تازہ ترین



سیکشن: خبریں

جن کھیتوں میں باردو بویا جائے پھول نہیں کھلتے، نواز شریف

shadow


    اسلام آباد...... وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہند7لاکھ فوج کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچل نہیں سکا اور نہ وہ کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم رکھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواہش ہے کہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے میں مقابلہ ہو لیکن بے روزگاری اورغربت کے خلاف جنگ بارود سے نہیں لڑی جا سکتی۔بدھ کو پارلیمان کے خصوصی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ برہان وانی کی شہادت کشمیریوں کو فیصلہ کن موڑ تک لے آئی ہے۔ معصوم لوگوں کے سینے چھلنی کرنے اور ان کے چہرے مسخ کرنے اور انھیں اندھا کرنے سے اس تحریک کا راستہ نہیں روکا جا سکا۔انھوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے حکومت نے اہم اقدامات کیے ہیں۔ خود اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے رابطہ کیا۔ دفتر خارجہ نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کے سفیروں کو بریفنگ دی۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو خطوط لکھے گئے۔ خود جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران متعدد رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کی اور ا نہیں صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں ہمارا مقابلہ ہو تو یہ کام آگ و باردو کے کھیل کے دوران نہیں ہو سکتا۔ جن کھیتوں میں باردو بویا جائے ان میں پھول نہیں کھلتے۔ اگر آپ واقعی انقلاب چاہتے ہیں تو اپنے قول و فعل میں تضاد دور کیجیے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کو عالمی امن کے محافظ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ پاکستان نے متعدد مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی لیکن ہند ہمیشہ انھیں مسترد کرتا چلا آیا ہے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا معاملہ اٹھایا۔ پاکستان دنیا کے مختلف ممالک کو اس سلسلے میں آگاہ کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔ پاکستان کشمیرسمیت تمام معاملات مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے۔ جنگ کے خلاف ہیں، خطے میں امن چاہتے ہیں۔ ہند کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے لیکن کسی کی دھونس کو خاطرمیں نہیں لائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ہرقسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ حقیقی معنوں میں عوام میں تبدیلی لانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ یہ کام بارود ، آگ اور خون کے ذریعے ممکن نہیں۔ٹی وی رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کے لیے صرف اورصرف پاکستانی ہیں اور کسی کی دھونس کو خاطر میں نہیں لائیں گے ۔ کشمیر مسلسل آتش فشاں کی طرح سلگ رہاہے۔کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہورہی ہے ۔برہان وانی کی شہادت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو فیصلہ کن موڑ پر لے آئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تحریک آزادی کی باگ ڈورکشمیری نوجوانوں کے ہاتھ میں آگئی ۔ اہل کشمیر کے ساتھ پاکستان کا تاریخی رشتہ ہے۔پاکستان کشمیریوں سے ہر قسم کا تعاون برقرار رکھے گا۔ آج ہم پھر کشمیریوں کی آزادی کے عزم کااعادہ کرتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ہر ممکن کوشش کی ہند مذاکرات کی میز پر آئے لیکن بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کو مسترد کیا اور مذاکرات کی حوصلہ شکنی کی۔ کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دے کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے لیکن ہند عالمی برادری سے کئے گئے وعدوں سے کشمیریوں کو محروم نہیں کر سکتا۔انہوںنے کہا کہ کشمیرسمیت تمام معاملات مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ جنگ کے خلاف اور خطے میں امن چاہتے ہیں۔ہندکشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے۔ اڑی حملے کی ذمہ داری بغیرتحقیقات کے پاکستان پرڈال دی گئی۔ ہرقسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔حقیقی معنوں میں عوام میں تبدیلی لانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ یہ کام بارود ، آگ اور خون کے ذریعے ممکن نہیں۔ ا±ن کی خواہش ہے کہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے میں مقابلہ ہو لیکن بے روزگاری اورغربت کے خلاف جنگ بارود سے نہیں لڑی جاسکتی۔

1