برصغیر میں ساون کا مہینہ سن عیسوی کے اعتبار سے جولائی کے وسط میں شروع ہوتا ہے اور مئی اور جون کی تپش اور گرمی سے راحت جاں کا وسیلہ بنتا ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ بارش کے برسنے سے چلچلاتی لو کا موسم ختم اور پانی کی بوند بوند کو ترسی زمین کے پیاسے لب سیراب ہوتے ہیں۔ کسان دہان کی فصلوں کی کاشت کے لیے اسی موسم کے منتظر ہوتے ہیں کہ کب مینہہ برسے گا اور وہ روزی روٹی کا سامان کرنے لگ جائیں گے۔
ساون کی جھڑیاں جہاں دھوپ سے جھلسے درختوں، چرند، پرند کو نئی زندگی بخشیں وہیں جذبات بھی تازہ ہوتے ہیں اور ملن کی خواہش انگڑائیاں لینے لگتی ہے۔
مزید پڑھیں
-
سمر میک اپ Node ID: 214996
-
ساون کی رُت میں لاہور کا 'ہائبرڈ' میلہNode ID: 428541
-
مہم جوئی کا 'جنون' رکھنے والی لڑکیNode ID: 493891
لیکن کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ساون بھادوں تو حبس اور چپ چپ کا موسم ہے۔ اگر اس موسم میں بارش ہوتی ہے تو جھڑی کے بعد یا اس کے دوران بھی ایسی حبس ہوتی ہے کہ پسینہ جسم کاٹتا ہے، اس میں رومانس کہاں سے گھس آیا ہے اور شاعروں کو اس موسم میں رومانویت کہاں سے نظر آتی ہے؟
کچھ دوسرے سوال اٹھاتے ہیں کہ بارش تو دوسرے موسموں میں بھی ہوتی ہے تو پھر صرف ساون کی بارش کو ہی رومانویت سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے؟
روایات کے مطابق پرانے زمانوں میں ساون صرف موسم ہی نہیں بلکہ ایک رسم کے طور پر منایا جاتا تھا ایسے ہی جیسے بیساکھی کے میلوں کی رسم۔ لڑکیاں جھولے جھولتی اور بڑی بوڑھیاں گھروں میں خصوصی پکوانوں کا اہتمام کرتی تھیں۔
شاعر اس موسم پر خصوصی گیت لکھتے جو بڑے بڑے گائیک گاتے اور مقبولیت کی انتہاووں کو چھوتے۔ اسی موسم میں اکبر علی خان اور تان سین جیسے کلاسیکل گلوکاروں نے راگ ملہار، راگ میگھ یا میا کے راگ اس انداز سے گائے کہ امر ہو گئے۔
جوش ملیح آبادی، ناصر کاظمی اور چراغ حسن حسرت جیسے شاعروں کی ساون پر شاعری آج بھی ادب کے دلدادہ لوگوں کی زبانوں پر ہے۔
پاکستانی اور انڈین فلموں میں تو ساون کو رومانس، ہجر اور ملن کی خواہش کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ ساون آئےساون جائے، تجھ کو پکاریں گیت ہمارے، رم جھم گرے ساون، سلگ سلگ جائے من، یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست نظارے، تیری دوٹکیاں دی نوکری میں میرالاکھوں کا ساون جائے، ساون کی بھیگی راتوں میں اور جب پھول کھلے برساتوں میں، جب چھیڑیں سکھیاں باتوں میں، مینوں یاداں تیریاں آؤندیاں نے جیسے کانوں میں رس گھولتے گیت آج بھی شائقین کو مسحور کر دیتے ہیں۔
دور حاضر کے شاعر اختر عثمان رومانس کو ساون سے منسلک کرنے کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ موسم ہر جاندار کے ملن کا موسم ہے۔
'ساون ملن کا موسم ہے خواہ وہ انسان ہوں، حشرات الارض ہوں، چرند، پرند یا پھر درندے ہی کیوں نہ ہوں یہ سب ملتے ہیں۔ اسی لیے شاعر اس موسم کو رومانوی موسم سمجھتے ہیں۔ اس موسم میں درختوں کی شاخوں پر نئی ٹہنیاں اگتی ہیں۔ زمین کا سبزہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔‘
’جن کو وصل نصیب نہیں ان کے اندر حزن در آتی ہے۔ پھر یہ ملہار کا بھی موسم ہے۔ ملہار بارش کا موسم ہے جو بارش کا گیت ہے۔ خسرو کے زمانے سے یہ گیت گائے جا رہے ہیں کہ 'اماں میرے بابا کو بھیجو ری کہ ساون آیا۔'
اختر عثمان کے مطابق ’ساون میں بہار سے زیادہ رومانس ہے کیونکہ آسمان برستا ہے۔ ندیاں نالے بہہ نکلتے ہیں اور بارش کی وجہ سے زمین سے خوشبو آتی ہے۔‘
شاعرہ سبین یونس کا کہنا ہے کہ 'ساون اور برسات کے موسم میں ملن کی چاہت بڑھ جاتی ہے اسی وجہ سے زمانہ قدیم سے ساون گیتوں اور شاعری کا حصہ ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ساون ہجر اور انتظار کا موسم ہے اسی وجہ سے تیری دو ٹکیاں دی نوکری میں میرا لاکھوں کا ساون جائے رے جیسے گیت لکھے گئے ہیں۔
