اعدادوشمار کا رخ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ سال رواں کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک سوشل انشورنس میں رجسٹرڈ کارکنان کی تعداد 88لاکھ47ہزار478ہوگئی ہے۔ ان میں سعودی ، غیر سعودی دونوں شامل ہیں۔ غیر ملکیوں کی تعداد 71لاکھ28ہزار654 ہے۔ تناسب 80.5 فیصد ہے۔ سعودیو ں کی تعداد 17لاکھ18ہزار824ہے۔ انکا تناسب 19.5فیصد بنتا ہے۔ 1500 ریال اور اس سے کم تنخواہ پانے والے غیر ملکیوں کی تعداد50لاکھ77ہزار422،یعنی 71.2فیصد ہے جبکہ 1501سے 2999ریال تک تنخواہ پانے والوں کی تعداد10لاکھ20ہزار531،یعنی 14.3فیصد ہے۔ مجموعی طور پر یہ 85فیصد کے لگ بھگ ہیں۔ ایسے غیر ملکی جن کی تنخواہیں 10ہزار ریال سے زیادہ ہیں ان کی تعداد 2لاکھ42ہزار293،یعنی 3.4فیصد ہے۔
جہاں تک سعودیوں کا تعلق ہے تو 3ہزار ریال تنخواہ پانے والے سعودیوں کی تعداد 41.6فیصد ہے۔ یہ تنخواہ پانے والے سعودی 7لاکھ14ہزار545ہیں۔ میری آرزو ہے کہ اس تعداد کی بابت زیادہ چھان بین کی ضرورت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ تنخواہ نہ اوسط درجے کی ہے او رنہ ہی اعلیٰ درجے کی ہے ۔ اس سے بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔ اسی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی ملازمین کی تعداد بڑھانا اصل مقصد ہے یا سعودی شہریوں کو روزگار کے حوالے سے آسودہ کرنا اصل ہدف ہے؟3001 سے 4999ریال تک تنخواہ پانے والے سعودیوں کی تعداد3لاکھ88ہزار185،یعنی 22.6فیصد ہے۔
یہ اعدادوشمار سوشل انشورنس ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ اگر ہم گھریلو عملے کو شامل کرلیں تو تعداد 20لاکھ کے لگ بھگ ہوگی۔ اگر غیر قانونی تارکین سے پاک وطن مہم کے تحت گرفتار کئے جانےوالے غیر ملکیوں کی تعداد کا اضافہ بھی کرلیا جائے تو صورتحال مزید گمبھیر ہوگی۔ 20 لاکھ سے زیادہ غیر قانونی تارکین پکڑے جاچکے ہیں۔ ان سب سے قطع نظر ہمیں تسلیم ہے کہ ہمارے یہاں اقامت پذیر غیر ملکی سعودی عرب کی تعمیر و ترقی کے عمل میں برابر کے شریک ہیں۔ اس سے انکار ممکن نہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہمیں بھی وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کیلئے غیر ملکیوں کی خدمات درکار ہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں مختلف ممالک اور قومیتو ںکے افراد ایک دوسرے کے شانہ بشانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہماری توجہ کا محور غیر قانونی تارکین ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہی لوگ قومی معیشت کےلئے ناسور کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہمارے یہاں غیر ملکیوں کے مرافقین اور تابعین پر ٹیکس کے منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ مکانوں کے کرائے کم ہوئے ہیں۔ غذائی اشیاءفروخت کرنے والی کمپنیوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ اجیراپنی آمدنی کا بیشتر حصہ اسکول، رہائش اور گاڑی وغیرہ پر خرچ کرنے کے بجائے بچا سکے گا۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ ہمیں مقیم غیر ملکیوں کو اندرون ملک آمدنی کا بیشتر حصہ خرچ کرنے کی ترغیبات دینا ہونگی۔ ہمیں باقاعدہ کارکنان کے ساتھ مختلف طریقہ اختیار کرنا پڑیگا۔