تازہ ترین



سیکشن: اسپورٹس پلس

ڈے نائٹ ٹیسٹ : اعصاب کی آزمائش میں پاکستان

shadow
 
اسد شفیق کی سنچری اور آخری نمبروں بیٹنگ کرنے والے محمد عامر ، یاسر شاہ اوروہاب ریاض نے کہ ” میچ کا فیصلہ چوتھے روز سے پہلے ہی ہوجائے گا “ کی آسٹریلوی کیورئٹر کی پیش گوئی بھی غلط ثابت کر دی
 
 جمیل سراج ۔کراچی 
 
  برزبن ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کا فیصلہ اگرچہ آسٹریلیا کے حق میں ہوا لیکن اعصاب کی آزمائش میں اصل فتح پاکستان کی ہوئی جس میں قومی کھلاڑیوںکی عمدہ بیٹنگ مزاحمت کے باعث میچ میزبان ٹیم کے ہاتھوں سے نکلنے کے قریب تر ہوگیا تھا۔ اسد شفیق اور یاسر شاہ کینگرو بولرز کے سامنے گویا چٹان کی طرح ڈٹ گئے تاہم جب دو چار لب بام رہ گئے تو ان کھلاڑیوں کے اعصاب شل اور ہمت جواب دے گئی ، 490 رنز کے مشکل ہدف کے تعاقب میںپاکستان نے 450 رنز بنا لئے جس کا حریف کپتان اسٹیو اسمتھ نے سوچا بھی نہیں ہوگا یہی وجہ تھی کہ جب ان کی شکست صرف 41 رنز کی دوری پر تھی تو ان کے قائد سمیت پوری ٹیم کے اوسان خطا ہوتے ہوئے دکھائی دیئے۔مایوسی ان کے چہروں پر نمایاں ہونے کوتھی۔ پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا گیا ۔ اظہر علی یونس خان کی نصف سنچریوں کے علاوہ اسد شفیق کی سنچری (137رنز)جبکہ آخری نمبروں کے کھلاڑیوں محمد عامر 48 ، یاسر شاہ 33 وہاب ریاض 30 اورسرفرازاحمد کے 24 رنز کی بدولت آسٹریلوی کیورئٹر کی ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل وہ پیش گوئی کہ ” میچ کا فیصلہ چوتھے روز سے پہلے ہی ہوجائے گا “غلط ثابت ہوگیا ۔
چوتھے دن کے کھیل کے اختتام پر میچ دلچسپ پوزیشن میں آچکا تھا۔ اس پر ماہرین یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ مہمان بلے بازوں کی عمدہ کوشش ، آسٹریلین کپتان اسٹیو اسمتھ کے ڈکلیئریشن کے فیصلے کوکہیں غلط نہ کردے، میچ کے پانچویں روز کے پہلے سیشن میں اسد و یاسر کی شاندار اور دلیرانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے میچ پر 85 فیصد گرفت حاصل کرلی تھی جس پر لگ یہی رہا تھا کہ اسمتھ کا فیصلہ واقعی غلط ہوجائے گا جس کا خمیازہ انہیں شکست کی صورت میں بھگتنا پڑے گا، تاہم آخری 2 وکٹیں مجموعی اسکور کو 450 تک پہنچانے میں کامیاب ہوئیں، نویں وکٹ کی شراکت میں کوئی 71 رنز کا اضافہ ہوا ، پاکستان جسے بڑے ماجن سے ہرانے کا کینگروز خواب دیکھ رہے تھے صرف 39 رنز سے کامیابی حاصل کرسکے،دوسری جانب پاکستان میچ ہار کر بھی جیت گیا، وہ اس طرح کہ چوتھی اننگز میں عمدگی بلکہ جس جرا¿ت مندی سے بیٹنگ کی گئی اسے دیکھتے ہوئے یہی کہا جائے گا کہ مصباح الحق الیون نے واقعی کمال کا کھیل پیش کیا، اگر اسد و یاسر بقیہ 40 رنز بھی اسکور کرلیتے تو یہ پاکستان کی یادگار فتح کہلاتی۔
چوتھے روز کھیل کے اختتام پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز یہ کہنے پر مجبور تھے کہ” بظاہر تو آسٹریلوی ٹیم کو آخری 2 وکٹوں کے حصول میں زیادہ مشکل پیش نہیں آنی چاہئے لیکن اگر مصباح الیون کی آخری 2 وکٹیں پانچویں روز کے کھیل میں صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطلوبہ 108رنز بنانے میں کامیاب ہوجاتی تو یہ یقینا پاکستان ٹیم کا بڑا کارنامہ ہوگا، سابق کپتان عمران خان نے برزبن ٹیسٹ پر اپنے ٹوئٹر پیغام میں پاکستان ٹیم کی بے حد تعریف کی جس نے انتہائی شاندار طریقے سے کھیل میں واپس آتے ہوئے میزبان بولرز اور ان کے کپتان کو بیک فٹ پر آنے پر مجبور کیا،کسی بھی ٹیم کی اس انداز میں لڑ کر شکست کا قطعی افسوس نہیں ہوتا ،بالخصوص نوجوان بیٹسمین اسد شفیق نے دلیرانہ بیٹنگ سے جہاں ٹیم کو ایک مشکل ہدف کو عبور کرانے کے قریب تر لے آئے تھے ان کی اس کارکردگی سے یقینا حریف ٹیم پر آئندہ میچوں نفسیاتی دباو ہوگا جبکہ پاکستان کیلئے سودمند رہے گا۔
دیگر سابق قومی و غیر ملکی کرکٹرز جن میںصلاح الدین صلو، سکندر بخت، شعیب اختر، انضمام الحق، محمد یوسف، رمیز راجہ،وسیم اکرم،عبدالقادر، سرفراز نواز، سابق چیئرمین پی سی بی خالدمحموداور توقیرضیاءنے اپنے تبصروںمیں پاکستان ٹیم کی دوسری اننگز کے کھیل کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا، ان کا یہی کہنا تھا کہ ہمارے بلے بازوں نے ٹیم کی یقینی شکست کو فتح میں بدلنے کا سامان کرلیا تھا، خصوصا اسد شفیق اور لیگ اسپنر بولر یاسر شاہ اپنی دلیرانہ بیٹنگ سے نا ممکن کو ممکن بنانے کے قریب تر آگئے تھے لیکن پھر ان کے اعصاب گویا جواب دے گئے ،ان کی اس کارکردگی سے ٹیم کامیابی تو حاصل نہ کرسکی لیکن اس نا قابل تردید حقیقت کو ثابت کردیا کہ کرکٹ کے اس غیر یقینی کھیل میں کوئی ہدف مشکل ترین تو ہوسکتا ہے مگر نا ممکن نہیں ،ماہرین نے برزبن ٹیسٹ کے اس انداز میں اختتام پذیر ہونے کو اگلے 2 ٹیسٹ میں میزبان ٹیم کیلئے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔
قبل ازیں پاکستان کی پہلی اننگز پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق کپتان ظہیر عباس نے قومی بلے بازوں کو آڑے ہاتھوں لیا، کسی نے وکٹ پر ٹھہرنے کی کوشش ہی نہیں کی ، ان کے ذہنوں پر بس آسٹریلیا کی باونسی اور تیز وکٹوں کا خوف سوار تھا ، سب سے زیادہ ٹاپ آرڈر کے کھلاڑیوں نے مایوس کیا ، یہاں پر یونس خان کو چاہئے تھا اپنی کلاس ظاہر کرتے، اپنی کھوئی فارم میں واپس آتے ہوئے ٹیم کیلئے کلیدی کردار ادا کرتے لیکن وہ اس اہم ذمہ داری کوادا نہ کر نے اوررنز اسکور کرنے میں یکسر ناکام رہے، بحیثیت کپتان مصباح الحق بھی اپنی ذمہ داری نبھانے کی قطعی کوشش نہیں کی، انہیں ایک اینڈ پر رک کر، سنبھل کر اور اپنے جونیئر کھلاڑیوں کو کریز پر ٹھہرنے کی تاکید کرتے ہوئے اننگز مستحکم کرنے کی ضرورت تھی لیکن وہ بھی دیگر کھلاڑیوں کی طرح ”تو چل میں آیا “ والی حکمت عملی پر مکمل طور پر عمل پیرا رہے، ان سے ایک ٹیسٹ میچ کی غیر حاضری کے بعد واپسی پر اس قسم کی کارکردگی کی ہرگز توقع نہیں تھی، مصباح الحق چار رنز اسکور کرنے کیلئے کسی نہ کسی طرح 20گیندوں کا سامنا کر گئے لیکن یونس خان تو ان سے بھی دو ہاتھ آگے نظرآئے اور” گولڈن ڈک“ کے ساتھ پویلین لوٹے، ان سے تو ایسی کارکردگی کی کسی کو توقع تھی ہی نہیں۔
جہاں تک اسد شفیق کا سوال ہے تو وہ بھی پہلی اننگز میں سب کی طرح بھولے میاں بنے رہے لیکن پھر دوسری اننگز میں وہ اظہر علی اور یونس خان کی جانب سے بنائی گئیں نصف سنچریوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور چوتھے روز کھیل کے اختتامی لمحات بلکہ آخری اوور میں سنچری مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کی جسے ان کی یاد گار اننگز کہی جائے گی، اسد شفیق نے دراصل نمبر چھ کی پوزیشن پر بیٹنگ کرتے ہوئے نویں بار تیسرے ہندسے کا انفرادی اسکور مکمل کیا جو ان کا نیا عالمی ریکارڈ بھی ہے ان سے قبل یہ ریکارڈ ویسٹ انڈین لیجنڈ سرگیری سوبرز کے پاس تھا جنہوں نے اسی نمبر پر کھیلتے ہوئے 8 سنچریاں بنائی تھیں۔ دونوں اننگز کی کارکردگی کا موازنہ اس لحاظ سے آسان ہوجاتا ہے کہ پہلی اننگز میں مصباح الیون کے کھلاڑیوں کی وکٹیں خزاں رسیدہ پتوں کی مانند گرتی رہیں جبکہ دوسری باری میں وہی بلے باز کریز پرٹھہرنے کا عزم لئے ڈریسنگ روم سے نمودار ہوتے ہوئے نظر آئے، سوائے سمیع اسلم 15 ، بابر اعظم 14 اور کپتان مصباح الحق کے 5 رنز کے تمام بیٹسمین نے عمدہ مزاحمت کرنے کی بہترین کوششیں کیں، اظہر علی 179 گیندوں کا سامنا کرنے میں کامیاب ہوئے اور 71 قیمتی رنز کا اضافہ کیا، ان کی اننگز میں اعتماد بھی تھا اور دلیری بھی ۔ انہوں نے کئی مرتبہ حریف بولرز کی تیز گیندیں اپنے جسم کے بعض حصوں پر بھی کھائیں، گولڈن ڈک وصول کرنے والے یونس خان بھی دوسری باری میں قدرے مختلف نظرآئے ، انہوں نے اس بار 7 چوکوں کی مدد سے 147 گیندوں پر 65 رنز بنائے جو ان کی گزشتہ 5 ٹیسٹ اننگز میں بہترین اننگ بھی تھی۔پہلی باری میں 59 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہنے والے سرفرازا حمد بھی دوسری اننگز میں لمبی باری کھیلنے کا عزم لئے کریزپر آئے تھے لیکن وہ بھاری بھرکم ہدف کے سامنے خود کو میچ میں دوسری مرتبہ ذہنی طور پر یکجا نہ کرسکے اور 24 رنز تک مزاحمت کرکے اسد شفیق کا ساتھ چھوڑ گئے۔ اسد شفیق کے ہمراہ 92 رنز کی انتہائی شاندار شراکت قائم کرنے والے تیز بولر محمد عامر کی دلیرانہ اننگز کا اگر ذکر نہ کیا جائے گا تو ان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی۔ انہوں نے سرفراز احمد کے آوٹ ہونے پر اسد کے ساتھ ساتویں وکٹ کیلئے کھیلنے کریز پر قدم رکھا اور کئی اچھے شاٹس کھیلے ، وہ 48 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئے جو ان کیلئے بڑی بات تھی۔
******
1