تازہ ترین



سیکشن: پاکستان

کیا نواز شریف کا جائداد اور رقم سے کوئی تعلق نہیں،سپریم کورٹ

shadow
اسلام آباد... سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دئیے کے وزیراعظم کے وکلاءپر ثبوت دینے کی ذمہد اری ہے ۔ آپ کا کام ہے کہ عدالت کو مطمئن کیا جائے۔ وزیر اعظم کی وضاحت سے معاملہ کلیئر نہیں ہوتا ۔وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے جمعرات کو اپنے دلائل جاری رکھے۔انہوںنے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کا کسی آف شور کمپنی سے تعلق تھا اور نہ ہے۔نواز شریف کی برٹش ورجن آئی لینڈ میں کوئی کمپنی نہیں اور نہ وہ کسی آف شور کمپنی کے ڈائریکٹر، شیئر ہولڈر یا بینیفیشل مالک ہیں۔انہوںنے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں نے پٹیشن میں نواز شریف پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد ہی نہیں کیا اور نہ الزامات کی درست وضاحت کی گئی۔انہوںنے وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بچوں سے متعلق کاروبار شروع کرنے کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ کہا تھا کہ جدہ فیکٹری کا سرمایہ بچوں نے کاروبار کے لئے استعمال کیا۔ پی ٹی آئی کی درخواست اور دلائل میں تضاد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میاں شریف کی وفات کے بعد ہدایات کے مطابق حسین نواز کو کاروبار منتقل ہوا۔نواز شریف کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔جسٹس کھوسہ نے سوال کیا کہ کیا نواز شریف کا کاروبار اور رقم سے کوئی تعلق نہیں؟ اگر تعلق نہیں تو پھر لندن فلیٹس کی منی ٹریل کیسے دی۔ جسٹس کھوسہ نے کہاکہ ہمارے سامنے2 اقسام کی منی ٹریل ہیں، پہلی یہ کہ پیسہ دبئی سے جدہ اور پھر لندن گیا ،دوسری یہ ہے کہ پیسہ دبئی سے لندن اور پھر قطر گیا۔جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ نواز شریف کا لندن جائداد سے کوئی تعلق نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ لندن جائدادیں وزیراعظم کے بچوں کی ہیں یا کسی اور کی ہیں۔جسٹس کھوسہ نے وزیراعظم کے وکیل کہا کہ وہ عدالت کو مطمئن کریں۔جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ دبئی مل کا وجود ثابت کرنا درخواست گزار کا کام ہے۔ اس معاملے پرعدالت کمیشن بنائے جو دبئی جاکر الزامات کا جائزہ لے۔
 

 

1