تازہ ترین



سیکشن: ہموطن

جدہ: شاعر و کالم نگار حلیم بابر کے اعزاز میں تقریب

shadow
 
حلیم بابر کی 5 دہائیوں پر مشتمل خدمات پر مقالہ پڑھاگیا، بزم عثمانیہ جدہ عارف قریشی نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا ، مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا
 
عارف قریشی ۔ جدہ
 
بزم عثمانیہ جدہ کے زیر اہتمام حیدرآباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی کے فارغ والتحصیل ممتاز عثمانین شاعر، دانشور اور کالم نگار حلیم بابر کے اعزاز میں جدہ کے ریستوران میں خیر مقدمی تقریب اورمشاعرہ (جشن حلیم بابر) کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت صدر بزم عثمانیہ جدہ عارف قریشی نے کی۔ مشاعرے کی صدارت حلیم بابر نے کی ۔مہمان خصوصی صدیق فرید الوحیدی تھے۔ سعودی شخصیت احمد عطا ءاللہ فاروقی نے مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔ صدر بزم عثمانیہ جدہ عارف قریشی نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ تقریب کا مقصد حلیم بابر کی (50سالہ) دیرینہ ادبی و شعری خدمات اعتراف کرناہے۔ حلیم بابر نے اپنی زندگی اردو ادب اور شعر و شاعری کے لئے وقف کردی ، انہیں اردو ادب کی خدمات پر کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔
تقریب کا آغاز قاری محمد آصف کی قرا¿ت کلام پاک سے ہوا۔ نعت شریف افضل نے پیش کی۔ بعدازاں حلیم بابر نے نعت پیش کی۔ سامعین نے انکی نعت کو بیحد پسند کیا۔ محمد یوسف نے ترنم سے حلیم بابرکی غزل پیش کرکے سماں باندھ دیا۔ فراز وحیدی نے ا پنے داد ا فرید الوحیدی کی نعت ترنم سے پیش کی۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے محمد اشفاق نے حلیم بابر کی 5 دہائیوں پر مشتمل خدمات پر بزم عثمانیہ جدہ کے نائب صدر عارف مسعود صدیقی نے مقالہ پڑھا۔ جس میںحلیم بابرکی5شعری کتابوں کا ذکر کیا گیا۔
بزم عثمانیہ جدہ کی جانب سے حلیم بابر کی شال پوشی کی گئی اور انہیں خوبصورت مومنٹو پیش کیا گیا۔ بعدازاں صدر مشاعرہ حلیم بابر نے ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے عارف قریشی کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ اردو زبان و ادب کے سچے خدمت گزار کی حیثیت سے نہ صرف جدہ بلکہ حیدرآباد میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
حلیم بابر نے اپنی کئی غزلیں ترنم سے پیش کیں ۔ہر شعر پر انہیںزبردست داد تحسین سے نوازا گیا۔مشاعرے میں جدہ کے ممتاز شعرائے کرام نے شرکت کی ۔ان میںمہتاب قدر، افسر بارہ بنکوی، عرفان بارہ بنکوی، نعیم حامد علی، شہریار الطاف ، فیصل بیلن نظام آبادی، نور جمشید، فارس وحیدی، عارف مسعود قریشی، زمرد سیفی، فیاض قریشی کے علاوہ خاتون شعراءمیں سعودی خاتون شاعرہ سمیرہ عزیز،صوفیہ حامد، مونا نجمی اور مشاعرے کے مہمان خصوصی صدیق فرید الوحیدی و مہمان اعزازی احمد عطاءاللہ فاروقیش امل تھے ۔ مشاعرے کے بعد پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ نائب صدر عارف مسعود کے شکریہ پر جلسے و مشاعرے کا اختتام عمل میں آیا۔ مشاعرے میں ہندوستانیوں کے علاوہ سعودی حضرات نے بھی شرکت کی۔ ان کا تعلق کئی سال قبل ہندوستان سے تھا۔
٭٭٭٭٭٭
1