تازہ ترین



سیکشن: پردیس کہانی

پردیس کی 20 سالہ ریاضت کا ثمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

shadow

بیوی نے کہا اگر آپ سعودی عرب کو خیر باد کہہ کر پاکستان آگئےتو بیٹے بیٹیوں کے مستقبل کا کیا ہوگا، ویسے بھی یہاں کیا رکھا ہے

ارشد علی ارشد... دمام

بیرون ملک آتے ہی اس کے خوابوں کا محل کانچ کے برتن کی طرح چھناکے سے ٹوٹ گیا۔اس کے ذہنی تصور کے آئینے میں کچھ اور ہی تصویر سجی ہوئی تھی ۔ تصورات کی دنیا اور جاگتی آنکھوں کے خواب اکثر انسان کو مایوس ہی کرتے ہیں ۔ تارکین وطن جب بھی وطن لوٹے ان کے ٹھاٹھ بات نرالے ہوتے تھے اور وہ بھی ایسے ہی زندگی چاہتا تھامگر ابتدا میں ہی اس کی ہمت جواب دینے لگی۔12 گھنٹے کام میں وہ کولہو کے بیل کی طرح جتا رہتا ۔درمیان میں 2 گھنٹوں کا لنچ اور نماز کا وقفہ اور3 گھنٹے کیمپ سے آنے جانے کی مد میں صرف ہو جاتے ۔17گھنٹوں بعد وہ کیمپ کا دوازہ پار کرتا تو لگتا پیروں کے ساتھ منوں وزن باندھ رکھا ہو.جی چاہتا چارپائی ہو اور دینا و مافیا سے بے خبر نیندمگر نیند جو اپنے گھر میں پلکوں کی جھالر میں ٹانکی رہتی یہاں کوسوں دور بستی تھی کیونکہ کیمپ واپسی پر اسے پسینے کی بدبو اور مٹی میں اٹی کوورآل کی دھلائی اور کھانا بنانے کی فکر لاحق رہتی.وہ ایک ہال نما کمرے میں 15 دیگر افراد کے ہمراہ رہتا تھا۔جس میں 4،4 افراد نے ملکر کھانے پینے کا مشترکہ نظام اخذ کر رکھا تھا۔یوں اس کمرے میں روز 4 کھانے بنتے تھے۔ہر کسی کا اپنا مزاج اپنی پسند کچن میں کھڑکتے برتنوں کی طرح اکثر کمرے میں بھی کھڑاک جاری رہتا۔ لوگ ان سے ایسا رویہ روا رکھتے جیسے ہندو برہمن شودروں کے ساتھ رکھتے ہیں -شلوار قمیض سے تو انھیں خامخواہ کا بیر تھا۔وہ دل برداشتہ ہو گیا۔اسے لگا یہ ملک اس جیسے بندے کیلے نہیں ہے۔صرف6 ماہ بعد اس نے استعفیٰ دے دیا جو قبول نہ ہوا۔اس کے جانے کی ضد دیکھ کر کمپنی نے اسے 2 ماہ کی رخصت دے دی ۔وہ خوش تھا کہ ایک بار چلا گیا تو واپس نہیں آ ئوں گا۔ ٹکٹ لینے کے بعدجیب میں ایک ہزار ریال تھے۔بلد مارکیٹ جا کر اس نے کچھ خریداری کی اور پاکستان سدھار گیا ۔ اس کا باپ جہاں دیدہ سخص تھا محض6 ماہ بعد بیٹے کو گھر کی دھلیز میں دیکھ کر تیسرے دن اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔ " میں جانتا ہوں بیٹا پردیس کی مٹی پھانکنا اتنا سہل نہیں ۔وہاں راحت نہیں ملتی ،رات بستر پرپرسکون نیند کے پھول نہیں ملتے مگر بیٹا ایک بات سوچ کر کانٹوں بھرے بستر پر سو جایا کرنا کہ تو اپنے خون پسینے سے کنبے کے 8 افراد کی امیدوں کو سینچے گا ۔بیٹا تیرے دادا مرحوم کہا کرتے تھے کہ جوان گھر سے نکلتے ہیں تو گھر چلتے ہیں ۔بس بیٹا خدا کے بعد تو ہی اب اس گھر کو چلائے گا ۔میں تو اب ناکارہ کھلونا ہوں جسے بچے گھر کے کباڑ خانے میں پھینک دیا کرتے ہیں-" کہتے ہوئے ابا کی آنکھیں بھر گئیں ۔اس نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے ابا کے ہاتھ تھام لیئے اور گھمبیر لہجے میں بولا ۔ " ایسا نہ کہیئے ابا آپ ہماری حیات ہیں اور حیات کو انسان بڑا سنبھال کر رکھتا ہے" " تو پھر وعدہ کر بیٹا ہم نے جو امیدیں تم سے وابستہ کر رکھی ہیں تو انھیں اپنی محنت و مشقت سے پایہ تکمیل تک پہنچائے گا ۔ اس نے وعدہ کیا اور عزم مصصم کے ساتھ ایک بار پھر پردیس چلا گیا۔اس بار اس نے سب کچھ برداشت کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا اس لیے پردیس کی تمام مشکلات کو خندہ پیشانی سے قبول کر لیا۔

