مجھے کسی کتے نے کاٹا تھا..
لاہور... سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی2 رکنی بنچ کی جانب سے 56کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران طلب کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف عدالت میں پیش ہو گئے ۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیسہ واپس آنا چاہیے ۔ آپ کریں یا جن لوگوں نے یہ پیسہ لیا ہے ۔عدالت نے نیب کو کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی جائداد وں کا تخمینہ لگانے کا بھی حکم دیدیا ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں2 رکنی بنچ نے چھٹی کے دن بھی کیسز کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف خود پیش ہو کر وضاحت کریں کہ کس قانون کے تحت سرکاری افسران کو بھاری تنخواہوں پر کمپنیوں میں بھرتی کیا گیا۔ عدالت کے طلب کرنے پر شہباز شریف عدالت میں پیش ہو گئے ۔چیف جسٹس کے استفسار پر شہباز شریف نے کہا کہ ایسی کمپنیاں پہلی مرتبہ نہیں بنائی گئیں ۔ماضی میں بھی ایسی کمپنیاں بنائی گئی تھیں۔چیف جسٹس نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ مجاہد شیر دل کو اتنی تنخواہ کیوں دی جارہی ہے۔ ان میں کیا خوبی ہے کہ انہیں 10 لاکھ روپے تنخواہ دی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عوام آپ سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں ۔ شہباز شریف نے درخواست کی کہ مجھے بات کرنے کا موقع دیا جائے ۔ آپ جو بھی رولنگ دیں گے قبول ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نہ بھی کریں تو آپ کو بات کرنی ہوگی ۔ملک میں قانون کی عملداری چلے گی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے عوام سے کیا گیا کون سا وعدہ پورا کیا ۔ شہباز شریف نے کہا کہ میں نے 160 ارب روپے کی بچت کی اور ایک دھیلہ بھی کم ہو تو جو مرضی سزا دیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ میں آپ کے احتساب کے لئے نہیں بیٹھا۔ احتساب کے لئے کوئی اور ادارہ ہے وہ اپنا کام کرے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ صاف پانی کمپنی میںکروڑوں روپے لگ گئے لیکن عوام کو پینے کے لئے صاف پانی کی ایک بوند میسر نہیں آئی۔ آپ بطور وزیر اعلیٰ قومی خزانے کے امین تھے ۔ سب سے بڑا سوال ہے کہ میرٹ پر بھرتیاں کیسے ہوں گی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے آپ کو مخصوص سوال کے جواب کے لئے بلایا ہے۔ کمپنیوں میں 25،25 لاکھ پر ان لوگوں کو کیوں رکھا گیا۔چیف جسٹس نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے جواب سے غیرمطمئن ہوں۔ یہ پیسہ واپس آنا چاہیے ۔ آپ کریں یا جن لوگوں نے یہ پیسہ لیا ہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس اور شہباز شریف کے گرما گرمی بھی ہوئی۔شہباز شریف نے جذبات میں آکر کہا کہ مجھے کسی کتے نے کاٹا تھا جو میں بچت کرتا رہا ہوں تاہم انہوں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ معافی چاہتا ہوں سخت الفاظ واپس لیتا ہوں۔