تازہ ترین



سیکشن: فکاہیہ

’’چینا‘‘

shadow

وطن کے ہر شہر، ہر ادارے، ہر محلے کوایک ایک ’’چینا‘‘میسر آجائے تو عوام کو جینا میسر آجائے - - - - - - -- - - - - - - - - - - - -  - - ۔

 

شہزاد اعظم

بچپن میں ہم پاکستان کے ایک انتہائی تاریخی شہرکے قدیم ترین محلے میں رہا کرتے تھے۔ سیکڑوں برس قدیم اس محلے کے مکانات اور گلیوںکی طرزِ تعمیر یہ بتاتی تھی کہ یہاں ماضی میں جو قوم بھی آباد تھی وہ خاصی ڈرپوک تھی کیونکہ ہر چار گھروں کے بعد ایک تنگ و تاریک گلی اور ہر دو گلیوں کے بعد ایک چوک اوراس چوک میں نکاسیٔ آب کے لئے ایک نالی اور اس پر لوہے کا جنگلہ۔بہر حال ہمارے والدین نے اس محلے میںسہ منزلہ مکان60روپے ماہوار کرائے پر لیا تو سارے محلے دار بھونچکا رہ گئے۔اڑوس پڑوس کی خواتین کے’’ جھنڈ کے جھنڈ‘‘ ہماری والدہ کو دیکھنے آتے کہ آخر وہ گرہستن کیسی ہیں، کون ہیں جنہوں نے اتنے مہنگے کرائے پر مکان لیا ہے۔اسی طرح مردوں کے’’ جتھے کے جتھے ‘‘اس مکان کے باہر ہمارے والدصاحب کی دفتر سے واپسی کا انتظار کرتے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ آخر وہ کون مہاراجہ ہیں جنہوں نے اتنی بڑی عمارت اتنے مہنگے کرائے پر لی ہے۔ اُس وقت ہمارے گھر میں کُل 4افراد تھے جن میں ہمارے2 والدین ، ایک ہم اور ہم سے 22ماہ بڑے ایک بھائی صاحب۔بچپن میں ہم ایک تو نجیب الطرفین گورے تھے اور اُس پر طرہ یہ کہ مائل بہ فربہی۔اُس وقت ہمارے سر پر بے انتہاء گھنے بال بھی ہوا کرتے تھے ۔یوں دیکھنے میں ہم نہایت ہی ’’گبلو گبلو‘‘ قسم کے بچے لگتے تھے نتیجتاً ہم جب کبھی امی جان کی انگلی تھام کر بازار کا رُخ کرتے تو ہنستے مسکراتے جاتے مگر غصے میں پیر پٹختے لال پیلے ہو کر واپس آتے کیونکہ بازار میں ہمارے اریب قریب سے گزرنے والی بچہ دار، بے بچہ دار، نااُمید، پُر اُمید، زیرِ تربیت، تربیت یافتہ، نئی نویلی، مرجھائی چمیلی ،ان کہی پہیلی،انجان اور سہیلی ہر قسم کی شخصیات ہمارے گال نوچ کر یا تھپتھپاکر ہی گزرتی تھی۔

یوں ایک 30منٹ کی’’ بازار خرامی‘‘ میں ہمارے دودھوں نہائے سیب نما گال، کم از کم 500 ہستیوں کی ’’دستی محبت‘‘ کا شکار ہو کر گلاب کی مانند سرخ ہو جاتے تھے۔ دوسری جانب یہ مصیبت تھی کہ ہمارے محلے کی ہر بچی اور ہر بچہ ہمیں دیکھ کر ’’چِٹّے‘‘کی آواز ضرور لگاتا تھا۔اس’’چھیڑ خانی‘‘ میں ہمارے محلے دار اور خصوصاً ’’شوکا‘‘ اور اس کے ہم جولی اس قدر مستقل مزاج تھے کہ اگر اُس وقت گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈموجود ہوتی توہمارے ان محلے داروں کا نام اپنے اندر سمیٹنے کے لئے ’’تڑپھڑیاں ‘‘کھارہی ہوتی۔ اس ضمن میں ہم صرف ایک مثال پیش کر رہے ہیں جسے پڑھ کر آپ ہمارے قائل ہی نہیں بلکہ مطیع و فرمانبردار ہو جائیں گے اور گنیز بُک والوں کو فون کردیں گے کہ ان محلے داروں کا نام ضرور کتاب میں درج کیاجائے۔ ہوا یوں کہ ہم سالانہ چھٹی پر وطن گئے توسوچا کہ کیوں نہ اپنا پرانا محلہ دیکھ لیا جائے تاکہ حَسین بچپن کی خوبصورت یادوں کو محسوس کرنے کا موقع میسر آجائے۔

یہ سوچ کر ہم موٹرسائیکل پر سوار ہوئے اور 50سال کے وقفے کے بعد ہم اُس محلے میں داخل ہوئے ۔ وہاں سے ایک ایمبولینس ہنگامی حالت میں کسی مریض کو لئے اسپتال کی جانب بھاگ رہی تھی، اچانک ہمارے قریب آ کر رُکی۔ اس کا دروازہ کھلا اور اندر اسٹریچر پر لیٹے حملۂ قلب کا شکار نحیف شخص نے ہمیں مخاطب کر کے بمشکل تمام ’’چِٹّے‘‘ کہا اور اس کے بعد ایمبولینس کو سفر جاری رکھنے کا اشارہ کیا۔ ہم نے لوگوں سے پوچھا یہ کون تھا، انہوں نے کہا کہ ’’شوکا‘‘ تھا۔ ہم حیران تھے کہ نصف صدی کے بعد بھی اس نے ہمیں ’’چِٹّے‘‘کہہ کر نہ صرف اپنی یادداشت کے لاجواب ہونے کا ثبوت دیا بلکہ یہ بھی باور کرادیا کہ اس محلے کے باسی انتہائی مستقل مزاج شخصیات ہیں۔ان تمام ’’گنیزبُکی‘‘ خوبیوں کے باوجود ہم شوکے سے کسی طور متاثر نہیں ہو سکے۔ ہم اُس محلے کے ایک کردار ’’چینا‘‘ سے پہلے ہی روز اتنے متاثر ہوئے تھے کہ آج تک اس سحر سے باہر نہیں نکل سکے۔چینا ،28سال کا جوان تھا، بیروزگاری ، نہوت، ناکامی، مایوسی اور اداسی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔صبح کے وقت جب محلے کے لوگ دفتر جانے کے لئے نکلتے ، وہ اپنے ہمسائے کی سائیکل لے کر ہمارے گھر کے سامنے چوک میں کھڑا ہوجاتا اور زورزور سے جو کچھ چلاتا، اس کا اُردو ترجمہ یوں تھاکہ’’میرا نام چینا ہے، میں اس محلے کے اُن لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں جو خوب چوریاں کرتے ہیں مگر لوگ انہیں چور نہیں سمجھتے جبکہ میں چورنہیں ہوں نہ میں چوریاں کرتا ہوں مگر لوگ مجھے چور سمجھتے ہیں،پولیس اسی لئے مجھے نہ تو کبھی پکڑ سکی ہے اور نہ پکڑ سکے گی۔سب انسپکٹرنثار خان، تھانہ تڑنگ، شہرلاہور ۔یہ کہہ کر وہ سائیکل پر سوار ہوتا اور 2ڈھائی گھنٹے تک گھوم پھر کر واپس آجاتاتھا۔

