پاکستان میں آج جمعے کو ایوان بالا یعنی سینیٹ کی تاریخ کا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے سب سے سخت مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔
اس مقابلے میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی شکل میں دو بڑے امیدوار پہلی بار میدان میں اترے ہیں۔
دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نمبر گیم کی کشمکش نے بھی ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔ ایوان میں اپوزیشن کو معمولی عددی برتری حاصل ہے لیکن حکومت کی جانب سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ ’وہ ہر قانونی حربہ استعمال کرتے ہوئے صادق سنجرانی کو کامیاب بنائے گی۔‘
مزید پڑھیں
-
سینیٹ کاروباری افراد کے لیے ’پسندیدہ جگہ‘ کیوں ہے؟Node ID: 548061
حکومت نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے مرزا محمد آفریدی اور اپوزیشن نے مولانا غفور حیدری کو نامزد کیا ہے۔
ایوان بالا میں یہ چیئرمین سینیٹ کا 13 ہواں جبکہ ڈپٹی چیئرمین کا 14 ہواں انتخاب ہو گا۔
سینیٹ کی کل 37 سالہ مدت میں پہلے چاروں چیئرمینز کی مدت مجموعی طور 26 سال بنتی ہے جس میں سے وسیم سجاد اکیلے چار مرتبہ منتخب ہو کر مسلسل 12 سال تک چیئرمین رہے۔

محمد حبیب اللہ، غلام اسحاق خان اور محمد میاں سومرو دو دو مرتبہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماضی میں اس عہدے پر عموماً اکثریتی جماعت کے امیدوار بلا مقابلہ یا با آسانی منتخب ہو جاتے تھے۔ لیکن 2018 میں صورت حال نے ڈرامائی شکل اختیار کی تھی۔
سنہ 2018 میں کیا ہوا تھا؟
سنہ 2018 میں سینیٹ کے انتخاب میں اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن ایوان کی سب سے بڑی جماعت تو بن گئی تھی لیکن نواز شریف کی بطور پارٹی صدر نااہلی کے باعث اس کے امیدوار آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے تھے۔
حکومت میں ہونے کے باوجود ن لیگ اور مقتدر حلقوں کے درمیان چپقلش عروج پر تھی۔ ایسے میں بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ کی اکثریت ہونے کے باوجود چھ آزاد ارکان جیت کر اسلام آباد پہنچ گئے اور جوڑ توڑ شروع کر دیا۔
اس کے بعد اچانک سے صادق سنجرانی کا نام بطور چیئرمین سینیٹ سامنے آیا تو پیپلز پارٹی نے اسے اپنا امیدوار بنا لیا۔ عمران خان نے نہ صرف صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار سلیم مانڈوی والا کو بھی ووٹ دینے کا اعلان کر دیا۔

اس دوران حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے پیپلز پارٹی کو اس وقت کے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کو متفقہ امیدوار بنانے کی پیشکش کی لیکن آصف علی زرداری نے یہ کہہ کر پیش کش مسترد کر دی ’جو میاں صاحب چاہتے ہیں میں ایسا نہیں چاہتا۔‘
اس طرح پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ووٹوں سے چھ آزاد سینیٹرز میں سے ایک صادق سنجرانی 103 کے ایوان میں سے 57 ووٹ لے کر چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے جبکہ ان کے مدمقابل راجہ ظفرالحق کو 46 ووٹ ملے تھے۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے مل کر چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا اور تحریک عدم اعتماد پیش کر دی۔
مسلم لیگ ن اس کے اتحادیوں اور پیپلز پارٹی کے ووٹ شامل ہونے کے بعد اپوزیشن اتحاد کی تعداد 64 بنتی تھی اور بظاہر صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔

لیکن یکم اگست 2019 کو تحریک عدم اعتماد کے نتائج نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ 64 ارکان رکھنے والی اپوزیشن کی تحریک کے حق میں صرف 50 ووٹ آئے تھے جبکہ اس کی کامیابی کے لیے 53 ووٹ درکار تھے۔ تحریک عدم اعتماد کی مخالفت میں 45 ووٹ پڑے تھے جبکہ حکومتی ارکان کی کل تعداد 36 تھی۔
موجودہ انتخابات سے جڑے تنازعات
یوسف رضا گیلانی اور صادق سنجرانی کے درمیان ہونے والے مقابلے کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ پہلی دفعہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عوامی اہمیت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس کی ایک وجہ ان انتخابات سے جڑے تنازعات ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے سینیٹ انتخابات کے آغاز سے ہی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ حاصل کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔ اس مقصد کے لیے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد کی سیٹ سے میدان میں اتارا گیا اور قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود کامیابی حاصل کر کے حکومتی اتحاد کو چیلنج کر دیا۔
اسی وجہ سے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو گئے۔
اس دوران ووٹ خریدنے کی کچھ مبینہ ویڈیوز بھی سامنے آئیں، جن کی بنیاد پر تحریک انصاف نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا کی۔

الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کا چیئرمین سینیٹ کا الیکشن لڑنے کا راستہ تو صاف کر دیا، لیکن ووٹوں کی خریداری سے متعلق ویڈیوز کی بنیاد پر نااہلی کی درخواست سماعت کے لیے منطور کر لی۔
دوسری جانب حکومتی صفوں میں شامل ایک اہم نو منتخب سینیٹر فیصل واوڈا دوہری شہریت کیس میں نااہلی سے تو بچ گئے ہیں۔ لیکن ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ان کے جھوٹے بیان حلفی کے معاملے کو دیکھنے کی آبزرویشن دے کر ان کے سر پر نااہلی کی تلوار لٹکا دی ہے۔
انھی دنوں میں صادق سنجرانی کی 2018 کی ایک مبینہ ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں وہ اپنی کامیابی کے پیچھے کسی اور کا ہاتھ بتا رہے ہیں۔
دو روز قبل پرویز خٹک کی جانب سے سرراہ غفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین کا امیدوار بننے کی پیشکش کے بعد بھی تنازعہ کھڑا ہو گیا۔
نمبر گیم اور قریب ترین مقابلہ
اوپر بیان کیے گئے واقعات اور سینیٹ میں موجودہ نمبر گیم کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی بڑے اپ سیٹ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
صادق سنجرانی سے پہلے رضا ربانی، نیئر بخاری اور فاروق ایچ نائیک بلامقابلہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے تھے۔
اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سینیٹ کی موجودہ نمبر گیم کے باعث یہ مقابلہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا سخت ترین مقابلہ ہے۔ جس میں کامیابی کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو آخری لمحے تک سرتوڑ کوشش کرنا ہو گی۔
