Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’فواد چوہدری کی گرفتاری عقل مندوں کے لیے نشانی،‘ سوشل میڈیا پر گرفتاری زیر بحث

فواد چوہدری کو بدھ کی صبح لاہور میں گرفتار کیا گیا تھا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما فواد چوہدری کو بدھ کی صبح لاہور سے گرفتار کیا گیا کیونکہ ان کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے ادارے کے افراد کو دھمکیاں دینے کے الزام پر اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
فواد چوہدری کو چند ہی گھنٹوں بعد لاہور کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس کو ہدایات جاری کی گئیں کہ انہیں طبی معائنے کے بعد اسلام آباد لے جایا جائے جہاں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
عدالت میں پیشی کے وقت فواد چوہدری نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے خلاف جو مقدمہ درج ہوا ہے اس پر انہیں فخر ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ’کہا جا رہا ہے میں نے بغاوت کی۔ نیلسن منڈیلا پر بھی یہی مقدمہ درج ہوا تھا۔‘
فواد چوہدری کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے سوشل میڈیا پر ممتاز سیاسی اور میڈیا سے متعلق شخصیات کی جانب سے ملے جُلے تاثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
فواد چوہدری کے بیان پر شنیلا عمار نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’یہ نیلسن منڈیلا بھی لوگوں کے خاندانوں کو دھمکیاں دیتا تھا؟‘

محمد عاصم نصیر نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’فواد چوہدری کو گرفتار کرنا عقل مندوں کے لیے نشانی ہے کہ بات بہت آگے جا چکی ہے۔ اب جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرے گا یا سیاسی و معاشی عدم استحکام کی جانب لے کر جائے گا وہ اپنی تیاری خود پکڑ لے کیونکہ اب وہ پکڑا جائے گا۔‘
حکومتی اتحاد کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹوئٹر ہینڈل سے فواد چوہدری کا ویڈیو بیان شیئر کیا گیا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’ہم الیکشن کمیشن اور ان کے ممبران کو، ان کے خاندانوں کو اور یہ جو لوگ ہیں ان کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ زیادتی کا سلسلہ ہوا، یہ زیادتیوں کے سلسلے کا خمیازہ آپ کو بھگتنا ہو گا۔‘
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے فواد چوہدری پر طنز کرتے ہوئے لکھا ’دہشست گرد ذہنیت کا پہلا نشانہ بچے ہی ہوتے ہیں۔‘
سوشل میڈیا پر کئی صارفین کی جانب سے فواد چوہدری کی ایک پُرانی ٹویٹ میں شیئر کی جا رہی ہے جس میں انہوں نے ماضی میں پاکستان مسلم لیگ (ن)  کے رہنما نہال ہاشمی کی گرفتاری کی حمایت کی تھی۔
شہزاد غیاث شیخ نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’پی ٹی آئی رہنما غلط گرفتار کیے جا رہے ہیں لیکن بے مثال نہیں۔‘
انہوں نے پی ٹی آئی کو ماضی دلاتے ہوئے لکھا کہ ’پی ٹی آئی کے دور میں سیاسی اختلاف کو دبایا گیا۔ سیاسی حریفوں کو گرفتار کیا گیا، مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی گئی اور صحافیوں کو ٹی وی سے ہٹایا گیا۔‘
’فواد چوہدری اکثر اس سب کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔‘
سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’مرکزی پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی گرفتاری کا جواز نہیں بنتا۔ اب تک انہیں اعظم سواتی، شہباز گل اور صحافیوں کے خلاف کیسز سے کیا حاصل ہوا؟‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’آپ کو اختلاف کرنے کا حق ہے لیکن تاریخی طور پر ایسے اقدامات صرف موجودہ حکومت کے خلاف جاتے ہیں۔‘
لاہور ہائی کورٹ نے ایک علیحدہ درخواست پر پولیس حکام کو فواد چوہدری کو آج دوپہر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان شام چار بجے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کریں گے۔
انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں پاکستان کو ’بنانا ری پبلک‘ قرار دیا اور کہا کہ ’ہمیں اب اپنے بنیادی حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا اور پاکستان کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچنے سے بچانا ہوگا۔‘

شیئر: