کراچی (صلاح الدین حیدر )ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے یہ مان لیا کہ بغیر الطاف حسین کے ایم کیو ایم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی صرف یہی ایک نہیں دوسرے عوامل بھی تھے، جیسے پارٹی میں نظم و ضبط کا فقدان، پاک سرزمین پارٹی کی مداخلت سب نے ہی مل جل کر کام دکھا دیا۔ ایم کیو ایم آج اپنی قسمت کو رو رہی ہے۔پھر بھی عام خیال یہی ہے کہ فاروق ستار نے خفت مٹانے کے لئے اپنے بیان کو اس بات سے بھی مشروط کردیا کہ تینوں چیزیں اکٹھی ہوکر بھی 5 سے 10 فیصد نقصان نہیں پہنچاسکیں۔ دراصل یہ کچھ بیرونی عوامل تھے جنہوں نے اصل کام دِکھایا۔ صرف کراچی میں ہی نہیں، پورے پاکستان میں شور مچا ہوا ہے کہ ووٹ کو عزت نہیں دی گئی۔الیکشن کمیشن میں خامیاں تھیں۔پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے وقت پولنگ بوتھ سے باہر نکال دیا گیا۔انہیں فارم 45 بھی نہیں دیا گیا۔ ظاہر ہے نتائج مرضی کے مطابق بنوائے گئے۔ کچھ باتیں انہیں معلوم ہیں، جنہیں وہ برسرعام نہیں کہہ سکتے۔ کچھ باتیں ایسی ہیں جن کا ذکر عوام الناس کے سامنے ضرور کرسکتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ڈاکٹر فاروق ستار یہ بات جو ایک نجی ٹی وی سے بات کررہے تھے، سرے سے گول کر گئے کہ ر صرف اُن کی وجہ سے ایم کیو ایم ٹوٹی۔ بدقسمتی کا شکار ہوئے، محض ایک اپنے دوست کی خاطر جس کا پارٹی سے دُور دُور تک کوئی تعلق نہ تھا۔کامران ٹیسوری، جس کا داخلہ دبئی میں بند ہے اس لئے کہ وہاں بھی لوگوں کے پیسے خوردبرد کرکے بھاگا ہوا ہے۔اسے فاروق ستار نہ صرف پارٹی میں لے آئے بلکہ رابطہ کمیٹی میں بھی عہدہ دے دیا، بغیر کسی سے پوچھے، جو کہ ایم کیو ایم کی کتاب ہی سے خارج ہے، پھر اُسے ضمنی انتخاب لڑوایا جہاں وہ پیپلز پارٹی کے سعید غنی سے ہار گیا۔اُن کا اصرار تھا کہ اپوزیشن ابھی کسی حد تک صحےح معنوں میں متحد نہیں۔ اسی لئے ایم کیو ایم کا پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ تحریک انصاف کی حمایت کی تاکہ وفاق اور کراچی میں پی ٹی آئی نے جو کامیابی حاصل کی ہے اُس سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جاسکے۔عمران خان اور دوسروں نے کراچی کی ترقی کے لئے بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پھر ایم کیو ایم کے 7 ووٹ وزیراعظم کے انتخاب میں اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی لئے ایم کیو ایم نے بہت سوچ بچار کے بعد پی ٹی آئی کی حمایت کا فیصلہ کیا ۔فاروق ستار کا یہ کہنا کہ جس دن پریذائیڈنگ آفیسر جو کہ ایک پولنگ اسٹیشن کا انچارج ہوتا ہے، اُس نے زبان کھول دی تو بہت کچھ سامنے آجائے گا۔ سب کچھ کھل جائے گا۔ ایم کیو ایم کو اب لوگوں کی اُمیدوں پر پورا اترنا پڑے گا۔ دن رات ایک کرنا پڑے گا، اس لئے کہ ابھی بلدیاتی انتخابات سر پر ہیں، ہم نے وہاں اپنی کارکردگی دِکھانی ہوگی، ورنہ اﷲ ہی خیر کرے۔ایم کیو ایم نے اپنے پُرانے نظام کو چھوڑ کر غلطی کی، جس کی سزا اُنہیں ملی۔ اب اُنہیں اپنے طور طریقے بدلنے پڑیں گے، ورنہ پھر ہاتھ مَلنے کے سوا اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔شاید اُس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہو۔ چڑیا کھیت چُگ جائیں تو پھر پچھتانے سے فائدہ۔ وقت کی نزاکت کو سمجھنا چاہیے۔ابھی سے اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنی کمزوریوں کو دُور کرنا پڑے گا ۔فاروق ستار نے الگ صوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم 50 لاکھ دستخطوں سے سندھ کی تقسیم کی مہم چلائے گی۔ اگر جنوبی صوبہ بن سکتا ہے تو دوسرے صوبے کیوں نہیں۔ اُردو بولنے والوں پر بہت ظلم ہوئے ۔جس کا ازالہ ضروری ہے، وہ صرف آپس کے اتحاد سے ہی ممکن ہے، اس سوال کے جواب میں کہ دستخطوں سے کیا ہوگا، فاروق ستار نے جواب دیا کہ اس قسم کی مہم سے تحاریک جنم لیتی ہیں اور آئینی ترامیم سے بچنا ناممکن ہوجاتا ہے، نیا صوبہ بنے گا اور آئینی ترامیم کے ذریعے بنے گا۔