تازہ ترین



سیکشن: دھنک

اسلحے کی فراوانی، دل کے قرارکی قاتل

shadow

کوئی کتنا ہی طاقتور اور بہادر کیوں نہ ہو یا تعداد میں دشمن سے زیادہ کیوں نہ ہو لیکن دشمن کے ہاتھ میں اگر ایک چھوٹا سا ہتھیار موجود ہو تو وہ طاقتور انسان کے ہوش و حواس کافور کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے

عنبرین فیض احمد ۔ ریاض

ہمیں اپنے ملک سے جرائم کے خاتمے ، ان جرائم کی افزائش کے اسباب اور ان کے سدباب کی کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ وطن عزیز ہر قسم کے جرائم سے پاک ہوسکے۔ بلا شبہ اسلحہ، امن کا دشمن ہوتا ہے ۔ہمارے ملک میں ہونے والی بدامنی ، لوٹ مار، ڈاکہ زنی ، بھتہ خوری، قتل و غارت گری اور ہر قسم کے جرائم کی سب سے بڑی وجہ اسلحے کا عام ہونا ہی ہے ۔ اسلحہ کی فراوانی نے جرائم کو ترقی دی ہے۔اسلحے کی طاقت اور خوف نے انسانوں کے اوسان بھی خطا کردئیے بلکہ انسانیت کے پرخچے اڑا کر رکھ دئیے ، انسانوں کو خون میں نہلا دیااور جو بچ رہے ، اُن کا سکون غارت کرکے رکھ دیا۔ الت یہ ہے کہ اگر کرکٹ میچ میں ہماری ٹیم جیت جائے تو سڑکوں پر چلنا بھی اپنی موت کودعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے کیونکہ بعض شائقین کرکٹ ہوائی فائرنگ کر کے کرکٹی فتح کا جشن مناتے ہیں۔ ہم اپنی ثقافت اور روایات کو اپنانے کی بجائے بدتہذیبی کی جانب گھسٹ رہے ہیں ۔چند ہزار کا موبائل فون لوٹنے کے لئے انسانی جان سے کھیلنے کی روایت ہمارے ہاں عام سی بات ہو گئی ہے ۔ اسلحہ کی فراوانی کے باعث ہمارے ملک کا کوئی بھی کونہ جرائم سے پاک نہیں رہا۔

کوئی کتنا ہی طاقتور اور بہادر کیوں نہ ہو یا تعداد میں دشمن سے زیادہ کیوں نہ ہو لیکن دشمن کے ہاتھ میں اگر ایک چھوٹا سا ہتھیار موجود ہو تو وہ طاقتور انسان کے ہوش و حواس کافور کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ ملک میں امن و امان کا قیام اسی صورت ممکن ہے جب ہر قسم کے اسلحے کے استعمال پر پابندی عائد کردی جائے۔ ظاہرجب ملک میں اسلحہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی تو امن کے دشمنوں کی ساری طاقتیں سلب ہو جائیں گی اور حالات یکسر بدل جائیں گے ۔

ہمارے میڈیا پر بھی اکثر تفریح کے نام پرایسے پروگرام پیش کئے جاتے ہیں جن میں مار دھاڑ اور گولیاں چلانے کے مناظر دکھائے جاتے ہیں اور جس سے بچے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے کچے ذہنوں کو یہ مناظر اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو کسی انگریزی فلم کا ہیرو تصور کرلیتے ہیں اور پھروہ پستول یا بندوق تھام کر گولیاں چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خوشی کے مواقع پر بھی ہوائی فائرنگ سے بھی بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔

ان حادثات کے روک تھام کی ذمہ داری حکومت سے زیادہ عوام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خود اپنی جانوں کی حفاظت کریں اور ایسے خطرناک کھیل سے پرہیز کریں کیونکہ کسی بھی حکومت کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ ملک کے ہرشہر،ہر قریے، ہر گاؤں اور ہر دیہہ میں پولیس تعینات کرے جو عوام کی نقل و حرکت پر نظر رکھے اور فائرنگ کرنے والوں کو گرفتار کرے ۔اس حوالے سے عوام کو خود اپنے اندر یہ شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کی تفریح کسی کی قیمتی جان بھی لے سکتی ہے ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے جب تک غیرقانونی ہتھیار رکھنے پر پابندی عائدنہیں کریں گے اس وقت تک معاشرے میں امن کا تصور مشکل ہوگا۔ انسانیت کا مطلب ایک دوسرے سے محبت کرنا ، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں کام آنا، ایک دوسرے کی مشکل میں اس کے ساتھ کھڑے ہونا ہے ۔

اسلحہ کی نمائش کرکے لوگوں کو خوف زدہ کرنایا ان کو ڈرانا ، دھمکانا ، انسانیت کے زمرے میں نہیں آتا۔ہمیں چاہئے کہ ہم اچھے انسان بن کرایک دوسرے کے کام آئیں نہ کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں قوانین تو بہت ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ لوگ قانون کی دھجیاں اڑاتے، دندناتے پھرتے ہیں۔ دوسری طرف ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہمارے بعض ذمہ دارادارے بھی اپنا کام ٹھیک طرح سے انجام نہیں دیتے ۔ ان میں ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جن کو اپنی جیبوں کی فکر ہوتی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ قانون ہمارے ملک میں صرف اور صرف غریب عوام کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ہماری پولیس بھی بے بس نظر آتی ہے ۔ جب تک ایسے طاقت ور اوربااثرلوگوں کا تسلط ختم نہیں ہوگا، ہمارا ملک ترقی و خوشحالی کی ڈگر پر نہیں چل پائے گا، نہ ملک میں سماجی بہتری آئے گی۔ انسانوں کی زندگی کا بنیادی حق ان کی زندگی کا تحفظ ہے جو اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب اسلحے سے پاک معاشرہ ہو کیونکہ اسلحے کی فراوانی انسانوں کے سکون، چین اور دل کے قرارکی قاتل ہے ۔ یہ نہتے ، سادہ لوح عوام کو خوف و ہراس کی وادیوں میں دھکیل دیتی ہے۔ جب تک پورے ملک سے غیرقانونی اسلحہ کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک امن و سکون ناممکن ہی دکھائی دیتا ہے۔

1