تازہ ترین



سیکشن: ہموطن

جدہ:مجلس محصورین پاکستان کی یوم قائد پر تقریب

shadow
 
 پاکستان جس مقصد کیلئے حاصل کیا تھا وہ 70 سال میں بھی حاصل نہ کرسکے،امیر محمدخان،ریاض گھمن،شمس الدین الطاف اور دیگر کا خطاب
 
مجلس محصورین کے تحت بابائے قوم محمدعلی جناح کے یوم پر پروقار تقریب مقامی ریستوران میں ہوئی۔ معروف دانشور و سابق سفارتکار ڈاکٹر علی الغامدی نے قائداعظم کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قائد کی شخصیت کو دنیا کے عظیم مورخوں نے تسلیم کیا۔ انہوں نے معروف امریکی مورخ اسٹینلی ہڈلی کا حوالہ دیا جس نے قائداعظم کے بارے میں لکھا تھا کہ ”دنیا میں چند لیڈر جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو بدلا چند جنہوں نے دنیا کے نقشے کو تبدیل کیا اور چند جنہوں نے ایک قوم کو تشکیل دیا لیکن قائداعظم ان معدودے چند رہنماوں میں سے تھے جنہوں نے بیک وقت تینوں کام کرکے دکھادیا“۔
انہوں نے کہاکہ پاکستانی اگر قائد کے فرمان پر عمل کرتے تو پاکستان کی مقصد تشکیل کو حاصل کر لیتے۔ جس کےلئے برصغیر کے مسلمانوں اور خاص طورپر بہار کے مسلمانوں نے بہت بڑی قربانیاں دیں۔ قائد نے خود کہا تھا کہ بہار کے مسلمانوں کی قربانیوں کے بغیر پاکستان نہ بنتا البتہ بنگلہ دیش کا بننا اور محب وطن پاکستانیو ں کا45سال سے کیمپوں میں بدترزندگی گزارنا قائد کی روح کو بے چین کرتاہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام صحافیوں ، سیاستدانوں اور پاکستانیوں سے بالعموم یہ اپیل کرونگا کہ اپنے بھائیوں کو اس مصیبت سے نکالنے کیلئے عملی کردارادا کریں تاکہ خدا کے حضور روز قیامت سرخرو ہوں۔
انہوں نے کہاکہ پی آر سی نے اپنی مدد آپ کی بنیاد پر محصورین کی منتقلی و آباد کاری کے لئے تجاویز دی ہیں جس کے تحت سعودی عرب اور خلیج میں ملازمتوں کے ذریعے سے مطلوبہ رقم سے خود و اپنی فیملی کی رہائش اور ٹکٹ کا انتظام کرسکیں گے۔ اس طرح چند برسوں میں ان کے کیمپ کی زندگی کا خاتمہ ہوجائیگا۔ حکومت پاکستان کو فوری طور پر انہیں پاسپورٹ جاری کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ محب وطن پاکستانیوں کو اس طرح بے یارو مدد گار چھوڑنا ملک کے وقار کیلئے منفی تاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دو قومی نظریہ کے تحت پاکستان کا حصہ ہے۔ یہ مسئلہ صرف اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت ہی حل ہوسکتا ہے۔
پاکستان جرنلسٹس فورم کے چیئرمین امیر محمد خان نے بھی قائداعظم کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قائد کے فرمان کو فراموش کردیا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ہمارا کوئی بانی قائد تھا ہی نہیں۔ قائداعظم اور اکابرین کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی اور اجتماعی بنیاد پر قائد کے فرمان پر عمل کریں تو منزل پاکستان کے قریب پہنچ جائیں گے۔
پاکستان میڈیا گروپ کے سیکیرٹری جنرل چوہدری محمد ریاض گھمن نے کہا کہ قائداعظم ایک عظیم تاریخ ساز لیڈر تھے جنکی ولولہ انگیز 
قیادت سے قیام پاکستان ممکن ہوسکا۔ البتہ قائدکے پاکستان کی حفاظت نہ کرسکے۔ 1971ءکا دولخت ہونا المیہ ہے ۔ پیپلز کمیونٹی کے شمس الدین الطاف نے ابتداءعربی تقریر سے کی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جس مقصد کیلئے حاصل کیا تھا وہ 70 سال میں بھی حاصل نہ کرسکے ۔ انہوں نے کہاکہ آج یہ عہد کرنا چاہئے کہ قائد کے فرمان پر عمل درآمد کرکے پاکستان کو قائد اور اقبال کا پاکستان بنائیں گے۔
معروف ادیب محمد اشفاق بدایونی نے قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان جیسا قائد تو ہمیں نہیں مل سکا لیکن ان کے مشن کو لیکر ہم ”دل دل پاکستان“ بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائدکے عزم مصمم کو لیکر چلنا ہوگا۔ 
معروف اردو فکاہیہ نگار محمد امانت اللہ نے کہاکہ قائد کے فرمان ایمان، اتحاد ، تنظیم کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں اور قومی مفاد کو پس پشت ڈالدل دینے سے پستی کی طرف جارہے ہیں۔
پاکستان میمن ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل طیب موسانی نے کہا کہ اپنے کردار میں ایمانداری اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم باوقار قوم بن سکیں۔ تقریب سے معروف ادیب طارق محمود، آغا محمد اکرم نے بھی خطاب کیا۔
کنوینر سید احسان الحق نے قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر منظور کی جانے والی قراردادوں میں کہا گیا کہ کشمیر سے ہند اپنی فوج واپس بلائے،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ حل کیا جائے ۔وزیراعظم نواز شریف محصورین کی فوری منتقلی اورآباد کاری کا اعلان کریں۔
تقریب کی نظامت ڈپٹی کنوینر حامد اسلام نے کی اور اپنا مقالہ بھی پڑھا۔تلاوت قرآن قاری محمد آصف انجینیئر نے کی۔ نعت رسول مقبول شیر افضل نے پیش کی۔ مہمانوں میں شاہد نعیم، چوہدری رضوان، جمیل راٹھور، لیاقت انجم، زمرد سیفی، انجینیئر خالد جاوید شامل تھے۔
******
1