Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسٹیبلشمنٹ کے معاملے پرعمران خان اور پرویز الہی ایک صفحے پر ہیں؟

پرویز الہی کا کہنا تھا کہا انہیں جنرل باجوہ نے عمران خان کا ساتھ دینےکا کہا تھا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
سابق وزیراعظم عمران خان اور پنجاب کے وزیراعلی پرویز الہی یوں تو اتحادی ہیں مگر حالیہ چند دنوں میں دونوں کے بیانات میں اتنا واضح تضاد ہے کہ ان کے حامی بھی کنفیوز ہو رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی میں لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب سمیت صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کا اعلان کیا تھا تو سب سے پہلا یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پنجاب کے وزیراعلی پرویز الہی کیا اپنی حکومت کی قربانی دے کر اسمبلیاں توڑنے پر آمادہ ہو سکیں گے؟
ان کے اعلان کے اگلے دن پرویز الہی اور ان کے صاحبزادے نے اپنے بیانات میں عمران خان کا ساتھ دینے کا اعلان تو کیا مگر سپین سے خصوصی طور پر واپس آکر مونس الہی نے یکم دسمبر کو ہم نیوز کو جو انٹرویو دیا اس میں انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے اوپر عمران خان اور ان کی جماعت سے الگ موقف دیا۔
مونس الہی نے انٹرویو میں جنرل باجوہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے قبل جنرل باجوہ نے ہی ق لیگ کو پی ٹی آئی کی حمایت کرنے کا کہا تھا۔
 اگر وہ بندہ (جنرل ریٹائرڈ باجوہ) برا ہوتا تو کبھی یہ نہ کہتا کہ آپ عمران خان کا ساتھ دیں۔
اس کے اگلے دن عمران خان نے ایک نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں مونس الہی کے بیان کے برعکس ایک بار پھر جنرل باجوہ پر تنقید کرتے ہوئے ان پر ڈبل گیم کا الزام لگایا۔ 
ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جو جنرل باجوہ کہتے میں اس کا بھروسا کر لیتا تھا، ان کے ساتھ گزرے ساڑھے تین برسوں میں پہلی بار معلوم ہوا کہ بھروسا کرنا کتنی بڑی کم زوری ہے۔
عمران خان کے بیان کی گرد بھی نہیں بیٹھی تھی کہ چوہدری پرویز الہی نے خود دو نجی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دے کر ایک بار پھر جنرل باجوہ کی صفائی دی۔

عمران خان کے مطابق جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینا بہت بڑی غلطی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی

پرویز الہی کا کہنا تھا کہا انہیں جنرل باجوہ نے عمران خان کا ساتھ دینےکا کہا تھا۔ ’ن لیگ کی طرف جاتے جاتے اللہ نے راستہ تبدیل کیا اور راستہ دکھانے کے لیے باجوہ صاحب کو بھیج دیا۔
پرویز الٰہی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی یہ بات درست نہیں کہ جنرل باجوہ ہمیں عمران کے ساتھ جانے اور دوسرے گروپ کو ن لیگ کی طرف جانے کا کہہ رہے تھے۔
وزیراعلی پنجاب کے مطابق جنرل باجوہ کو انہوں نے خود فون کیا تھا، ادارے نے کہا کہ عمران خان کا ساتھ دینے کا راستہ آپ کے لیے بہتر راستہ ہے۔

فوری اسمبلیاں توڑنے کے حوالے سے بھی پرویز الہی کا موقف مختلف نظر آیا

انہوں نے انٹرویو میں یہ تو کہا کہ عمران خان سے ان کا وعدہ کیا ہے کہ جب آپ کہیں گے اسمبلیاں توڑ دوں گا تاہم کہا کہ حکمت عملی یہ ہے کہ الیکشن چار ماہ سے پہلے تو ہو ہی نہیں سکتے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کام  کے لیے وقت چاہیے اور مارچ میں جب عمران خان انتخابی مہم چلانے کے قابل ہو سکیں گے تو پھر بیٹھ کر بات کی جا سکتی ہے۔

کیا بیانات اختلاف کی علامت ہیں یا حکمت عملی کا حصہ؟

ان بیانات کو دیکھا جائے تو لگتا ہے جیسے عمران خان اور پرویز الہی خاندان کی فوج یا جنرل باجوہ کے حوالے سے رائے میں بڑا اختلاف اور اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے حوالے سے بھی دونوں ایک صفحے پر نہیں۔
تاہم لاہور میں مقیم سیاسی تجزیہ کار ارشاد عارف سمجھتے ہیں کہ جس طرح نواز شریف اور شہباز شریف مختلف موقف سامنے لانے کے باوجود ایک تھے اسی طرح انہیں لگتا ہے کہ عمران خان اور پرویز الہی کے متضاد بیانات بھی ایک حکمت عملی کے تحت ہی پلان کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور پرویز الہی کے بیانات ان کی ملاقات کے بعد ہی سامنے آئے ہیں جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت ہو رہا ہے۔

26 نومبر کو عمران خان نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

میرے پرانے تجربے کی بیناد پر مجھے لگتا ہے کہ یہ پالیسی ملاقات میں طے پائی ہے کہ عمران خان خود نہ باجوہ صاحب کے حوالے سے موقف تبدیل کریں ناں ہی اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے۔ تاہم چونکہ عمران خان کم از کم دو ماہ تک تو زخمی ہونےکے باعث مہم نہیں چلا سکتے اس لیے اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے وہی موقف اپنائیں کہ جلد انتخابات ممکن نہیں ہیں۔‘
’اس طرح عمران خان جنرل باجوہ کے حوالے سے ماضی کے بیانات تو واپس نہیں لے سکتے اس لیے ان کے حامیوں کا غصہ کم کرنے کے لیے پرویز الہی اور مونس الہی اس طرح کے بیانات دیں تاکہ آہستہ آہستہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات بہتر ہو سکیں۔
ارشاد عارف کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد ایک تو وقت حاصل کرنا ہے اور دوسرا مخالفین کو کنفیوز کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرطرف بحث یہی ہو رہی ہے کہ عمران خان اور پرویز الہی کے بیانات میں کتنا تضاد ہے اور دیگر باتوں پر بحث نہیں ہو رہی۔
ان کے مطابق چوہدری پرویز الہی بہت سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اس لیے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ غیر محتاط بیان دے کر اپنی جماعت یا حکومت کی پوزیشن خراب کریں۔ اس تمام حکمت عملی کا مقصد عمران خان کے حامیوں کو نارملائز کرنا ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ کئی ماہ سے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کو تنقید کی زد میں رکھا ہوا تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ان تنقیدی حملوں میں تیزی آ گئی تھی اور ٹویٹر پر ان کے خلاف کئی ٹرینڈز بھی چلائے گئے تھے۔
تاہم چوہدری پرویز الہی کی کھل کر جنرل باجوہ کی حمایت کے بعد بعض پی ٹی آٗئی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر چوہدری خاندان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم کسی اہم پی ٹی آئی رہنما نے ابھی تک وزیراعلی پنجاب پر کھل کر تنقید نہیں کی ہے۔

شیئر: