تازہ ترین



سیکشن: سیاسی تجزیے

او پی ایف

shadow
 
1979 ءمیں اوورسیزپاکستانیز فاونڈیشن کے قیام سے آج تک پاکستان سے پرواز کرنے والے ہر چوتھے یا پانچویں ہوائی جہاز کی منزل مقصود جدہ یا ریاض ہوتی تھی
 
جاوید اقبال
 
سفارتخانہ پاکستان کے آڈیٹوریم میں پرجوش کمیونٹی سے اوورسیز پاکستانیز فاونڈیشن کے چیئرمین بیرسٹر امجد محمود ملک کے خطاب نے مجھے عرصہ قبل ٹیلیویژن پر دوسری عالمی جنگ کے موضوع پر دیکھی ایک فلم یاد دلا دی۔
پرل ہاربر پر جاپان کے تباہ کن حملے کے بعد امریکی بحریہ سمندروں کو تاخت و تاراج کرنے نکل کھڑی ہوئی تو بحرالکاہل میں اس کا ایک بحری جنگی جہاز جاپانی آبدوز کے نشانے پر آگیا۔ آبدوز سے چلے گولے نے جہاز کے پیندے میں سوراخ کردیا تاہم جہاز کے چلائے تارپیڈو نے آبدوز کو بھی جالیا۔ دونوں کی غر قابی کا عمل شروع ہوا۔ امریکی جہاز کے کپتان نے فوراً ایس او سگنل نشر کردیا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں بحرالکاہل میںہی موجود ایک اور بحری جہاز مدد کو پہنچ گیا۔ تب تک جہاز کا خاصا عملہ ڈوب چکا تھا۔ کپتان اور چند ملاحوں کو بچالیاگیا۔ آبدوز کا جاپانی کمانڈر مال غنیمت میں ہاتھ لگا۔ نیویارک میں فوجی عدالت میں دونوں پر مقدمہ چلا۔ جاپانی تو دشمن تھا ہی اس کی جان بخشی کیسے ہوتی؟ امریکی بحری کپتان پر فرائض میں غفلت برتنے اور بروقت جاپانی آبدوز کی موجودگی کا پتہ نہ لگانے پر ۔ اب صورت یہ بنی کہ دونوں کی کوٹھڑیاں متصل رکھی گئیں۔ پہلی پیشی کے دن جاپانی کمانڈر کو اس کی کوٹھڑی سے نکال کر عدالت کی طرف لے چلے تو ملحقہ کوٹھڑی کی سلاخوں کے پیچھے امریکی کپتان سر جھکائے بیٹھا تھا۔ جاپانی اپنے دشمن کے سامنے ایک لحظے کے لئے رکا اور پھر بڑی ادا سے مسکراہٹ کے ساتھ بولا
Captain! Its difficult to be a survivor
سفارتخانے میں بیرسٹر امجد ملک کا خطاب سن کر جاپانی کمانڈر کا کہا یہ جملہ بے طرح ذہن میں گونج گیا۔ گزشتہ 35 برسوں سے یہ طرفہ تماشا دیکھتا آرہا ہوں۔ وزراءاور اوپی ایف کے افسران کا کاروان اس آڈٹیوریم میں سے گزرتا رہا ہے۔ ان صحراوں میں باد سموم سے سوختہ بدن دلوں میں آرزووں کے چراغ روشن کئے ان ہی نشستوں پر بیٹھتے رہے ہیں۔ وطن عزیز میں اپنی بے وقعتی اور اپنے پیاروں کی بے بسی کا رونا روتے دوروں پر آئے پروقار و تمکنت حکومتی شخصیات سے مدد کے طالب ہوتے رہے ہیں اور وعدے سن کر زندہ باد کے نعروں سے فضا پھر لرزہ طاری کرتے رہے ہیں او رپھر کوئی وعدہ پورا نہ ہونے پر مایوس و دلگیر بھی ہوتے رہے ہیں۔ میں ان برسوں کا چشم دید گواہ ہوں ۔
1979 ءمیں اوورسیزپاکستانیز فاونڈیشن کے قیام سے آج تک ، کوئی ساڑھے تین دہائیاں قبل پاکستان سے پرواز کرنے والے ہر چوتھے یا پانچویں ہوائی جہاز کی منزل مقصود جدہ یا ریاض ہوتی تھی۔ غروب کے بعد ریاض کا افق منور ہوجاتا تھا۔ ہوا میں تعمیراتی مشینیں بگلوں کی طرح سر اٹھائے ہوتی تھیں۔ دن رات ایک ہوگئے پاکستانی محنت کش پسینے میں شرابور تھکن سے بے نیاز موتیوں کی طرح حسین ہر عمارت کی ہر اینٹ پر اپنی انگلیوں کے نشان چھوڑتے رہے۔ تب ہی اوورسیز پاکستانیز فاونڈیشن کی داغ بیل رکھی گئی اور وزارت محنت وافرادی قوت کو اس کا نگراں ٹھہرایا گیا۔
