تازہ ترین



سیکشن: دھنک

اہلیہ، بیگم،بیوی اور جورو

shadow

ہمارے معاشرے میں تمام شادی شدہ خواتین ایک ہی قسم میں شمار نہیں کی جا سکتیں بلکہ ان کی 4واضح اقسام ہیں جو اہلیہ، بیگم، بیوی اور جورو کہلاتی ہیں

 

شہزاد اعظم ۔ جدہ

ہمارے معاشرے میںخواتین کے لئے 4کا ہندسہ خاصا گمبھیر ثابت ہوتا ہے۔جب کسی خاتون کی شادی ہوتی ہے تو اسے چار تقریبات کے پرشور مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جن میں مایوں، مہندی، شادی اور ولیمہ شامل ہیں۔ دلہن بن کر جب کوئی خاتون اپنے شوہر کے گھر پہنچتی ہے تو اسے ’’چوتھی‘‘ کے بہانے سسرال سے میکے کا دورہ کرایا جاتا ہے۔ سسرال میں اسے 4’’خونخوار‘‘قسم کے رشتوں یعنی ساس،نند،دیورانی اور جٹھانی سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ان سے اٹھتے بیٹھتے یہی سننا پڑتا ہے کہ’’ہرنئی نویلی دلہن کے چونچلے4دن کے ہوتے ہیں پھر تمام خواب چوپٹ ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح 4 معززناتے ، دلہن سے ہمدردی جتاتے اور گاہے بگاہے اس کی تعریف و توصیف کرتے نظر آتے ہیں۔دلہن کو ان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان میں دیور، جیٹھ،نندوئی اور سسر شامل ہیں۔سسر کے سوا ان رشتوں میں سبھی نامحرم ہوتے ہیں۔ عموماً ہر دلہن کوشادی کے بعد اپنے شوہر کی 4بیویوں کا دھڑکا پریشان کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ دھڑکا کبھی شادی کے4د ن کے بعد،کبھی 4ہفتے،کبھی4ماہ اور گاہے 4سال گزرنے کے بعداس طرح نمودار ہوتا ہے جیسے لیلے کے پاس چھری رکھ دی گئی ہو۔اس ’’چھری‘‘کی نموداری میں چار دن، چارہفتے، چارمہینے یا 4سال کی مدت کا دارومدار ’’برائڈل کوالیٹیز‘‘یعنی دلہن کے اوصاف پر ہوتا ہے۔اگر برائڈل کوالیٹیز،شوہری معیار کے مطابق ہوں تو 4شادیوں کا دھڑکا 4برس بعد جڑ پکڑتا ہے۔

یہ اوصاف معیار سے کم ہوں تو 4ماہ بعد، اگر اوصاف اوسط درجے سے بھی کم ہوں تو 4ہفتے بعد اور اگر شوہر پر یہ حقیقت کھل جائے کہ ’’برائڈل کوالیٹیز‘‘کسی بیوٹی پارلر کی صناعی کا باعث تھیں تو یہ دھڑکا چوتھے روز ہی دلہن کو گھیرنا شروع کر دیتا ہے۔ شادی کے بعد وقت بخیروعافیت گزرتا رہے تو عورت کو 4جانب توجہ مبذول کرنی پڑتی ہے۔

ان اکناف میں سسرال، میکا، شوہر اور بچے شامل ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر کسی خاتون کے ہاں پہلے 3بیٹیاں ہو گئیں تو چوتھا بیٹا ہو سکتا ہے اسی طرح اگر پہلے 3بیٹے ہوں تو چوتھی بیٹی ہو سکتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں تمام شادی شدہ خواتین ایک ہی قسم میں شمار نہیں کی جا سکتیں بلکہ ان کی 4واضح اقسام ہیں جو اہلیہ، بیگم، بیوی اور جورو کہلاتی ہیں۔

٭اہلیہ، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ کسی نہ کسی ’’اہل‘‘کی شریک زندگی بنتی ہیں اسی لئے ’’اہلیہ‘‘کہلاتی ہیں۔ان کے شوہر ’’بااختیار‘‘ہوتے ہیں ۔اس کے باوجود اہلیہ پر ان کا اختیار نہیں چلتا بلکہ شوہر صاحب ہر ایرے غیرے کے خلاف اختیارات استعمال کرتے ہیں اور اہلیہ کے محکوم ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اہلیہ میں سب اہلیت پائی جاتی ہے۔

اگر کوئی بات اس کی منشا کے خلاف ہو تو وہ شوہر کو ’’دھمکی‘‘ بھی دے سکتی ہے اور شوہر پھر بھی ’’گز‘‘نہ ہو تو دھمکی پر عمل کرتے ہوئے شوہر سے مستقل علیحدگی اختیار کر لیتی ہے ۔گھر کا سارا مال و اسباب واپس کرنا پڑ جاتا ہے اور شوہر کے لئے صرف پچھتاوا باقی بچتا ہے۔وہ شوہر کو ’’سبق‘‘سکھانے میں ذرا بھی پس و پیش نہیں کرتیں کیونکہ ان کے ارد گرد لا تعداد ’’اہل‘‘پائے جاتے ہیں ۔اس لئے انہیں اپنی نئی دنیا آباد کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔اسی لئے ’’اہلیہ‘‘کے ’’اہل‘‘نجی معاملات میں اپنا ہاتھ ’’ذرا ھولا‘‘ ہی رکھتے ہیں۔ہمارے ہاں اہلیان کی تعداد کم مگر بے انتہاء موثر ہے۔