گھر والے بہت خوش تھے اس کی ارسال کردہ رقوم سے 2 بہنوں کی رخصتی ہو چکی تھی۔وہ بھی شاداں تھا کہ بھائی ہونے کا حق ادا ہوا۔جب دوسری چھٹی 3سال بعد گیا تو گھر میں صرف چھوٹی بہن کی رخصتی باقی تھی۔جب ماں باپ نے اسے پاس بیٹھا کر تشکر آمیز نگا ہوںسے دیکھا تو اس کی ساری تھکن دور ہو گئی ۔ماں نے کہا ۔۔ "بیٹا اب ایک سال بعد چلے آنا تمھاری اور سنبل کی اکھٹی شادی کریں گے -" وہ صرف مسکرا کر رہ گیا ۔ "بھئی شادی سے پہلے اس کیلئے نیا مکان تعمیر کرنا ہے -" ابا نے مسکراتے ہوئے کہا - " ہم اپنے بیٹے کی ڈولی ان پرانے مکانوں میں تھوڑی اتاریں گے " حالات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس نے بہتر سمجھا کہ پہلے سنبل کی رخصتی کر دی جائے بعد میں دیکھا جائے گا ۔خط میں ابا کو بتا دیا کہ کمپنی چھٹی نہیں دے رہی اس لئے سنبل کی شادی کر دیں ۔اس کی ایما پر ایسا ہی ہوا اور وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا مگر جہد مسلسل میں رہا۔ والدین کی خواہشوں کو منزل تک پہنچا دیا تھا اب سماج میں ناموری کیلئے مکان کی کچی اینٹوں کو بھٹے کی پختہ اینٹوں میں تبدیل کرنا تھا۔اس ساری تگ و دو میں جوانی کے 10 سال گرد بن کر اڑ گئے۔ بہنوں کی شادیوں کے بعد خانہ آبادی ہوئی تو پھر سے جی چاہا ہمیشہ کیلئے وطن سدھار جائے مگر وہ اس وادی کا قیدی تھا جسے لوگ جنت سمجھتے تھے۔بچے ہوئے تو احساس جاگا وہ ہنوز تہی دامن ہے۔ دامن بھرنے کی لگن میں20 برس گزر گئے مگر وہ خالی ہی رہا۔یہ بات درست تھی کہ سعودی عرب کی سر زمین میں رہ کر اس نے بہت کمایا اور سب کی خواہشوں کو پورا کیامگر خود کو بالکل تنہا تصور کرتا تھا ۔ اس لئے کہ جب بھی چھٹی لیکر پاکستان جاتا تو پہلا سوال ہی یہی پوچھا جاتا کہ واپسی کب ہے ۔

