تازہ ترین



سیکشن: اسپورٹس پلس

ون ڈے اورٹی 20 میں ہندوستانی ٹیم کی فتوحات

shadow
 
 ہند کو یہ دونوں سیریز جیتنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا نا پڑے گا، انگلینڈ کے کھلاڑی نوجوان اور بڑجوشیلے ہیں، نئے خون اور تجربہ کے آمیزش سے انگلستان کی یہ ٹیم دھونی الیون کے دانت کھٹے کر سکتی ہے
 
اجمل حسین ۔۔ نئی دہلی
 
حال ہی میں انگلستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کے بعد اب ٹیم انڈیا نئے سال یعنی2017کا آغاز انگلستان کے خلاف3 ون ڈے میچوں اور 3 ہی ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے ساتھ مہاراشٹر کے شہر پونے میں15جنوری سے کر رہی ہے۔اگرچہ کرکٹ حلقوں میں یہی بات گردش کر رہی ہے کہ ٹیم انڈیا یہ دونوں سیریز بھی جیت لے گی۔لیکن ساتھ ہی اس خیال کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ یہ دونوں سیریز ٹیسٹ میچوں کی طرح شاید حلوہ ثابت نہ ہوں ۔یہی نہیں بلکہ ٹیم انڈیا کو یہ دونوں سیریز جیتنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا ناپڑے گا۔ کیونکہ انگلستان کے ون ڈے میچز کی ٹیم میں شامل کیے گئے کھلاڑی نہ صرف نوجوان اور بڑے جوشیلے ہیں بلکہ نئے خون اور تجربہ کے آمیزش سے انگلستان کی یہ ٹیم مہندر سنگھ دھونی کی قیادت والی ٹیم انڈیا کے دانت بھی کھٹے کر سکتی ہے اور دم دینے سے پہلے آخری دم تک لڑ کر ٹیم انڈیا کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر سکتی ہے۔اب یہ دونوں سیریز دونوں ٹیمیں نئے کپتان کی قیادت میں اپنے دم خم دکھائیں گی۔ ٹیم انڈیا کی کمان مہندر سنگھ دھونی تو انگلستان کی قیادت ایون مورگن سنبھالیں گے۔
مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 93ون ڈے میچز کھیلے گئے ہیں جن میں ہندوستان نے تو میچ جیتنے کی ہاف سنچری کر لی جبکہ انگلستان نے 38میچز ہی جیتے ہیں۔دو میچ ٹائی ہوگئے اور 3 میچ بے نتیجہ رہے۔یوں تو ہندوستان اور انگلستان کے درمیان کئی میچز بڑے دلچسپ اور سنسنی خیز رہے اور میچ کے نشیب و فراز اس غضب کے تھے کہ اسٹیڈیم میں موجود کرکٹ شوقین اور ٹی وی کے سامنے بیٹھے ناظرین کے دل اچھل کر حلق میں آتے رہے۔اور ایسے حالات رہے کہ آخری گیند تک کسی ٹیم کو حتمی فاتح نہیں سمجھا جاتا تھا۔لیکن کم از کم دو میچ تو ایسے رہے کہ اگر ایک میچ کی یادوں سے انگلستان پیچھا چھڑانا چاہتا ہے تو ایک میچ کی تلخ یادوں کو ٹیم انڈیا نہ صرف فراموش کر دینا چاہتی ہے بلکہ بس چلے تو اس میچ کو ون ڈے میچوں کی کرکٹ تاریخ سے کھرچ پھینکے۔ 
13جولائی 2002کولارڈز کے تاریخی میدان پر ٹیم انڈیا اور انگلستان کے درمیان کھیلا گیانٹ ویسٹ ٹرافی کا یہ فائنل میچ جس میں یووراج سنگھ اور محمد کیف کی طوفانی اور میچ وننگ اننگز کے بعد جیت کی خوشی میں اس وقت کے کپتان سوربھ گنگولی کا بالکونی میں اپنی قمیص اتار کر لہرائی تھی انگلستان کا ہر کھلاڑی فراموش کرنا اور ہر ہندوستانی کھلاڑی اس کی خوشگوار یادوں کو ہمیشہ گلے لگائے رکھنا چاہے گا ۔یہ وہ میچ تھا جو کبھی انگلستان میںحق میں جاتا نظر آتا تھا تو اگلے ہی لمحہ ہندوستانی بلے بازوں کو اسے اپنی ٹیم کے حق یں موڑتے دیکھا جاتا تھا۔حالات ایسے ہوگئے تھے کہ کوئی حتمی طور پر کہہ ہی نہیں سکتاتھا کہ میچ کا فیصلہ کس کے حق میں جائے گا۔انگلستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ50اووروں میں جیسے ہی محض5وکٹ پر 325رنز بنائے ٹیم انڈیا کی شکست ٹارگٹ کا تعاقب کرنے سے پہلے ہی نوشتہ دیوار نظر آنے لگی۔انگلستان کی جانب سے مارک ٹریسکوتھک اور کپتان ناصر حسین نے سنچریاں بنائیں۔
