تازہ ترین



سیکشن: دھنک

بچوں کابیباک دوست ،موبائل فون

shadow

آج کے بچے میں بچہ بچاہی نہیں،انہوں نے ا نٹرنیٹ کو ’’کرتا دھرتا‘‘ مان لیا ،موبائل فون بچو ں کا ہم جولی اور بے باک دوست بن گیا

 

تسنیم امجد ۔ ریاض

دور حاضر والدین سے تربیت کے انداز میں تبدیلی کا متقاضی ہے۔ ابا کا بات بات پر چلانا کہ ’’ہمارے وقتوں میں یوں ہوتا تھا اور ہم یوں کرتے تھے‘‘ اس کی اب گنجائش نہیں رہی۔ بچوںمیں آجکل جو تبدیلی نظر آرہی ہے اس پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے ، قلمکار اپنے اپنے تئیں نت نئے فارمولوں سے والدین کو آگاہ کررہے ہیں۔ آج بچوں پر والدین کا قہر و طیش اور نکتہ چینی بے سود ہے، ان کے ساتھ دوستانہ رویہ ناگزیر ہے۔ میڈیا نے بچوں کونڈر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

بچوں کو موبائل فون ایک ایسا دوست اور بے باک ہم جولی دکھائی دیتا ہے جو صرف ایک کلک سے ان کی بات مان لیتا ہے، اس طرح اب انہیں والدین کی محبت و شفقت کی خواہش رہی اور نہ ہی دیگر افراد خانہ کی توجہ درکار ہے۔ آج والدین کے پاس اولاد کے لئے وقت نہیں۔ حال ہی میں ہماری ایک عزیزہ سے ملاقات ہوئی جس کی ملازمت کے اوقات صبح 7بجے سے شام 6بجے تک تک ہیں ۔ ایک گھنٹے کی بریک گھر آنے جانے کیلئے ناکافی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں بچوں کی پسند کا ناشتہ ،اسکول لنچ اور پھر دوپہر کا کھانا تیار کرکے آفس جاتی ہوں۔ واپس آتے ہی بچوں کے ہوم ورک کے ساتھ ساتھ رات کے کھانے کی تیاری اور گھر کی دیکھ بھال بے حال کردیتی ہے ۔ میری دونوں بیٹیوں کو جو 7ویں اور8ویں گریڈ میں ہیں، مجھ سے بہت سی شکایتیں ہیں۔

وہ میری ہر بات کا جواب چڑ کر دیتی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دونوںاسکول میں ’’یوم والدین‘‘ کی اطلاع بھی مجھے نہیں دی۔میں نے جب ان سے سبب دریافت کیا تو دونوں نے پہلے تو گستاخی سے کہا کہ آپ کے پاس دوسروں کے بچوں کیلئے وقت کہاں سے آگیا؟ آنٹی آپ ناراض نہ ہوں ، ہمارے والدین خصوصاً ماما کے پاس ہمارے لئے کوئی وقت بالکل نہیں۔ کیا محض کھانا کھلانا اور ضروریات پوری کرناہی ان کے فرائض میں شامل ہے؟ ہمیں اپنے بہت سے معاملات میں ان کی رہنمائی چاہئے۔ اب تو ہم نے ا نٹرنیٹ کو ہی اپنا ’’کرتا دھرتا‘‘ مان لیا ہے۔ کم از کم اس کے پاس ہمارے لئے وقت تو ہے ۔ ہمیں ان کی دی ہوئی آسائشیں نہیں چاہئیں۔ محبت سے اپنے بازوؤں میں سمیٹ کر ہم سے ہماری دن بھر کی نہ سہی، ہفتہ بھر کی روداد ہی سن لیں۔ آجکل اکثر بالغ بچے بھی والدین سے بحث برائے بحث کا وتیرہ اپنائے ہوئے ہیں۔ والدین کے مابین کبھی تلخی ہوجائے تو وہ کبھی ماں اور کبھی باپ کو کھری کھری سنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔گویا وہ بھی ایک فریق ہیں۔ ایک باپ کا کہنا ہے کہ میں ہونقوں کی طرح اپنے بیٹے کواس وقت تکتارہ گیا جب اس نے مجھے سختی سے کہا کہ ’’بابا‘‘ میں ماں کو لیکر الگ ہوجاؤں گا اگر آپ نے انہیں کچھ کہا۔جبکہ ہم میاں بیوی کے درمیان ایسے ہی کچھ بحث ہورہی تھی، لڑائی وڑائی بالکل نہیں تھی۔

آج والدین اور اولاد کے درمیان رعب و ڈانٹ ڈپٹ کا دور نہیں رہا۔ یہ سب ان کی خودداری کو متاثر کرتا ہے۔ اکثر کم تعلیم یافتہ اور بھولے بھالے والدین دور جدید کے تقاضوںپر پورے نہیں اتررہے لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں کہ وہ اپنے آپ کو اولاد کی سوچ اور ان کی ذہنی سطح تک لے آئیں۔ میڈیا اور ٹیکنالوجی کی یلغار نے اولاد کو والدین سے زیادہ باشعور کردیا ہے۔ آج کے بچے میں بچہ بچاہی نہیں ۔ میڈیا اور ٹیکنالوجی نے انہیں وہ تعلیم دی ہے کہ انہیں ترکی بہ ترکی جواب دینا آگیا ہے ۔

اولاد کی فطری خواہشات کا احترام دوستوں کی طرح کرنا چاہئے اس طرح انہیں بھی جواباً فرمانبرداری آئے گی۔ یقین کیجئے سن بلوغت سے پہلے ہی بچوں کو معاشرتی عادات و اقدار کا درس ازبر کرانے سے بہت خوب نتائج سامنے آتے ہیں۔ بچوں کی سیر و تفریح کا باقاعدہ انتظام ہونا ضروری ہے ، اس طرح انہیں اپنی اہمیت کا احساس ہوگا اور وہ ٹیکنالوجی پربے جا وقت ضائع نہیں کریں گے ۔ بچوں کا شعوری دائرہ زیادہ وسیع نہیںہوتا، اس لئے انہیں ایک ساتھ ڈھیر ساری نصیحتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ والدین کو اپنی مصروفیات کا دائرہ بے ا نتہاء نہیں پھیلانا چاہئے کیونکہ فیملی ایک ورثہ ہے جس کی حفاظت بھی اولین ذمہ داری ہے ۔

1