محلے کا کوئی کھاتا پیتا شخص چینا سے خوش نہیں تھامگر ہمارا تو وہ من بھاتا کردار تھا۔ ہم نے جب اپنے پیروں پر چل کر اکیلے اسکول جانا شروع کیا تو سب سے پہلے یہی معلوم کرنے کی کوشش کی کہ چینا ہر روز سائیکل پر سوار ہو کر 150منٹ کے لئے کہاں جاتا ہے ۔کافی تحقیق کے بعد یہ راز فاش ہوا کہ چینا شہر کے معروف علاقے میں موجود سرکاری دفاترمیں کلرکوں اور دیگر ملازمین سے ملنے جاتا تھااور ان سے دریافت کرتا تھا کہ کل تک کون کون سے افسر نے کس کس سے رشوت لی اور قومی خزانے کو کتنا نقصان پہنچایا۔ یہ سب معلومات اکٹھی کر کے وہ گھر آکر ایک رجسٹر میں تحریر کر لیتا تھا۔وہ کہتاتھا کہ مجھے معلوم ہے کہ کس نے میرے وطن کو کتنا نقصان پہنچایا، میں نے سب حساب کتاب لکھ رکھا ہے۔ ایک دن جب چینابااختیار ہوجائے گا تو ان ’’باوقار چوروں‘‘ سے قومی خزانے کی پائی پائی وصول کرے گا۔پھر یوں ہوا کہ اُسی دوران 6ستمبر 1965ء بھی آ پہنچا، دشمن نے حملہ کر دیا، شہر میں بلیک آؤٹ ہونے لگا۔ دشمن نے چھاتہ بردار فوج شہر میں اُتاری ۔

چینا ساری ساری رات محلے کی گلیوں میں پہرہ دیا کرتا۔ وہ کہتا تھا کہ یہ ملک میرا ہے، میں نے یہاں رہتے ہوئے اپنے وطن اورقوم کی دولت کی ایک پائی بھی کبھی غصب نہیں کی، تو میں باہر سے آنے والے دشمنوں کو اس سرزمین کی دولت لوٹنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہوں، جب تک چینا زندہ ہے، کوئی مائی کا لال میرے وطن عزیزکو نقصان پہنچانے کی جرأت نہیں کر سکتا۔چینا نے 65ء کی جنگ کے دوران دشمن کے کئی جاسوس پکڑ کر پولیس کے حوالے کئے۔ پولیس نے چینا کو’’بہادر اور محب وطن ‘‘شہری کا خطاب دیا۔ وہ محب وطن چیناجو چور نہیں تھا مگر چور کہلاتا تھا، وہ بے روزگار تھا، وہ بے روزگار ہی رہاچنانچہ شادی بھی نہیں کر سکا۔

دوسری جانب وہ ہستیاں جو چور تھیں مگر چور نہیں کہلاتی تھیں، برسرِ روزگار تھیں چنانچہ کئی کئی شادیاں کر بیٹھی تھیں۔ اُس روز اپنے محلے میںہم نے غم سے نڈھال ،پچکے گال، شکلاً بد حال،بکھرے بال اور ڈگمگاتی چال کا حامل ایک شخص دیکھاجو پھٹیچر سی بائیسکل گھسیٹتا چلا آ رہا تھا۔محلے کے بچے اسے ’’پاگل‘‘کہہ کر چھیڑ رہے تھے ۔ وہ ان بچوں پر برہم ہو رہا تھا مگرہمیں دیکھتے ہی مسکرایااور قریب آ کر کہنے لگاپتہ ہے یہ اُن لوگوں کی اولادیں ہیں جو مجھے پاگل کہتے ہیںحالانکہ پاگل تو وہ ہیں جوملک اور قوم کا پیسہ لوٹ رہے ہیں، حرام کھا اور کھلارہے ہیں۔میں ان بچوں کو کچھ نہیں کہتا کیونکہ یہ تو گنتی کے ہیں، میرے ہمنوا تو اس ملک کے کروڑوں عوام ہیں۔ تم دیکھنا، عوام کو ایک دن اختیار ملے گا پھر وہ ملکی خزانہ لوٹنے والوں سے پائی پائی وصول کریں گے۔ میں اس دولت کواپنے ہاتھوں سے خزانے میں جمع کروں گا۔’’میرا نام چینا ہے، پولیس مجھے پکڑ سکی ہے ، نہ پکڑ سکے گی۔سب انسپکٹرنثار خان، تھانہ تڑنگ، شہرلاہور‘‘ یہ کہہ کر چینا سائیکل پر سوار ہو کر چلتا بنا ۔ہمارے دل نے کہا کہ کاش وطن کے ہر شہر، ہر ادارے، ہر محلے کوایک ایک ’’چینا‘‘میسر آجائے تو عوام کو جینا میسر آجائے۔

1