٭بیگم قسم کی شریک زندگی ، اہلیہ سے ذرا کمتر درجے کی ہوتی ہے۔ان کے شوہر،’’نامدار‘‘قسم کے ہوتے ہیں جو عموماًافسرانہ ٹھاٹ باٹ کے حامل ہوتے ہیں۔تجربہ کار لوگوں کا کہنا ہے کہ بیگم میں ’’گم‘‘ کا لفظ انگریزی سے لیا گیا ہے جس کا مطلب گوند ہے یعنی GUM۔ یوں بے گم سے مرادایسی شریک سفر ہے جو شوہر نامدار کی زندگی سے گوند کی طرح چپکنے کی عادی نہیں ہوتی بلکہ شوہر اچھا تو بیگم بھی اچھی اور اگر شوہر ٹیڑھا تو بیگم اس سے 2ہاتھ آگے۔

قبل اس کے کہ شوہر اس سے گلو خلاصی کی کوشش کرے، وہ خود ہی ککڑی کے دو کر دیتی ہے اور شوہر کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ کر اپنی نئی دنیا آباد کر لیتی ہے۔ہمارے ملک میں بیگمات کی تعداد اہلیان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

٭بیوی قسم کی شریک حیات ہمارے ہاں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ان کے شوہر نہ تو بااختیار ہوتے ہیں نہ نامدار بلکہ یہ وضعدار ہوتے ہیں۔گاہے یہ کسی اہل ہوتے ہیں اور گاہے کوئی اہلیت نہیں رکھتے۔بعض گھاگ لوگوں کا کہنا ہے کہ بیوی بھی انگریزی کے دو لفظوں’’BE WE‘‘کا مجموعہ ہے۔بیوی کالفظ دراصل عورت کی جانب سے شوہر کے لئے ایک پیغام ہے کہ اب تم، تم یا میں صرف میں نہیں رہے بلکہ ’’ہم‘‘ہو چکے ہیںاور اگر نہیں ہوئے تو’’BE WE‘‘ یعنی’’ہم، ہوجاؤ‘‘۔بیوی قسم کی شریک حیات، ہر قسم کے حالات میں شوہر کا ساتھ دیتی ہے۔شوہر کا غصہ، بے جا ضد اور دماغی خناس بھی برداشت کر لیتی ہے مگر وہ گھر ٹوٹنے سے بچانے کی عادی ہوتی ہے۔

اسی لئے شوہر کے تمام تلخ خصائل کے باوجود نباہ کر لیتی ہے۔اگر اس کا شوہر اسے مارنے پیٹنے لگے اور اس پر مظالم ڈھانے لگے تو وہ اس سے علیحدگی کے لئے قانون تک کی مدد طلب کرتی ہے۔علیحدگی کا پروانہ ہاتھ آجانے کے بعد بھی وہ خوش نہیں رہتیں بلکہ’’کاش‘‘کے زیرعنوان طویل سوچ بچار ان کی زندگی کا محبوب مشغلہ بن جاتی ہے۔وہ اپنے ماضی کی دنیا میں مگن رہ کر ہی اپنی زندگی کے دن کاٹنے کی کوشش کرتی ہیں۔ان کے گھر والے اگر زبردستی کرکے ان کی نئی دنیا آباد کردیں تو بات دوسری ہے مگر وہ خود ایسا کرنے کانہیں سوچتیں۔

٭جورو قسم کی شریک حیات ناخواندہ اور غیر شہری ماحول میں پائی جاتی ہیں۔اس قسم کی وجہ تسمیہ خود بولتی ہے یعنی ظلم و ستم اور جور و جفا سہنے والی، جورو۔ ان کے شوہر نامدار ہوتے ہیں نہ وضعدار بلکہ عموماً’’بے کار‘‘ہوتے ہیں۔وہ اپنی جہالت کو ’’طرہ امتیاز‘‘سمجھتے ہیں۔اپنی شریک سفر کے ساتھ دل چاہے تو اچھی طرح بات کر لیتے ہیں اور دل نہ چاہے تو جانوروں سے بدتر سلوک کرتے ہیں۔جورو کی ’’لغت‘‘ میں شوہر سے علیحدگی کا لفظ ہی نہیں پایا جاتا۔اسی لئے وہ شوہر کے نخرے اٹھاتے، جور و ظلم سہتے اور اپنی ہستی کو پامال کرتے کرتے دنیا سے چلی جاتی ہے۔

وہ اپنے شوہر کے حکم کو بجا لانا مقصد حیات گردانتی ہے۔یہاں تک کہ اس کا خاوند اگر اس سے بھیک منگوائے تو وہ بھکارن بن جاتی ہے۔لوگوں کے گھروں میں برتن دھلوانے کے کام پر لگا دے تو ہنسی خوشی اس کام میں جت جاتی ہے۔شوہر سوکن لے آئے تو اس کی خدمت کرتی ہے مگر کسی ’’نئی دنیا‘‘کے بارے میں نہیں سوچتی کیونکہ یہ اس کی سرشت میں شامل ہی نہیں ہوتا۔’’ترقیٔ نسواں‘‘کے’’ صداکار‘‘ اس قسم کے خیالات کو’’جہالت‘‘کا باعث قرار دیتے ہیں۔شایدعورت کی ایسی ’’جہالت ‘‘ہی بطور شوہر ،ہر مرد کی ازلی خواہش ہوتی ہے۔

1