطہ کرکے اپنا معاملہ پیش کرے ۔ علاوہ ازیں عمارتوں کے اطراف بھی شکایات دفتر قائم ہیں ۔ ان میں سے کسی بھی دفتر پہنچ کر شکایات درج کرا دیں ۔ یہ کام مملکت سے واپسی کا سفر شروع کرنے سے پہلے انجام دے اور اپنی شکایت کے ضروری ثبوت بھی مہیا کرنے کا اہتمام کرے ۔ 
 
اگرمعتمر مقدس شہروں مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ و مشاعر مقدسہ اور جدہ سے باہر کسی شہر میں مقیم اپنے رشتے داروں سے ملاقات کیلئے جانا چاہتا ہو تو مذکورہ تینوں شہروں میں سے کسی ایک شہر میں قائم وزارت حج کی شاخ سے اجازت نامہ حاصل کر لے  ۔ متعلقہ شاخ کے افسران معقول جواز سن کر اجازت نامہ جاری کر سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وزارت حج کے افسران متعلقہ اداروں سے ربط و ضبط پیدا کر کے اجازت نامہ دے دیتے ہیں یہ کام متعلقہ ادارے معلمین کی نگرانی میں انجام پاتا ہے ۔ 
امن و امان سے چھیڑ خانی کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی شمار ہو گی ۔ کسی بھی طریقے ، کسی بھی وسیلے اور کسی بھی صورت میں بد امنی کی کوئی بھی واردات قابل مواخذہ جرم ہے ۔ اس پر جواب طلب کیا جائیگا ۔ سعودی سیکیورٹی فورس کا ادارہ بد امنی کے کوشاں فرد کو عبرتناک سزا دیگا ۔ معتمر یا حاجی تنخواہ یا بغیر تنخواہ کے کسی بھی طرح سعودی عرب میں ملازمت کا مجاز نہیں ۔ سعودی عرب میں گداگری قطعاً ممنوع ہے ۔ سعودی قانون کے بموجب نشہ آور اشیاء لانا ، استعمال کرنا یا اس کا لین دین کرنا یا اس کا سودا کرنا جرم ہے ۔ اس پر انتہائی سزا دی جاتی ہے ۔ کبھی کبھی اس  پر گردن زدنی کی سزا ہوتی ہے ۔کوئی بھی حاجی مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ سے باہر سفر کا مجاز نہیں ۔ جدہ ، مکہ ، مدینہ سے باہر جانے کی اجازت قطعاً نہیں ہے ۔ فریضہ حج اور عمرے کی ادائیگی کے بعد ویزے کی میعاد ختم ہو جانے پر قیام ممنوع ہے ۔ حاجی حضرات امیگریشن کی کارروائی برق رفتاری سے مکمل کرانے کے لئے اپنے ہمراہ انتہائی ضرورت کا سامان لانے پر اکتفا کریں ۔ 
 
حج یا عمرے پر آنیوالوں کا مقصد خانہ کعبہ کا طواف ، صفاو مروہ کی سعی ، منیٰ ، مزدلفہ و عرفات کا سفر اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کی زیارت ہوتا ہے  لہٰذا ضیوف الرحمان اپنے اس ہدف کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں ۔ مملکت آنے پر سعودی عرب کے تاریخی و مذہبی مقامات کی سیر پر اکتفا کرے ۔ جدہ کو باب الحرمین کہا جاتا ہے اس وجہ سے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور مشاعر مقدسہ کے علاوہ جدہ بھی ان شہروں کی فہرست میں شامل ہے جہاں عازمین حج آجا سکتے ہیں ۔ حاجیوں کے لئے یہی ہدایت ہے کہ وہ ان شہروں کے سوا کسی اور شہر کا رخ نہ کریں ۔ محکمہ پاسپورٹ کے اہلکار مملکت میں قانونی طور پر داخلے اور قانونی شکل میں قیام کی دستاویز سے مطلع ہونا چاہتے ہیں لہٰذا جب بھی محکمہ  پاسپورٹ کے اہلکار  آپ سے آپ کا پاسپورٹ طلب کریں آپ پہلی فرصت میں پاسپورٹ اسے پیش کر دیں ۔ پاسپورٹ واحد دستاویز ہے جس کی بنیاد پر مملکت پہنچنے اور یہاں سے نکلتے وقت قانونی کارروائی ہوتی ہے ۔ 
 
معتمر یاحاجی حضرات اپنے ٹکٹ کی بھی حفاظت کریں ۔ ٹکٹ پر واپسی کی تاریخ درج ہوتی ہے ۔محکمہ پاسپورٹ کے اہلکاروں کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو حج کے شعائر کی ادائیگی اور حج کا سفر  بہتر سفر میں طے کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ 
 
1