Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی اردن کے امدادی قافلے پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملے کی مذمت

اردن نے امدادی قافلے پر آباد کاروں کے حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا۔(فوٹو:عرب نیوز)
سعودی عرب نے منگل کو محصور غزہ کی پٹی کی طرف جانے والے اردن کے انسانی امدادی قافلے پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’بار بار حملے اسرائیلی فوج کی بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکامی کا نتیجہ ہے اور اسے ضروری انسانی امداد کو غزہ کی پٹی تک پہنچنے سے روکنے کےلیے منظم ملی بھگت سمجھا جاتا ہے‘۔
سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ ’وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹہرانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے‘۔
بیان میں امدادی قافلوں کی گزرگاہ کو محفوظ  بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنے اور فلسطینی علاقے میں ان کی آمد کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا  گیا تاکہ وہاں انسانی بحران کے خاتمے میں مدد مل سکے۔
اردن نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نےامدادی قافلوں پر آباد کاروں کے حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا۔
اردن کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترجمان نے زور دیا کہ ’اسرائیلی حکومت کی جانب سے حملوں کو روکنے میں ناکامی اس کی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے‘۔
اردن کی ہاشمی چیرٹی آرگنائزیشن کے تحت بھیجے گئے امدادی قافلے پر اسرائیلی آباد کاروں نے اس وقت حملہ کیا جب وہ شمالی غزہ میں بیت حنون کی کراسنگ کی طرف جا رہا تھا جسے ایریز کراسنگ بھی کہا جاتا ہے۔
تاہم حملے کے باوجود قافلہ اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا اور جنگ زدہ غزہ میں اپنی منزل پر پہنچ گیا۔

شیئر: