میڈیکل ویزہ سے زیادہ فائدہ غیر ملکی اٹھا رہے ہیں، حکومت ہند
نئی دہلی.... حکومت ہند نے سیاحت اور صحت کے شعبوں میں جو سہولتیں فراہم کی ہیں ان کا سب سے زیادہ فائدہ غیر ملکی افراد اٹھا رہے ہیںجن میں امریکہ کے شہری بھی شامل ہیں۔ مودی حکومت نے ہندوستانی اسپتالوں میں، جن میں سرکاری اور غیر سرکاری شعبہ شامل ہے علاج کرانے کیلئے میڈیکل ویزہ کا اجراءشامل کیا ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی اور یورپی مریضوں کا ایک طرح سے تانتا لگ گیا ہے کیونکہ امریکہ اور یورپ میں کسی بھی بیماری کا علاج انتہائی مہنگا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں جس بیماری کے علاج پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اسی علاج پر ہندوستانی اسپتالوں میں تقریباً10ہزار ڈالر صرف ہوتے ہیں جن میں آنے جانے کا فضائی کرایہ بھی شامل ہے۔ امریکہ سے آئے ایک مریض ہینری کونزک کو تنفس کا عارضہ لاحق تھا جس پر تمام اخراجات ایک لاکھ 30ہزار ڈالر بنتے تھے لیکن جب اس نے نئی دہلی کے اپولو اسپتال سے رابطہ کیا تو آمد ورفت کے کرائے سمیت اس کو علاج پر صرف 10ہزار ڈالر خرچ کرنا پڑے اور اسکا تسلی بخش علاج بھی ہوگیا۔ فورٹیز ہیلتھ کیئر کے انٹرنیشنل مارکیٹنگ ڈائریکٹر وینائک شوری نے بتایا کہ زیادہ تر امریکی مریضوں کی ہندوستانی اسپتالوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔حکومت نے میڈیکل ویزہ کی جو سہولت فراہم کی ہے اس نے ہندوستانی اسپتالوں کی آمدنی میں زبردست اضافہ کیا ہے بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے کہ متعدد اسپتالوں کی آمدنی کا دارومدار اب غیر ملکیوں پر ہوگیا ہے۔ وینائک شوری نے بتایا کہ میڈیکل ویزہ جون 2005ءمیں متعارف کرایا گیا تھا۔ جس کےلئے تقر یباً 150ممالک کے شہریوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کی دعوت بھی دیدی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2016ءمیں ایک لاکھ70ہزار میڈیکل ویزہ جاری کئے گئے جو 2015 ءکے مقابلے میں 45فیصد زیادہ ہے۔ اس طرح یہ بڑا کاروبار بن چکا ہے جس سے ملک کی غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہورہا ہے۔