تازہ ترین



سیکشن: فکاہیہ

وارداتوں کی سرکاری اجازت نہ ملنے پرشر پسند پریشان

shadow

ملاوٹ کر کے عوام کی جان و مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی

 

محمد قمر اعظم۔ جدہ

ہمارے معاشرے میں جب کوئی واقعہ یا سانحہ ہوتا ہے تو صاحبان اختیار واقتدار کی جانب سے ایک زوردار بیان آجاتا ہے کہ ’’شرپسندوں کومعصوم ا نسانی جانوں سے کھیلنے کی مزید اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ نیز یہ کہ دہشتگردوں سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جائے گا۔‘‘

اس بیان سے ہمارے جیسے جاہل اور بے وقوف لوگوں کو خواہ مخواہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ یقینا دہشت گردوں یا شرپسندوں کاکوئی نہ کوئی سردار ہمارے صاحبانِ اختیار کے پاس پہنچا ہو گا اور اس نے ہاتھ جوڑ کر ،پائوں پکڑ کر درخواست کی ہو گی کہ ’’جنابِ والا، مائی باپ ! ہمیں دہشت گردی کرنے دیجئے کیونکہ شر پسندی کے بغیر توہماری زندگی بالکل ادھوری ہے۔ برائے مہربانی ہمیں کھُل کھیلنے کی اجازت دے دیں تاکہ ہم اپنا کام شروع کرسکیں۔‘‘

اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یوں ہوتا ہوگا کہ ڈان ٹائپ انڈر گرائونڈ باس اقتدار کے ایوانوں میںپہنچ کرگھٹنے ٹیکتا ہو گا اور اپنے نو عمر کارکن کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہو گاکہ ’’سر !یہ لڑکا ہمارے گینگ میں آج ہی شامل ہوا ہے ۔براہ کرم اسے دہشت گردی کی اجازت دے دیں۔ دیکھئے سر بچے کی پہلی پہلی خوشی ہے، انکار کرکے اس کا دل مت توڑیئے گا ، بس اب اجازت دے ہی دیں‘‘۔ یہ سن کر ہمارے ’’صاحب‘‘ اکڑ کر کہتے ہونگے کہ نہیں کسی قسم کی دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور شرپسند دُکھی ہو کر ہاتھ باندھ کر، اپنے ارمانوں کا گلا گھونٹ کر ایک کونے میں بیٹھ جاتے ہو نگے اور عوام چین کی بنسی بجاتے ہونگے مگر نہیں صاحب ! عوام کو تو کسی بھی صورت چین نہیں۔ ہمارے کرم فرمائوں کی جانب سے اتنے سخت انتباہ کے باوجود عوام کو شکایت ہے کہ حکومت امن و امان کے لئے سنجیدہ نہیں ۔

خیر! ہمارے ذہن میں بھی چند اہم اجازت ناموں کا خیال آیا جو اگر حکومت کی جانب سے جاری کر دیئے جاتے تو ہر طرف افراتفری پھیل جاتی ۔ حکومت نے ان عناصر کو اجازت نہ دے کر ملک کو ایک بہت بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔ عوام کی ناقص یادداشت کو تازہ کرنے کے لئے ہم پھر سے دہرارہے ہیں مگر آئندہ عوام بھی یاد رکھیں کہ اُنہیں صاحبان اختیار کے ان اقدامات کو بھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،تو جناب سنئے: ہمارے کرم فرما کتنی ہی بار اس اذیت سے گزرے ہونگے اور ان کی نازک زبان پر کس قدر خراشیں پڑ جاتی ہوں گی جب وہ ملک دشمن عناصر کوکسی بھی قسم کی شر پسندی کی اجازت نہ دینے کا اعلان کرتے ہونگے مثلاً گراں فروشی کی اجازت نہیں دی جائیگی ، ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دی جائیگی، رشوت خوری اور اقرباء پروری کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ملاوٹ کر کے عوام کی جان و مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔کرپشن اور چور بازاری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تعلیم کو تجارت بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، وغیرہ وغیرہ۔ کیسا ماحول بپا ہوا ہوگا، ذرا تصور فرمائیے کہ اِدھر حکومت نے اجازت دینے سے انکار کیا اور اُدھر شرپسند عناصر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے کہ اُف ، بھلا اب ہم کیا کریں ۔ حکومت نے تو اجازت ہی نہیں دی ، یہ کہتے ہوئے تمام شرپسندوں نے اپنے ہاتھ میںلیا ہوا قانون فوراًمیز پر رکھ دیا ۔ان شرپسندوں کی ہوائیاں اُڑ رہی ہیںاور وہ ایک دوسرے سے گلے مل مل کر رو رہے ہیں کہ اب ہمارا ٹھکانہ کہاں ہوگا۔

