تازہ ترین



سیکشن: ہموطن

قائداعظم کی دور اندیش شخصیت سے قوم متحد رہی، ڈاکٹر زید

shadow
 
ریاض حلقہ فکر وفن کے زیر اہتمام یوم قائد پر تقریب اور بشیر مرزا کیلئے الوداعیہ ،ریاض چوہدری ،پروفیسر جاوید اقبال اور دیگر کا خطاب
 
جاوید اقبال ۔ ریاض
 
ریاض کی معروف ادبی تنظیم حلقہ فکر و فن کے زیر اہتمام قائداعظم کے یوم کے حوالے سے تقریب کا انعقاد ہوا۔ مہمان خصوصی جامعہ الملک سعود میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر زید غلام مرتضیٰ ملک ۔اعزازی مہمان معروف نثر نویس بشیر مرزا تھے۔ تقریب کا ایک حصہ بشیر مرزا کے لئے جو مملکت کو مستقلاً الوداع کہہ رہے تھے۔ مخصوص تھا۔ صدارت تنظیم کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری کی۔ نظامت کے فرائض معروف شاعر وقار نسیم وامق نے اداکئے۔ آغاز ڈاکٹر محمود باجوہ کی تلاو ت قرآن پاک سے ہوا ۔حلقہ فکر و فن کے میڈیا سیکریٹری عابد شمعون چاند نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی۔ جامعہ الملک سعود کے پروفیسر جاوید اقبال نے قائداعظم کی زندگی کے ابتدائی برسوں اور برطانیہ کی شہرہ آفاق قانون کی درسگاہ لنکنز ان میں انکے داخلے اور حصول تعلیم کے مختلف مدارج پر روشنی ڈالی۔ حلقہ کے سینیئر رکن اور ہر دلعزیزشاعر محمد صابر قشنگ نے اس بات پر اظہار مسرت کیا کہ حلقہ فکر و فن نے بانی پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے تقریب کا انعقاد کیا ۔ مسلم لیگ (ن) ریاض کے انجینیئر راشد محمودبٹ نے بانی پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انکی حقیقت پسندی اور مصمم ارادے کو سراہا اور تشکیل پاکستان کو معجزہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ قائداعظم نے تن تنہا ہندو اور انگریز سے جنگ کی اور وطن عزیز کا حصول ممکن بنایا ۔ ڈاکٹر طار ق عزیز نے کہا کہ برصغیر کے مسلمان مایوسی کے اتھاہ اندھیرے میں گر چکے تھے ایسے میں قائداعظم محمدعلی جناح کی برطانیہ سے ہندوستان آمد ان کے لئے نوید مسرت تھی۔ انہوں نے قائد کے پیغام اتحاد، ایمان، یقین محکم کو ہر پاکستانی کیلئے کامیابی کی کلید قرار دیا۔ تصدق گیلانی نے قائداعظم کو گزشتہ صدی کا عظیم ترین رہنما قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ صرف محمدعلی جناح ہی انگریز سے قانون کے دائرے میں رہ کر مقابلہ کرسکتے تھے جو انہوں نے کیا۔ ریاض راٹھور نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قائداعظم کی شکل میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک نجات دھندہ بھیجا جس نے اپنی محنت شاقہ سے برصغیر کے نقشے کو تراش کر پاکستان کی تشکیل کی۔ چوہدری محمد مبین نے اپنے خطاب میں قائداعظم کی جاں گسل محنت کی عادت پر روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ انہوں نے اپنی صحت کی پروا کئے بغیر دن رات ایک کردیئے۔
امین تاجر نے بانی پاکستان کی تنظیمی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک پرچم تلے جمع کردیا ۔قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد سے صرف 7برسوں میں پاکستان کا تحفہ مسلمانوںکی گود میں ڈالدیا۔ ڈاکٹر محمود باجوہ نے ا پنے خطاب میں واضح کیا کہ جب قدرت کسی تبدیلی کا فیصلہ کرتی ہے تو پھر اسے عملی شکل دینے کے اسباب پیدا کردیتی ہے۔ برصغیر میں قائداعظم اور حکیم الامت علامہ اقبال کا یکجا ہونا کسی حادثے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ فیصلہ آسمان پرہوچکا تھا۔ محمدصابر قشنگ، ڈاکٹر حنا امبرین طارق ، یوسف علی یوسف اور وقار نسیم وامق نے قائداعظم محمدعلی جناح کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا ۔اعزازی مہمان بشیر مرزا نے اپنے خطاب میں حلقہ فکر و فن کا تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس تنظیم نے اردو ادب کی ترویج میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے سابق صدر جاوید اختر جاوید کی کاوشوں کو سراہا۔ بشیر مرزا نے کہا کہ ابتدائی ایام میں تو سابقہ صدر حلقہ ریاض میں شعری ادب میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے لیکن جب وہ بسلسلہ کار دمام گئے تو انکی صلاحیتیں کھلیں۔ بشیر مرزا نے تنظیم کےلئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اورامید کی کہ اس کی ادبی سرگرمیاں اسی جوش و خروش سے جاری رہیںگی۔ بشیر مرزا نے کہا کہ قیام پاکستان قائداعظم کی رہنمائی کے بغیر ناممکن تھا اور یہ کہ اس عظیم مقصد کیلئے اللہ تعالیٰ نے انہیں منتخب کیا تھا۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر زید مرتضیٰ ملک نے اپنے خطاب میں قائداعظم کو باکردار اور دوراندیش شخصیت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ قوم انکی وجہ سے متحد رہی۔محمدعلی جناح مفاد پرستوں کی راہ میں رکاوٹ تھے اور انکی راست گوئی اور بصیرت نے برصغیر کے مسلمانوں میں اپنے لئے علیحدہ وطن حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کردیا تھا۔ انہوں نے حلقہ فکر و فن کو تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی اور امید کی کہ اس کی سرگرمیاں اسی تسلسل سے جاری رہیں گی۔ 
ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے صدارتی خطاب میں تقریب میں آمد پر حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔ اعزازی مہمان بشیر مرزا کے مملکت میں قیام کے دوران اردو ادب کے لئے خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بشیر مرزا نے مختلف تنظیموں میں فعال رہ کر نہ صرف اپنے ادبی ذوق سے دوسروں کی رہنمائی کی بلکہ اردو کی محافل کے باقاعدہ انعقاد کو بھی یقینی بنایا۔ ڈاکٹر ریاض چوہدری نے مستقلاً الوداع کہنے والے اعزازی مہمان کے پاکستان میں قیام کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ وہ وہاں بھی اپنی ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ تقریب کے آخر میں حلقہ فکر و فن کی طرف سے بشیر مرزا کو اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔
******
1