سعودی عرب میں دورے پر آنے والے وفاقی وزیر غلام دستگیر خان سب سے پہلے آئے۔ انہوں نے سفارتخانے میں محنت کشوں سے ملاقات کی اور ان کی تجاویز اور شکایات سن کر فوری اقدامات کا وعدہ کیا۔ وہ گئے، اگلے آئے، وہ بھی گئے اور نئے نئے آتے گئے۔ جو بھی آتا سفارتخانے سے پروٹوکول حاصل کرتا، اپنے ہموطنوں کے ہجوم سے خطاب کرتا اور پھر عمرے کیلئے عازم مکہ ہوجاتا۔ اسے تارکین وطن کو پاکستان میں درپیش مسائل سے زیادہ اپنے دورے کے بخوبی اختتام کی زیادہ فکر ہوتی۔ بڑے المناک واقعات بھی پیش آتے رہے۔ ایک کاذکر کرنا مناسب ہوگا۔
چند برس پہلے او پی ایف کی چیئرپرسن ایک محترمہ تھیں۔ ریاض کے دورے پر آئیں۔ ہمراہ 3 نائبین بھی تھے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ اوپی ایف کے بورڈ آف گورنرز کیلئے 3 ارکان ریاض میں مقیم پاکستانیوں سے نامزد کئے گئے تھے۔ اب اس بورڈ کی دوبارہ تنظیم ہونے کو تھی ۔تینوں کی خواہش تھی کہ انہیں پھر نامزد کردیا جائے ۔ یہ بہت کچھ چیئرپرسن کی مرضی پر منحصر تھا۔ چنانچہ محترمہ کا سعودی دارالحکومت میں فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بڑے اہتمام سے خصوصی پروٹوکول دے کر انہیں ہوائی اڈے پر الوداع کہاگیا۔ اسلام آباد پہنچتے ہی محترمہ ریٹائر ڈ ہوکر گھر بیٹھ گئیں۔ کھوہ کھاتے! 
چند برس قبل ہمارے ایک وفاقی وزیر محنت اور افرادی قوت ریاض آئے۔ ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں چیدہ چیدہ پاکستانی عمائدین سے خطاب کیا۔ میں نے انہیں انٹرویو کیا پھر میں نے ان سے عرض کی کہ انہوں نے ایسے سامعین سے خطاب کیا تھا جن کی اکثریت دہری شہریت رکھتی تھی اور جنہوں نے اپنا سرمایہ امریکی یا یورپی بینکوں میں رکھا ہواتھا۔ ان کے سوال کرنے پر میں نے رائے دی کہ انہیں ایسی جگہوں اور ڈیروں پر بھی جانا چاہیئے تھا جہاں رہائش پذیر محنت کش ہر ماہ کی یکم کو اپنے مشاہرے کو بلا ناغہ وطن عزیز کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ وزیر محترم خاموش رہے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں اٹھی غصے کی لہر میں نے فوراً پڑھ لی۔
اوپی ایف تقریباً 4 دہائیوں سے تماشا لگائے بیٹھی ہے۔ صرف سعودی عرب سے گزشتہ برس ساڑھے 5 ارب ڈالر کی ترسیل زر کی گئی تھی۔ 26 لاکھ 70 ہزار پاکستانی تارکین یہاں قیام پذیر ہیں۔ اکثریت کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ او پی ایف کس بلا کا نام ہے۔ مملکت میں تو ان کے امور سفارتخانہ اور قونصلیٹ کم اہلکار اور حدود و قیود ہونے کے باوجود سفیر پاکستان منظور الحق کی نگرانی میں انتہائی خوش اسلوبی سے نمٹا رہے ہیں ان محنت کشوں کو شکایات اپنے وطن سے ہیں۔ وہاں ہوائی اڈوں پر اترتے ہی امیگریشن اور کسٹمز کے اہلکاروں کی نظریں شکار کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہیں۔ اراضی پر اجنبی قابض ہوچکے ہوتے ہیں۔ اقرباءسے مکانوں کو واگزار کرانا ممکن نہیں رہتا۔ اولا کی تعلیم کے بکھیڑے ہیں۔ او پی ایف کے اہلکاروں کے کارواں گزرتے رہے ، کارواں گزرتے رہیں گے۔ وعدے ہوتے رہے ، وعدے ہوتے رہیں گے اور سادہ لوح تارکین وطن بھی بہتے دریا میں بنیاد مکاں رکھتا رہے گا۔ 
بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ بلند بام ابھی
٭٭٭٭٭٭ 
1