تازہ ترین

سیکشن:دھنک



موبائل ، معاشرے کو لپیٹ میں لینے والی ’’سائنسی عنایت‘‘

بلا شبہ موبائل فون جیسی ’’سائنسی عنایت‘‘وقت کی ضرورت ہے مگر موبائل فونز پر ایس ایم ایس اور پیغامات کے پیکجز نے معاشرے کے تمام طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے عنبرین...

جذبۂ اُلفت سے سرشار ،منزلِ محبت کے مسافر

انسان جب انسانیت سے محبت کرتا ہے تو کوئی رکاوٹ کوئی آزمائش اسکا راستہ نہیں روک سکتی ۔ وہ مالک حقیقی کیلئے اپنے فرائض کی انجام دہی میں انہی محبتوں کے ہمراہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہےزینت شکیل۔جدہ وہ...

’’ مفلسی کی لاش اٹھائے کاندھے شل ہو چکے ‘‘

بیوی نے اس کا ساتھ دیا ، اس میں جینے کی امنگ پیدا ہوئی وہ دوبارہ عزم کے ساتھ زندگی کی طرف لوٹ آیا عنبرین فیض احمد ۔ ریاضاُس کی ماں کے کھانسنے کی آواز سے اس کے اٹھتے ہوئے قدم رک سے گئے اور وہ...

بچوں کابیباک دوست ،موبائل فون

آج کے بچے میں بچہ بچاہی نہیں،انہوں نے ا نٹرنیٹ کو ’’کرتا دھرتا‘‘ مان لیا ،موبائل فون بچو ں کا ہم جولی اور بے باک دوست بن گیا تسنیم امجد ۔ ریاض دور حاضر والدین سے تربیت...

اہلیہ، بیگم،بیوی اور جورو

ہمارے معاشرے میں تمام شادی شدہ خواتین ایک ہی قسم میں شمار نہیں کی جا سکتیں بلکہ ان کی 4واضح اقسام ہیں جو اہلیہ، بیگم، بیوی اور جورو کہلاتی ہیں شہزاد اعظم ۔ جدہ ہمارے معاشرے میںخواتین کے لئے...

صرف دل

’’عورت وہ ہستی ہے جو اپنی محبت، وفا، فرمانبرداری، انسیت، خدمت، ایثار، قربانی، نرمی، شفقت اور اپنائیت جیسی صفات کو یکجاء کر کے خاندان کو اک بند مٹھی کی طرح متحد رکھتی ہے شہزاد اعظم...

وہ سوچ رہا تھا’’میری شریک سفر واقعی عظیم ہے‘‘

ماں نے بیٹے سے کہا کہ شاید میری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی تھی جو تم نے کمزور عورت پر ہاتھ اٹھایا عنبرین فیض احمد ۔ ریاضوہ ایک سرکاری افسر تھا مگر مزاج کا بڑا شریف۔ کبھی کسی سے بلند آواز میں...

’’ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے‘‘

ہم شاید بھول گئے کہ ہمیں ہر عمل کا جواب دینا ہے، ہم نے دنیا کے عارضی پڑاؤ کو دائمی مستقر سمجھ لیا ہےتسنیم امجد ۔ ریاض جب کسی مظلوم کو انصاف نہیں ملتا اور ظلم اس کے سامنے دندناتا پھرتا ہے تو وہ...

خود کو عقل کل ٰ تصور کرنیوالے ناخواندگانِ وطن

مغربی ممالک ترقی پذیر ملکوں کے عوام کے جہل کا تمسخر اڑاتے ہیں،ہمارے حالات نے ہر فرد کے ہوش اڑا دیئے ہیں عنبرین فیض احمد۔ ریاض ہمارے معاشرے میں اپنے آپ کوعقل کل ٰ تصور کرنے والے ناخواندگانِ...

نہ چل پایا تھا بس کمہارپر تو:: گدھی کے کان اینٹھے جا رہے ہیں

ہمارے ہاں زندگی کے ہر شعبے میں کمہارموجود ہے ، وہ حاکم ہو یا محکوم، بے کار ہو یا ’’کاردار‘‘، کسی کی نہیں سنتا شہزاد اعظم۔جدہ اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ آپ کے خیال میں...

الصفحات