Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ترکی میں پائپ لائن کی بندش، تیل کی قیمت بلند ترین سطح پر

یہ پائپ لائن عراق سے ترکی خام تیل پہنچاتی ہے (فوٹو اے ایف پی)
عراق سے ترکی تک جانے والی پائپ لائن بند ہونے کی وجہ سے بدھ کو بھی تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق روس اور متحدہ عرب امارات کے حالات کے پیش نظر پہلے ہی سے سپلائی میں کمی ہے۔
بد کو برینٹ خام تیل کی قیمت 87 سینٹ یا ایک فیصد بڑھ کر 88.38 ڈالر فی بیرل ہو گئی جو پہلے کے مقابلے میں 1.2 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح یو ایس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.03 ڈالر یا ایک فیصد بڑھ کر 86.46 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
ترکی نے کہا ہے کہ دھاکے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جس نے کرکوک سیہان پائپ لائن کو کاٹ دیا تھا۔ مزید کہا گیا ہے کہ پائپ لائن جلد بحال ہو جائے گی۔ تاہم ابھی تک دھماکے کی وج ہمعلوم نہیں ہو سکی ہے۔
یہ پائپ لائن عراق سے ترکی خام تیل پہنچاتی ہے۔
یہ نقصان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ماہرین 2022 میں اومی کرون کے باعث تیل کی سپلائی میں کمی کا اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں اور کچھ تیل کی قیمت ایک سو ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
دنیا میں تیل پیدا کرنے والے دوسرے بڑے ملک روس اور  اوپیک میں تیل پیدا کرنے والے تیسرے بڑے ملک یو اے ای کے حالات کے پیش نظر تیل کی سپلائی میں مزید کمی کے حوالے سے تشویش سامنے آئی ہے۔
امارات نے پیر کو حوثی باغیوں کی طرف سے ابوظبی پر ہونے والے حملے کی مذمت کےلیے منگل کو اقوام متحدہ سکیورٹی کا اجلاس بلانے کی اپیل کی۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے مزید حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب روس کی فوج یوکرائن کی سرحد پر کھڑی ہے اور امریکہ کہہ رہا ہے کہ روس کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔
اس تناو سے تیل کی سپلائی میں مزید کمی ہو سکتی ہے، کیونکہ اوپیک پلس کو پہلے ہر ماہ روزانہ چار لاکھ بیرل تیل کی سپلائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

شیئر: