تازہ ترین



سیکشن: فکاہیہ

شاہکار سفر نامہ:ٹاور تا ناظم آباد

shadow

ان سفرناموں کی عالمگیری ،ادب میں دادا گیری کی نئی روایت رقم کرے گی، بسوں کے ڈرائیور اور کنڈکٹر حضرات کے زبان و بیان پر عبور اور فصاحت و بلاغت سے ہر ذی شعور واقف ہے

 

مسز زاہدہ قمر ۔ جدہ

کافی عرصے سے ذہن میں خیالات کی کھچڑی سی پک رہی ہے۔ کبھی خیا ل آتا ہے کہ اپنا سفر نامہ قسط وار لکھا جائے ؟ کبھی کسی تازہ غزل کی اچانک آمد ہو جاتی ہے جیسا کہ بن بلائے مہمان اچانک ہی گھر میں وارد ہو جاتے ہیں۔ پھر اپنے لکھے ہوئے افسانوں کا خیال آتا ہے کہ کہیں قارئین ہمارے افسانوں سے محروم نہ رہ جائیں اور یہ بھی اکثر سوچتے ہیں کہ اصلاحی مضامین کا کیا بنے گا۔یہ وہ اصلاحی مضامین ہیںجن کو پڑھ کا اکثر قارئین اسلحہ لے کر ہماری تاک میںہوں گے۔ ہمارے سفر نامے بلکہ سفر ناموں کے بارے میں تو ہمیں یقین ہے کہ لوگ پڑھتے ہی بائولے ہو کر واسکو ڈی گاما اور کرسٹوفر کولمبس کی طرح گھر سے بھاگ کھڑے ہونگے۔ دراصل یہ سفر نامے ہم نے ٹاور سے ناظم آباد تک منی بس میں طے ہونے والی مسافت کا احوال بیان کرنے کے لئے لکھے ہیں۔ہم کالج میں نئی نسل کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کر رہے تھے، گو یا کہ ہم نے تعلیم و تربیت کا بیوٹی پارلر کھولا ہوا تھا اور ہمارے طریقۂ تدریس پر والدین کا خون بھی کھول جاتا تھا ۔

کالج کی بس کے بے بس ہونے پر جب ہمیں منی بس یا منی سی بس میں سفر کرنا پڑا توکئی تجربات اور مشاہدات پیش آئے جنہیںہم نے سفر ناموں کی شکل میں ڈھال دیا۔ یہ سفر نامے کیا ہیں، ادب کے شہ پارے ہیں۔ان کی عالمگیری ،ادب میں دادا گیری کی نئی روایت رقم کرے گی۔ بسوں کے ڈرائیور اور کنڈکٹر حضرات کے زبان و بیان پر عبور اور فصاحت و بلاغت سے ہر ذی شعور واقف ہے۔ یہ زبان دانی، جسے ناواقف انسان زبان درازی سے تعبیر کرتے ہیں ،ایسی ہے کہ ذہن کے دریچے کھٹ کھٹ کر کے کُھل جاتے ہیں ۔ اس پر طرہ بسوں پر لکھی ہوئی اعلیٰ پائے کی شاعری ،یہ پایہ بھی کوئی چھوٹا موٹا نہیں ہوتا۔ چند ایک نمونے ملاحظہ ہوں:

دیکھو کتنا زور ہے توبہ، میرے اس دیوانے میں

کل ہی ضمانت کروائی تھی، آج وہ پھر ہے تھانے میں

٭٭٭

پورٹ پر رہتے ہیں سڑک پر سوتے ہیں

تری یاد آتی ہے تو جی بھر کے روتے ہیں

٭٭٭

سڑک سے دوستی ہے سفر سے یاری

ہے دیکھ پیارے کیسی زندگی ہماری ہے

٭٭٭

نہ کمال انجن نہ ڈرائیور کی خوبی

خدا کے سہارے چلی جا رہی ہے

٭٭٭

آنا ترا مبارک تشریف لانے والے

حافظ خدا تمہارا، گاڑی چلانے والے

٭٭٭

ڈریور کی زندگی بھی عجب کھیل ہے

موت سے بچے تو سینٹرل جیل ہے

یہ تو چند نمونے ہی ہیں ورنہ اشعار تو بے شمار اور اسقدر ادبی معیار کے ہیں کہ دل و دماغ کی دنیا میں قیامت صغریٰ برپا کرسکتے ہیں۔ہم قادر الکلام قسم کے ادیب ہیں اوراس میں کوئی کلام نہیں کہ جب ہم کلام کرتے ہیں تو دوسرے کو کلام کا موقع نہیں دیتے ۔ سفرنامے کے چند ایک اقتباسات ہم آپ کی دلچسپی کے پیش نظر لکھ رہے ہیں:

٭٭یہ پہلی جولائی کی بات تھی، سن2000 تھا۔ ہم نے اپنے پہلے سفر کا آغاز ٹاور سے کیاتھا۔ جولائی ہمارے لئے ’’جو ۔لائی‘‘ تھی وہ شدید ترین گرمی اور کالج بس کی خرابی تھی لہٰذا مجبوراً منی بس کا انتخاب کرنا پڑا ۔ یوں یہ ادب کا شاہکار سفر نامہ تخلیق ہوا۔تو جناب ہم بس پر چڑھنے کے لئے قدمچے پر قدم رنجہ فرما ہی رہے تھے کہ ڈرائیور نے بس چلا دی۔ نتیجتاًہم اور ہمارے جیسے دیگر لوگ بے بس ہو کر پائدان پربالکل اس طرح لٹک کر رہ گئے جیسے ہم مسافر نہیں بلکہ امن و امان کا مسئلہ ہیں یا پھر بے روزگاری ، رشوت، چور بازاری اور دیگر مسائل بھی جیسے ہم رکاب ہوں ۔

راستے میں ہماری قسمت نے ہمیں’’ ڈل دریا‘‘ دکھایا۔ یہ کشمیر کی ڈل جھیل سے گہرا اورسیاہ پانیوں سے لبریز تھا۔یہاں دراصل بارش برسی تھی اور بارش کی برسی بھی ہو گئی تھی مگر اب تک آثار موجود تھے کہ ایک برس پہلے یہاں کوئی حادثہ ہوا تھا۔ علاقے کے لوگ بالکل ڈل تھے جیسا کہ عموماً ہمارے ہاں کے بعض علاقوں کے لوگ ہوتے ہیں ۔پانی بھی ڈل یاسُست ہو کر ایک جگہ جمع ہو گیا اور اس نے دریا کی شکل اختیار کر لی تھی۔ ہم بس کے پائدان پر لٹکے لٹکے کی جانے والی جہد مسلسل کے باعث کسی نہ کسی طرح بس کے اندر گھسنے میں کامیاب ہو گئے۔یہاں سے باہر کا نظارہ ہی عالم نزع میں پہنچا دینے کے لئے کافی تھا۔ ہر طرف چھوٹی جسامت کے خوش نما پرندے اُڑ رہے تھے ۔بلدیہ نے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر سجا کر عوام کے لئے مناسب انتظام کر رکھا تھا تاکہ نت نئی بیماریوں کی ولادت سے ڈاکٹروں کے گھروں کا چولھا جل سکے نیز سائنسدانوں کو تحقیق کے نت نئے میدان میسرآ سکیں۔

مچھروں کی ملنساری اور خوش مزاجی کا یہ عالم تھا کہ سر شام بلکہ دوپہر سے ہی گھروں میں بسوں ، پارکوں ، سڑکوں ، اسپتالوں اور مدرسوں میں جا کر لوگوں کی مزاج پُرسی کیلئے نکل پڑتے تھے۔ ہماری بس میں آکر انہوں نے بڑی گرمجوشی سے مسافروں کی خیریت دریافت کی۔ ہمیں ان کے مچھر ہونے کا یقین نہیں تھا۔ اسی لئے دل نے کہاکہ:

’’تو قریب آ ،تجھے دیکھ لوں

تو وہی ہے یا کوئی اور ہے ‘‘

شاید ایک مچھر نے دل کی صدا سُن لی اور ہمارے ہاتھ پر چُٹکی کاٹ کر یقین دلایا کہ وہ ہماری جاگتی آنکھوں دکھائی دینے والی حقیقت ہے ،کوئی سندر سپنا نہیں۔ تھوڑے سے فاصلے پر دیوارِچین سے بھی زیادہ لمبی لائن دکھائی دی جس میں لوگ رنگ برنگے برتن، بالٹیاں اور کنستر ہاتھ میں اُٹھائے کھڑے تھے ۔ ان سب کی امیدوں کا مرکزاکلوتا،قدیم دور کا ٹوٹاپھوٹا ، میلا اور قدرے اونچا سا کمیٹی کا نلکا تھا جو بڑی شان سے سر اُٹھائے کھڑا تھا۔ آس پاس موجودکیچڑ اور کائی سے ثابت ہو رہا تھا کہ کسی زمانے میں یقینایہ نلکا آبِ حیات فراہم کرتا رہا ہو گامگر فی الحال اس سے ہوا اور موسیقی کی تانیں فضا میں عجیب سا ترنم بکھیر رہی تھیں۔ ہماری تمام تر محویت، ایک منجن بیچنے والے کی صدا سے ٹوٹی جس کے ہاتھ میں ایک بھدا سا ڈبہ تھا ۔اس کا دعویٰ تھا کہ اس ڈبے میں موجود منجن سے بیک وقت کالے دانت سفید اور سفیدبال کالے ہو سکتے ہیں حالانکہ اس کے اپنے دانت اسکے اعمالوں کی طرح سیاہ تھے۔ ’’فی الحال اتنا ہی، لکھتے ہیں ایک ہفتے کے بعد، پڑھتے رہئے، اُردونیوز۔‘‘

1