اس لمحے اس کا دل اداسی کی اتھا گہرایوں میںگر جاتا ۔ اس بار جب اس نے بیوی سے کہا کہ ریشم جی کرتا ہے اب سعودی عرب کو خدا حافط کہہ دوں ۔پاکستان میں اس اپنے شہر میں کچھ سیٹ اپ بنائوں۔" اس کی بات سن کر بیوی بولی۔" نہ قاسم یہ غلطی کبھی نہ کرنا ۔پاکستان میں کیا رکھا ہے اور پھر بچے جوان ہو رہے ہیں ماشااللہ ۔بیٹیاں قد نکالے کھڑی ہیں بیٹے بھی جوانی کی دھلیز پر دستک دے رہے ہیں ابھی ان کے گھر بسانے کی فکر کرنی ہے -

" وہ خاموشی سے چلا آیا اب رات کی تاریکی میں تیسرے فلور کی چارپائی پر لیٹے ہوئے اس نے سوچا میری ذات کے ساتھ جس نے جو بھی امیدیں وابستہ کی وہ اللہ کے کرم سے پوری ہوئیں مگراس کی سوچوں کو بریک لگ گئی ایک لمحہ اس نے نیچے جھانک کر دیکھا ۔اس کی چارپائی کے نیچے د2مزید چارپائیاں تھیں جن پر دن بھر کے تھکے ہوئے پر دیسی نیند کی آغوش میں سکون تلاش کر رہے تھے۔پھر اس نے اندھیرے میں نہ نظر آنے والی چھت کو گھورتے ہوئے خود سے سوال کیا۔پردیس کی 20 سالہ ریاضت کا اس کی ذات کوکیا ثمر ملا؟ غمزدہ آنکھوں سے آنسو کے 2 موٹے موٹے قطرے نکل کر سفید ہوتی ہوئی داڑھی میں جذب ہو گئے۔اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ مگر اگلا لمحہ اس کیلئے راحت آمیز ثابت ہوا جب ضمیر نے فیصلہ دیا کہ تو میری عدالت میں سرخرو ہے ۔اس نے مطمئن ہو کر آنکھیں موندی اور نیند کے سفر پر نکل گیا ۔

 

 محترم قارئین !

اردونیوز ویب سائٹ پر بیرون ملک مقیم پاکستانی،ہندوستانی اور بنگلہ دیشیوں کی کہانیوں کا سلسلہ شروع کیاگیا ہے۔اس کا مقصد بیرون ملک جاکر بسنے والے ہم وطنوں کے مسائل کے ساتھ ان کی اپنے ملک اور خاندان کیلئے قربانیوں کو اجاگر کرنا ہے۔،آپ اپنے تجربات ،حقائق،واقعات اور احساسات ہمیں بتائیں ،ہم دنیا کو بتائیں گے،ہم بتائیں گے کہ آپ نے کتنی قربانی دی ہے ۔اگر آپ یہ چاہتے ہیںکہ آپ کا نام شائع نہ ہو تو ہم نام تبدیل کردینگے،مگر آپ کی کہانی سچی ہونے چا ہیے۔

ہمیں اپنے پیغامات بھیجیں ۔۔اگر آپ کو اردو کمپوزنگ آتی ہے جس کے لئے ایم ایس ورڈ اور ان پیج سوفٹ ویئر پر کام کیاجاسکتا ہے کمپوز کرکے بھیجیں ،یا پھر ہاتھ سے لکھے کاغذ کو اسکین کرکے ہمیں اس دیئے گئے ای میل پر بھیج دیں جبکہ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ سے بذریعہ اسکائپ ،فیس بک (ویڈیو)،ایمو یا لائن پر بھی انٹرویو کرسکتے ہیں۔۔

 - -- ہم سے فون نمبر 0966122836200 ext: 3428پر بھی رابطہ کیاجاسکتا ہے۔آپ کی کہانی اردو نیوز کیلئے باعث افتخار ہوگی۔۔ ای میل:pardes.kahani@urdunews.com

1