تازہ ترین



سیکشن: فکاہیہ

’’کچھ کچھ‘‘

shadow

ملک میں متعدد انواع و اقسام کے یتیم جن میں معاشی یتیم،سماجی یتیم،خواندہ یتیم،جاہل یتیم،بیروزگار یتیم،وفادار یتیم،بیمار یتیم اور کچھ کچھ جیسے لوگ پائے جاتے ہیں

 

شہزاد اعظم

ہمارے محلے میں ایک ہم عمر تھا۔سبھی لوگ اس کے دوست تھے اور جو دوست نہیں تھے وہ اسے جانتے ضرور تھے۔اس کا نام ’’کچھ کچھ‘‘ تھا اور یہی اس کی وجہ شہرت بنا تھا۔ایک روز ہم نے اپنے دیگر دوستوں سے استفسار کیا کہ آخر اس اچھے بھلے انسان کا نام ’’کچھ کچھ‘‘ کس لئے ؟جواب ملا کہ اس کے کام ہی ایسے ہیںمثلاًنوکری کرتا ہے تو بھی جو ذمہ داریاں تفویض کی جاتی ہیں ان کے علاوہ بھی کچھ کچھ کرتا ہے۔اسی طرح کسی بھی موضوع پر بات کر یں تووہ اس موضو ع سے ہٹ کر کچھ کچھ کہتا ہے۔اسے کوئی بات سمجھانے کی کوشش کریں توسیدھی طرح بات سمجھنے کی بجائے کچھ کچھ سوچتا ہے۔ ایک مرتبہ ’’کچھ کچھ‘‘کومحلے کی ایک دکان پر سیلز مین کی نوکری ملی۔بڑا خوش ہوا اور نوکری کے حوالے سے کچھ کچھ سوچنا شروع کر دیا۔ روزانہ دکان سے سو دو سو روپے نکالتا اور خاموشی سے جیب میں رکھ کر گھر لے آتا۔دوستوں نے منع کیا مگر اس نے ایک نہ سنی اور دکان کا ’’خزانہ‘‘ خالی کر دیا۔دکان کے مالک نے اسے نوکری سے نکال دیا۔

اس نے اپنے محلے بھر کے دوستوں کی منت سماجت کی کہ کسی نہ کسی طرح دکاندار کو منا لیا جائے کہ وہ اسے دوبارہ ملازمت دیدے ۔محلے والوںنے دکاندار پردباؤ ڈالا مگر اس نے ایک نہ سنی۔ ’’کچھ کچھ‘‘ نے محلے میں رہنے والے بدنام زمانہ ڈاکو کی ’’خدمات‘‘حاصل کیں۔اس نے دکاندارکو دھمکی دی کہ اگر اس نے ’’کچھ کچھ‘‘کو ملازمت نہ دی تو وہ خود اس کی دکان پر ڈاکہ ڈالے گا اور نہ صرف نقدی کا صفایا کر جائے گا بلکہ تمام اشیائے خورونوش اور استعمال کی دیگر چیزیں اٹھا کر لے جائے گا۔اس ’’موثر‘‘دباؤکے باعث مجبور ہو کر اس دکاندار نے ’’کچھ کچھ‘‘ کو دوبارہ نوکری دینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ ’’کچھ کچھ‘‘کو پتہ چلا تو دل ہی دل میں خوش ہوا کہ ایک مرتبہ پھر دکان کے خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع ملے گا۔اس خوشی کے ساتھ ہی اس نے کچھ کچھ سوچنا شروع کر دیااور دکان پر ملازمت شروع کرنے سے قبل تمام محلے والوں اور دکاندار سے کہا کہ اب میں اس دکان پر’’ احتجاجاً‘‘ نوکری کروں گا۔اس کی یہ انتہائی پیچیدہ بات تمام افراد نہ سمجھ سکے بلکہ ’’کچھ کچھ‘‘لوگوں کی ہی سمجھ میں آ سکی۔ عرصۂ دراز گزر گیا، ’’کچھ کچھ‘‘سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہواپھرکچھ عرصے قبل ایک روز صبح ہی صبح ہمارے نئے موبائل فون کی چنگھاڑنما گھنٹی بجی جس کے انجانے خوف سے ہم ہڑبڑا کر اٹھے اور فون کا بٹن دبا کر ہیلو کہا۔دوسری جانب سے آواز آئی،السلام علیکم،پہچانے مجھے،میں ’’کچھ کچھ‘‘بول رہا ہوں۔ اس کا نام سنتے ہی ہم پر طاری نیند کا غلبہ کافور ہو گیا۔وہ یوں گویا ہوا: ’’مبارک ہو!ملک کی نامی گرامی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ،دوراندیش سیاسی شخصیت نے بھی آج سیاسی بیان میں میرا جملہ دہرایا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم انتخابات میں ’’احتجاجاً‘‘حصہ لیں گے۔دوسری جانب وہ لوگ ہیںجو دوراندیشی سے کام ہی نہیں لیتے۔وہ انتخابات کے بائیکاٹ کی باتیں کر رہے ہیں۔