اب ہمیں زندہ رہنے کے لئے کوئی دوسرا کام شروع کرنا ہوگابلکہ کچھ شرپسندوں نے تونئے کام کی ابتدا بھی کر دی ہے مثلاً ایک گراں فروش نے قصاب کا کام شروع کر دیا اور اب وہ عوام کی بجائے جانوروں کی کھالیں اُتار کر اپنا شوق پورا کرنے میں مگن ہے ۔ ایک جیب کترے نے درزی کا پیشہ اختیار کرکے اپنے قلب کی تسکین کا سامان کر لیا ہے ۔اب جب وہ اپنے گاہک کی قمیص کی جیب کاٹتا ہے تو اس کی جبلت کو قرار آتا ہے۔ دہشت گرد بھی اپنے ’’مشاغل‘‘ ترک کرکے اس کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا کہ تم گاہک کی قمیص کی جیبیں کاٹو، ہم گلے کاٹتے ہیں۔ کرپشن کرنے والے بچت اور انعامی اسکیموں میں شامل ہو گئے ہیںتاکہ اس طریقے سے فطری سکون حاصل کر سکیں۔ جناب ہر طرف امن و امان اور سُکھ چین کا دور دورہ ہے مگر یہ عوام، ان کو تو ہر وقت حکمرانوں کی شکایت کا دورہ پڑا رہتا ہے۔ اگر عوام سے دریافت کریں تو فوری جواب ملتا ہے کہ یہاں تو گیس ، بجلی ہر شے کی لوڈ شیڈنگ ہے۔ اب دیکھئے کیسی عجیب بات ہے کہ جب سارے مسئلے حل ہو گئے تو لوڈ شیڈنگ پر تنقید کی جارہی ہے یعنی ہر وقت کسی نہ کسی فضول اور بے کار مسئلے میں حکومت کو اُلجھائے رکھنا ضروری ہے ۔ ارے ان نا سمجھ لوگوں کو کون سمجھائے کہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتیں، بڑے لوگوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوا کرتیں۔ بڑے لوگ بڑی بات سوچتے ہیں اسقدر چھوٹے مسئلوں پر دھیان دینا ان کی توہین ہے۔ آخر عوام عوام ہی ہیں ، کر دی نہ چھوٹی بات۔ ایک سابقہ وزیر ایک فرم میں انٹرویو کے لئے گیا۔ ان سے پُرانی دوستی کی بناء پر ڈائریکٹر نے ان کا انتخاب کر لیا اور فرمایا ’’آپ کو پتا ہے یہ بڑی ذمہ داری کا شعبہ ہے ‘‘۔سابق وزیر با تدبیر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ آپ فکر نہ کریں، میں بہت ہی ذمہ دار شخص ہوں۔ جب میں وزیر تھا تو میری وزارت میں جو بھی گڑبڑ ہوتی تھی، اس کاذمہ دار لوگ مجھے ہی ٹھہراتے تھے۔ہم تو ایک ہی بات سمجھتے ہیں کہ ایسے عوام کو جو کسی طور خوش نہیں ہو سکتے، انہیں ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی سزا ضرور ملنی چاہئے۔انہیں انتباہ کر دینا چاہئے کہ عوام کو خواص پر تنقید کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

1