کپتان سوربھ گنگولی اور وریندر سہواگ نے پہلے وکٹ کی رفاقت میں106رنز بنا کر آغاز تو اتنا شاندار کیا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ ٹیم انڈیا کو میچ جیتنے میں زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے گی۔لیکن ابھی افتتاحی وکٹ کیلئے106رنز میں مزید 40رنز کا ہی اضافہ ہوا تھا کہ وریندر سہوگ کے بعد سوربھ گنگولی، سچن ٹنڈولکر، راہل دراوڑاور دنیش مونگیا آوٹ ہو چکے تھے۔انگلستان کے کھلاڑیوں کی خود اعتمادی آسمان سے باتیں کر رہی تھی اور اس کے پرستاروں نے خوشی سے جھومنا شروع کر دیا تھا۔دوسری جانب ہندوستانی ٹیم کے پرستار کے چہروں پر مایوسی کے آثار نظر آرہے تھے۔اور وہ امید کا دامن چھوڑتے جارہے تھے۔لیکن یووراج اور محمد کیف نے چھٹے وکٹ کے لیے اچھی ساجھے داری کرنا شروع کی تو کچھ امید جاگی ۔ان دونوں نے پہلے بہت محتاط انداز سے کھیلا اور اس کے بعد انگریز بولروں پر ایسے حملہ ور ہوئے کہ وہ بوکھلا اٹھے اور دونون نے چھٹے وکٹ کے لیے121رنز بنا کر ٹیم انڈیا کے خیمہ میں جوش پیدا کر دیا۔
یووراج کے آوٹ ہونے کے بعد میچ ایک بار پھر دونوں کے حق میں ڈانواں ڈول ہونے لگا۔ٹارگٹ تک پہنچنے کی کوشش میں ٹیم انڈیا انل کمبلے اور ہربھجن سنگھ سے بھی محروم ہو گئی لیکن کیف کہاں ہار ماننے والے تھے انہوں نے چھ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 87رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کو دو وکٹ سے جیت دلادی۔انگلستان کے خلاف ہندوستان کی یہ پہلی اتنی شاندار کامیابی تھی۔ حسن اتفاق سے ہندوستان کو انگلستان کے خلاف اپنی سب سے بری ہار بھی لارڈس کے تاریخی میدان پر ہی ملی۔. یہ وہ دور تھا جب ہندوستان ون ڈے کرکٹ میں نووارد تھا۔ سال 1975 کے پروڈےینشیل ورلڈ کپ میںہندوستانی ٹیم کی کپتانی وےنک راگھون کر رہے تھے تو انگلینڈ کے کپتان مائیک ڈینس نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ہندوستانی گیند بازوں کی خوب خبر لی اور مقرر 60 اوورمیں چار وکٹ پر 334 رنز بنائے۔انگلش ٹیم کی جانب سے ڈینس اےمس نے 137 اور کیتھ فلیچر نے 68 رنز کی اننگز کھیلی یہ وہ دور تھا جب ون ڈے میچ میں سنچری بنانا بھی زبردست کارنامہ سمجھا جاتا تھا۔
ٹیم انڈیا کے تمام بولر وں کی انگریز بلے بازوں نے بری درگت بنائی۔جب ہندوستانی ٹیم نے تعاقب شروع کیا تو لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ٹیم انڈیا جیتنے کی کوشش کر رہی ہے ۔بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ ہندوستان میچ ڈرا کرنے کے لیے کھیل رہا ہے۔سنیل گواسکر تو یہ میچ کبھی یاد نہیں رکھنا چاہیں گے۔انہوں نے اننگز کا آغاز کرنے کے بعد اپنی وکٹ میچ کی آخری گیند تک نہیں گرنے دی اور178گیندوں کا سامنا کیا اور صرف 36 رنز بنائے۔اس اننگز میں ایک چوکا شامل تھا۔ دیگر بلے بازوں کی کارکردگی بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ گواسکر کے ساتھ اننگز شروع کرنے والے ایکناتھ سولکر نے 34 گیندوں پر 8 اور اشمن گایکواڑ نے 46 گیند پر 22 رنز بنائے۔ وشواناتھ ہی کچھ مزاحمت کر سکے۔. میچ میں ہندوستانی ٹیم نے پورے 60 اوور کھیلے اور اورتین وکٹ پر صرف132 رنزبنائے اور ہندوستانی ٹیم 202 رن کے بڑے فرق سے ہارگئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹیسٹ سیریز کے بعد دھونی اور ان کے لڑکے ٹیسٹ میچوں سے زیادہ عمدہ پرفارمنس دیتے ہیں یا انگلستان کے کھلاڑی انہیں پست کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ 
٭٭٭٭٭٭
1