تازہ ترین



سیکشن: سیاسی تجزیے

جنرل راحیل کی عالم اسلام کیلئے نئی ذمہ داری

shadow
 
وزیراعظم سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرینگے تاکہ فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کے بعد دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے
 
محمد اسلم محمود بٹ
 
پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل(ر) راحیل شریف کو دہشت گردی کیخلاف سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے 39 ملکی اتحاد کا سربراہ مقرر کیا جانا بے حد خوش آئند اقدام خیال کیا جارہا ہے۔ دہشت گردی کے ذریعے عالم اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کیخلاف عالم اسلام کے سالار ملک سعودی عرب کا کھڑا ہوجانا ایک احسن اقدام ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہونگے۔ دہشت گردوں کیخلاف سخت ترین اقدامات کا آغاز ہوچکاہے۔ یہ اتحاد 2015 ءمیں قائم کیا گیا تھا جس میں مصر، ترکی، متحدہ عرب امارات ، ملائیشیا اور پاکستان سمیت ابتداءمیں 34 ممالک شامل تھے جن میں اضافے کے سبب ان کی تعداد اب 39 تک جاپہنچی ہے جس کی سربراہی کا اعزاز پاکستان کے سابق سپہ سالار کو حاصل ہواہے جو تمام پاکستانیوں کیلئے باعث تقویت ہے۔
سعودی عرب کو بھی شاید اس حقیقت کا علم ہوچکا تھا کہ راحیل شریف پاکستان میں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کرنے کے سبب عوام میں مقبولیت حاصل کرچکے ہیں اور دھن کے پکے بھی ثابت ہوئے ہیں نیز بے حد حساس بھی ہیں جن کو بعض برگشتہ سیاست دانوں کی جانب سے اپنی سروس میں توسیع کا خواب دیکھنے کے طعنے اس قدر گراں گزرے تھے کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک سال پہلے ہی یہ اعلان کردیا تھا کہ وہ اپنے عہدے کی میعاد کے خاتمے کے ساتھ ہی پاک فوج کی قیادت نئے سپہ سالار کو سونپ دیں گے۔ بعض حلقے ان کے اس پیشگی اعلان سے چونک اٹھے تھے جنہوں نے راحیل شریف کو اقتدار پر قابض ہوجانے کی ترغیبات دینا شروع کردیں اور شہروں کے چوراہوں پر یہ بینرز آویزاں کرنا شروع کردیئے کہ قوم کو ان کی بے حد ضرورت ہے۔ جنرل (ر) راحیل شریف اس کے باوجود اپنے سابقہ اعلان کے تحت اپنی سروس میں توسیع پر آمادہ نہیں ہوئے اور حکومت انہیں بے پناہ عزت و تکریم کے ساتھ رخصت کرنے پر آمادہ ہوگئی۔
پاکستان میں ایسے مناظر کم دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جانے والا سپہ سالار آنے والے سپہ سالار کو خوش دلی کے ساتھ خوش آمدید کہے اور آنے والا سپہ سالار فرط جذبات سے جانے والے سپہ سالار سے بغل گیر ہوجائے۔ صورتحال وزیراعظم نواز شریف کی حسن انتخاب سے رونما ہوئی جنہوں نے شہید والد اور شہید بھائی کا اعزاز حاصل کرنے والے فوجی افسر راحیل شریف کو اس مرتبے پر بٹھایا۔ جس نے جمہوریت کے ساتھ مثالی وفا کی اور اسے پروان چڑھایا۔ ان کے دور میں ایسے حالات برپا ہوئے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ایک نہایت پراسرار سیاست دان علامہ ڈاکٹر طاہر قادری نے حکومت کیخلاف طویل ترین دھرنوں کے ذریعے انہیں مجبور کرنے کی کوشش کی کہ وہ اقتدار پر قابض ہوجائیں۔ سعودی عرب اور پاکستان بے حد قریبی تعلقات کے حامل ہیں بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ممالک یک جان اور دو قالب ہیں اس لئے باور کیا جاتا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف دہشت گردی کیخلاف بہت قابل قدر اقدامات کریں گے اور دہشت گردی کا خاتمہ کرسکیں گے جو عالم اسلام کیلئے بے پناہ تکلیف دہ امر ثابت ہوچکا ہے۔
ادھر پاکستان میں عدالت عظمیٰ پانامہ لیکس کے معاملے میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا آغاز کرچکی ہے۔ پیر کو عدالت نے درخواست گزار کے وکیل نعیم بخاری سے کہا کہ جب بھی عدالت ان سے قانونی امور پر سوالات کرتی ہے تو وہ بہانے بناکر پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔ ایک موقع پر بنچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت سماعت کا دائر کار وسیع نہیں کرنا چاہتی کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اسکی زد میں آجائیں۔ عدالت نے کہاکہ اگر دروغ گوئی کے الزامات پر کارروائی کی گئی تو شاید کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ اسی اثناء آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے خوفناک اور دردناک حملے کے بعد حکومت نے دو سال کی میعاد کیلئے جو فوجی عدالتیں قائم کی تھیں ان کی میعاد کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ بظاہر دیگر سیاسی جماعتیں ان کی توسیع میں اضافے پر آمادہ نہیں کیونکہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان خلیج گہری ہوتی چلی جارہی ہے اور ان کے د رمیان فروعی امور پر اختلافات برقرار ہیں۔ وزیراعظم نے پیر کو وزیراعظم ہاوس میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی جس میں نئے آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے شرکت کی۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں فوجی عدالتوں کے میعاد کے خاتمے پر غور کیا گیا جس کے بعد اصولی طور پر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاق رائے کرلیا گیا جس کیلئے آئینی ترمیم پر مشاورت کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کریں گے تاکہ فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی جاسکے اور دہشت گردوں کا مکمل سدباب کیا جاسکے۔ 
باور کیا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود دیگر سیاسی جماعتیں حکومت کے عزائم میں رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ پیپلز پارٹی کے سربراہان آصف زرداری اور بلاول بھٹو دونوں ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی سیاست کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اس لئے یہ دونوں رہنما اپنے موقف میں نرمی اور تبدیلی لانا چاہیں گے۔ بلاول وزیراعظم نواز شریف پر کڑی نکتہ چینی کررہے ہیں جو حکومت کے لئے تشویش کا باعث ہے کیونکہ حکومت زرداری کے معاندانہ طرز عمل پر سکون کا سانس لے رہی ےہ اور اس امید کا اظہار کررہی ہے کہ وہ فوجی عدالتوں میں اضافے کی تجویز کا فیصلہ کرسکتے ہیں اگر انہوں نے ایسا کیا تو فوج کے ساتھ ان کے تعلقات میں بہتری آسکتی ہے اور ان کی تقریباً دو سال پہلے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی سے پیدا شدہ حالات کسی نہ کسی حد تک معمول پر آسکیں گے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ ملک سے فوج کیخلاف بیا ن بازی کے بعد فرار ہوچکے ہیں مگر وہ بھی موجودہ حالات میں نواز شریف کیخلاف ریلیوں کے آغاز کیلئے تعاون کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور ملکی سیاست پیچیدہ ترین ہوچکی ہے۔ 
******
1