دوسرا بیان اس شخصیت کا یہ ہے کہ سیاسی یتیموں کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے۔یہ دونوں بیانات ملک اور قوم کی تاریخ میں ’’سنہری حروف‘‘سے لکھنے کے لائق ہیں۔اگر آپ جیسے تنگ نظرنے ان بیانات کو سنہری حروف سے نہ لکھا تو’’وسیع النظر‘‘غیر ملکی حسب سابق ہماری قومی تاریخ رقم کرتے ہوئے یہ ’’حق‘‘ادا کردیں گے۔دوسری بات یہ کہ اس سیاسی رہنما نے واضح کر دیا ہے کہ سیاسی یتیموں کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے۔ان کا یہ بیان بھی انتہائی قابل قدر ہے جسے فہیم و فطین ہی سمجھ سکتے ہیں۔آپ جیسے لوگوں کو یہ بات اچنبھا لگے گی۔سچ یہ ہے کہ ملک میں متعدد انواع و اقسام کے یتیم پائے جاتے ہیں جن میں معاشی یتیم،سماجی یتیم،خواندہ یتیم،جاہل یتیم،بیروزگار یتیم،وفادار یتیم،بیمار یتیم اور یتیم یتیم۔ویسے ماضی میں آپ کو میری بات شاید سمجھ نہ آئی ہولیکن آج تو آپ پر یہ عقدہ کھل گیا ہو گا کہ ’’کچھ کچھ‘‘ کی سوچ کتنی بلند ہے۔اس بلندی پر صرف میں ہی محو پرواز نہیں بلکہ میرے ساتھ ’’عظیم سیاسی شخصیت‘‘بھی سوچ کی انہی بلندیوں پر ہے ،اللہ حافظ‘‘۔ ہم نے اخبار اٹھا کر اس ’’عظیم سیاسی شخصیت‘‘کے دونوں ہی بیانات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔یقین نہیں آ رہا تھا۔بیانات پڑھ کر دل کی کیفیت عجیب سی ہوگئی۔ہمیں خیال آیا کہ پہلے صرف ہمارے محلے میں ایک ’’کچھ کچھ‘‘تھا۔ پھر اکثر محلوں میں ’’کچھ کچھ‘‘پائے جانے لگے۔پھر اس ’’وبا‘‘نے شہروں اور قصبات کو بھی لپیٹ میں لے لیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ بعض ’’نامی گرامی اور اہم شخصیات‘‘بھی’’کچھ کچھ‘‘کے نقش قدم پر چل نکلی ہیں۔بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ ہمیںاپنے ملک اور رہنماؤں کے اقوال و اعمال دیکھ کر مایوسی اور ناامیدی کے باعث’’کچھ کچھ‘‘ہونے لگتا ہے۔

1