مسجد اقصیٰ کی آزادی اور حرمین شریفین کے دفاع کیلئے امت متحد ہوجائے، پاکستانی علماء
جمعرات 20 جولائی 2017 3:00
لاہور - - - - - - مسجد اقصیٰ کی تالہ بندی امت مسلمہ کو قبول نہیں، حکومت پاکستان کی الاقصیٰ پر تالہ بندی پر خاموشی قابل افسوس ہے ، 21 جولائی کو ملک بھر میں یوم الاقصیٰ منایا جائے گا ۔بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ضروری ہے کہ تمام مذاہب کے مقدس مقامات کا احترام کیا جائے ، اسلامی سر براہی کانفرنس کا اجلاس فوری بلایا جائے ، یہ بات پاکستان علماء کونسل اسلام آباد کے زیر اہتمام ہونے والی تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہی ، کانفرنس میں پاکستان میں فلسطین ، اردن کے سفراء اور اسلامی اور یورپی ممالک کے سفارتی نمائندوں اور مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور تمام مکاتب فکر کے افراد نے شرکت کی ، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں فلسطین کے سفیر ولید ابو علی نے کہا کہ پچاس سال بعد مسجد اقصیٰ میں اذان بند کی گئی لیکن اسرائیل کی تمام تر تالہ بندی کے بعد مسجد اقصیٰ سے اذان کی آواز بلند ہوتی رہی ، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی تالہ بندی عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، ملت اسلامیہ پر لازم ہے کہ الاقصیٰ کی آزادی اور حرمین شریفین کے دفاع اور سلامتی کیلئے متحد ہو جائے ، صہیونی عزائم صرف فلسطین تک موقوف نہیں ہے بلکہ وہ پورے عالم اسلام کو یرغمال بنانا چاہتے ہیں اور اگر امت مسلمہ نے متحد ہو کر صہیونی عزائم کا مقابلہ نہ کیا تو حرمین شریفین کے تقدس اور امن کو بھی خطرات لاحق ہو جائیں گے ،انہوں نے کہا کہ اردن کے شاہ عبداللہ اور سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کا فلسطین کے عوام الاقصیٰ اور القدس کے لئے کردار قابل تحسین اور قابل فخر ہے ، انہوں نے کہا کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ میں الیکٹرانک دروازے لگانے جا رہاہے ، عورتوں ، بچوں اور ضعیفوں کو مسجد اقصیٰ میں بغیر تلاشی کے داخل نہیں ہونے دیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اہل فلسطین القدس اور الاقصیٰ کا دفاع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل نے الاقصیٰ اور مظلوم فلسطینیوں کیلئے آواز بلند کرنے میں ہمیشہ صف اول میں کردار ادا کیا ہے ، انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر شیخ الحدیث مدرسہ حرم مکۃ مدرسہ صولتیہ مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنائت اللہ نے کہا کہ امت مسلمہ پر لازم ہے کہ اعتدال کا راستہ اختیار کر ے اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت کے اتحاد کیلئے کردار ادا کریں ، انہوں نے کہا کہ علماء امت کا اختلاف رحمت ہے اسے فساد نہیں بننا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی قیادت کی بھی پالیسی ہے کہ امت مسلمہ میں اعتدال آئے اور اختلاف ختم ہو ، فساد نہ ہو۔ پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مسلم امۃ کے اختلاف کے سبب آج کشمیر اور فلسطین میں مظالم بڑھ رہے ہیں ، اسرائیل ہند اتحاد فلسطینیوں ، کشمیریوں کے خلاف ہے جسے ہم متحد ہو کر ناکام بنانا ہے ، انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی تالہ بندی کے خلاف حکومت پاکستان کی مجرمانہ خاموشی قابل مذمت ہے ، حکومت پاکستان فوری طور پر اس صورتحال پر اپنا موقف بیان کرے ، انہوں نے کہا کہ الاقصیٰ کی تالہ بندی پر خادم الحرمین الشریفین کا کردار قابل ستائش ہے ، سعودی عرب موجودہ عالم اسلام کی صورتحال پر فوری اجلاس بلائے ۔ کانفرنس میں ایک اور قرارداد کے ذریعے الاقصیٰ میں داخلے کیلئے الیکٹرانک آلات لگانے کی بھرپور مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر اقوام متحدہ ، عالمی انسانی حقوق کے ادارے ، صہیونی حکومت کے ان اقدامات کو رکوائے ۔