تازہ ترین



سیکشن: دھنک

صرف دل

shadow

’’عورت وہ ہستی ہے جو اپنی محبت، وفا، فرمانبرداری، انسیت، خدمت، ایثار، قربانی، نرمی، شفقت اور اپنائیت جیسی صفات کو یکجاء کر کے خاندان کو اک بند مٹھی کی طرح متحد رکھتی ہے

 

شہزاد اعظم

انسان کی زندگی لمحات کا ضخیم مجموعہ ہے، کوئی لمحہ کامیابی سے معمور ہوتا ہے تو کوئی ناکامی سے، کوئی خوشی سے بھرپور ہوتا ہے تو کوئی تردد سے، کوئی لمحہ یاد گار ہوتا ہے تو کوئی بے کار، کوئی لمحہ کارآمد ہو جاتا ہے اور کوئی ناکارہ۔ چند یادگار لمحے ایسے ہیں جو ہرعام انسان کی زندگی میں ضرور آتے ہیں۔ ان میں ایک لمحہ وہ ہوتا ہے جب انسان بچہ ہوتے ہوئے پہلا قدم اٹھاتا ہے، ایک وہ لمحہ ہوتا ہے جو پاکستان میں ہر کسی کے نہیں بلکہ چند فیصد انسانوں کے نصیب میں ہی ہوتا ہے اور وہ لمحہ ہے اسکول میں قدم رکھنے کا۔

انسان کی زندگی میں بعض لمحے فیصلہ کُن ہوتے ہیں جن میںکسی کو شراکتِ حیات عطا کرنے کے لئے نکاح کے دوران ’’قبول ہے‘‘ کہنااور اسی تناظر میں دستخط کرنا شامل ہے۔ عام طور پر خواتین کی زندگی میں یہ موقع اوسطاً ایک مرتبہ ہی آتا ہے تاہم مردوں کی زندگی میں گاہے ایک اور گاہے ایک سے زائد مرتبہ بھی آجاتاہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ مرد عموماً پہلی مرتبہ ’’جی ہاں مجھے قبول ہے‘‘ ببانگِ دہل کہتے ہیں اور اعزہ کا مجمع اکٹھا کر کے علانیہ کہتے ہیں جبکہ دوسری یا تیسری مرتبہ ’’قبول ہے‘‘ کہنے کے لئے صرف ناگزیر تعداد میں گواہان اکٹھے کرتے ہیں اور اپنی اس ’’حیاتیاتی شرکت‘‘ کو قدرے ڈھکا چھپا رکھتے ہیں۔

کسی بھی پاکستانی خاتون کی زندگی میںوہ لمحہ شاید سب سے اہم ترین شمار ہوتا ہے جب وہ نکاح کی دستاویزات پر دستخط فرماتی ہے کیونکہ اس کے بعد وہ خود اپنی نہیں رہتی بلکہ کسی کی ہوجاتی ہے۔اس کا گھر بھی بدل جاتا ہے، میکا جو اس کا اپنا ہوتا ہے ، اب اس کے لئے پرایا قرار دیدیا جاتا ہے اورسسرال جو پرایا ہوتا ہے، اسے اس کے لئے اپنا قرار دے دیاجاتا ہے۔

ہمارے ہاں عورت کے نام کے جزوِ ثانی کو ہٹا کراس کی جگہ شوہر کا نام تھوپ دیا جاتا ہے جو اسے اس احساس میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اب وہ حقیقت میں وہ نہیں رہی جو تھی بلکہ اب وہ ہو گئی ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی۔ کاش ہمارے ملکوں کے معاشروں میں عورت کو وہ مقام دیدیاجائے جس کی وہ حقدار ہے کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ:

’’عورت وہ ہستی ہے جو اپنی محبت، وفا، فرمانبرداری، انسیت، خدمت، ایثار، قربانی، نرمی، شفقت اور اپنائیت جیسی صفات کو یکجاء کر کے خاندان کو اک بند مٹھی کی طرح متحد رکھتی ہے۔وہ اپنا آپ فنا کر کے اپنوں کی زندگی میں خوشیاں بھر دیتی ہے۔وہ خواہ ماں ہو، بہن ہو، بیٹی ہو، بیوی ہو یا بہو، اس کی جگہ صرف اور صرف دل ہے ۔‘‘

1