Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کو 10 برسوں میں 10 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت

2030 تک گھروں کی ملکیت کو 70 فیصد بڑھانے کا ہدف ہے۔ (فائل فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کو اگلے 10 برسوں میں 10 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت ہوگی کیونکہ مملکت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں گھروں کی مانگ شدت اختیار کر گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق رئیل سٹیٹ گروپ کولئیرز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت ریاض اور دیگر بڑے شہروں جیسے جدہ، دمام اور الخبر میں بڑھتی ہوئی مانگ کو ’نیو سعودی‘ اور ’نان سعودی‘ گھرانوں کی طرف سے چلایا جا رہا ہے۔
کولئیرز نے کہا کہ تقریباً 63 فیصد آبادی کے اس سیکٹر سے 6 لاکھ 28 ہزار گھر بنائے جانے کا امکان ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی آبادی 1981 میں 10 لاکھ افراد سے بڑھ کر آج 70 لاکھ افراد سے زیادہ ہو گئی ہے۔
پچھلے پانچ سالوں میں سعودی وزارت میونسپل دیہی امور اور ہاؤسنگ نے ڈویلپرز کے لیے قواعد و ضوابط کو آسان بنا کر نجی سرمایہ کاری کو اپنی طرف راغب کرنا آسان بنا دیا ہے۔
مملکت کے چار بڑے شہروں میں 2030 تک خاندانوں کی تعداد 2.88 ملین تک بڑھنے کی توقع ہے جو کہ گزشتہ سال 2.31 ملین تھی۔
واضح رہے کہ سعودی وزارت ہاؤسنگ اور ریئل سٹیٹ ڈویلمپنٹ فنڈ نے مکانات کی تعمیر، پلاٹ مختص کرنے اور مالی اعانت کے لیے 2017 میں سکنی پروگرام کا آغاز کیا تھا۔
سعودی وزارت ہاؤسنگ کے سکنی پروگرام نے ریاض میں منعقدہ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں سکنی فورم کے دوران متعدد ایجنسیوں کے ساتھ چار معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

سکنی پروگرام سے اب تک 1.1 ملین خاندانوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

ان معاہدوں کا مقصد بے گھر خاندانوں کو اپنے گھر مہیا کرنا ہے اور سعودی خاندانوں کو اپنے مکان کا مالک بنانے کے لیے آسانی فراہم کرنا ہے۔ سعودی وزارت ہاؤسنگ کے سکنی پروگرام سے اب تک 1.1 ملین خاندانوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کا 2030 تک گھروں کی ملکیت کو 70 فیصد بڑھانے کا ہدف ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق سعودی وزارت ہاؤسنگ کے سکنی پروگرام کا کہنا ہے کہ وہ 2020 میں 60 فیصد گھر کی ملکیت کے ہدف تک پہنچ گیا ہے۔
اس پروگرام سے آٹھ لاکھ 34 ہزار سے زیادہ سعودی شہریوں نے فائدہ اٹھایا ہے اوراس نے براہ راست 62 ہزار ہاؤسنگ یونٹ بنائے ہیں اور مزید ایک لاکھ 41 ہزار  پارٹنرشپس مہیا کی ہیں۔

شیئر: