تازہ ترین



سیکشن: اسپورٹس پلس

2016ء ایشیا کی 3 ٹیموں کیلئے یادگار

shadow
 
پاک و ہند کو عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن تک پہنچنے اور بنگلہ دیش کوپہلی بار انگلینڈ کو شکست دیکر اپنی کرکٹ تاریخ میں زریں باب کا اضافہ کرنے کا موقع مل گیا
 
اجمل حسین ۔  نئی دہلی
 
سال  2016ایشیا کی 3 ٹیموں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے لیے ہر لحاظ سے بہتر اور یادگار ثابت ہوا۔ اگر ان تینوں کی پرفارمنس یہی رہی تو سال رفتہ کی طرح نیا سال بھی ایسا ہی یادگار بن سکے گا۔ اس سال ٹیسٹ کرکٹ میں تینوں ٹیموں کی کارکردگی ملی جلی رہی ۔ پاکستانی ٹیم درجہ بندی کا سلسلہ شروع کیے جانے کے بعد عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی بار بھلے ہی کچھ دنوں کےلئے سہی لیکن پہلے نمبر پر بھی آئی اور اسے نمبر ون ٹیم کا اعزاز دلوانے میں اس کے کپتان مصباح الحق کا زبردست تعاون رہا۔ یہ مختصر مدت کے لیے ملا عالمی اعزاز اس لئے بھی قابل صد افتخار ہے کیونکہ پاکستان نے نمبر ون کی پوزیشن تک پہنچنے کا پورا سفر پاکستان کے باہر ہی کیا۔جہاں نہ پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنا کراو¿ڈ دستیاب تھا اور نہ اپنا ماحول اسے مل پایاتھا۔ مصباح الحق کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ وہ آسٹریلیا، انگلستان، ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے بعد ایسے پانچویں ٹیسٹ کرکٹ کپتان تھے جس نے عالمی ٹیسٹ رینکنگ کی پہلی پوزیشن کے بعد میس بھی حاصل کیا۔
ان سے قبل اسٹیو وا، رکی پونٹنگ، مائیکل کلارک اسٹیو اسمتھ،مہندر سنگھ دھونی، اینڈریو اسٹراوس گریم اسمتھ اور ہاشم آملہ میس حاصل کر چکے تھے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اپنے فعال قائد مصباح الحق کی قیادت میں جولائی میں انگلستان کے دورے سے ٹیسٹ میچوں کا آغاز کیا اور آسٹریلیا کے خلاف باکسنگ ڈے سے شروع ہونے والے ملبورن ٹیسٹ میچ سے پہلے تک10ٹیسٹ کھیلے جن میں سے چار جیتے اور 6میں اسے شکست ہوئی۔اگر اس نے بھی ہندوستان کی طرح سال2016ءکے پہلے 6 ماہ میں زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کھیلی ہوتی تو شاید وہ اس پورے سال تک عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں اول پوزیشن پر رہ سکتی تھی۔تاہم یہ بھی قابل فخر بات رہی کہ سال 2016ءمیں اس نے آئی سی سی ٹیسٹ چمپیئن شپ کا میس اس قذافی اسٹیڈیم میں حاصل کیا جہاں اس نے 7 سال پہلے اپنا آخری ہوم ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔
دوسری جانب ہندوستانی ٹیم نے تو پہلی پوزیشن پر کچھ اس طرح قبضہ کیاکہ شاید اگلے سیزن کے آغاز تک وہ اس پر برقرار رہنے میں کامیاب رہے گی۔ ویسے بھی مجموعی طور پر یہ سال ہندوستانی کرکٹ کے حق میں کامیابیاں ہی کامیابیاں لایا۔انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز 4-0 سے جیت کر ہند نے رینکنگ میں اپنی پہلی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے۔ سیریز کا آغاز ڈرا سے ہوا تھا۔ پہلے ٹیسٹ کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ محض132رنز پر ہند کے 6کھلاڑی آوٹ ہو گئے اور ٹیم پر شکست کے بادل منڈلانے لگے لیکن کپتان کوہلی اور جڈیجہ میچ بچا لے گئے اور معاملہ ڈرا پر ہی ٹل گیا بقیہ چاروں میچ جیت کر ہند نے سیریز بھی اپنی نام کر لی ۔ 
سال کے اختتام تک بر صغیر کی 2ٹیموں پاکستان اور ہندوستان کو عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن تک پہنچنے کا اور تیسری ٹیم بنگلہ دیش کوپہلی بار انگلستان کو شکست دے کر اپنی کرکٹ تاریخ میں ایک زریں باب کا اضافہ کرنے کا موقع ضرور مل گیا۔ 2016بنگلہ دیش کے حق میں اس لئے یادگار رہے گا کہ اسے جہاں ایک طرف انگلستان کو کوئی ٹیسٹ میچ ہرانے کا اعزاز حاصل ہوا وہیں اس نے مہدی حسن معراج نام کا ایک ایسا کمسن آف اسپنر دریافت کیا جس نے کرکٹ کے افق پر نمودار ہوتے ہی اپنی صلاحیتوں کا وہ ڈنکا بجایا کہ دورے پر آئی انگلستان کی ٹیم لرز اٹھی ۔ وہ پہلا ٹیسٹ تو گرتے پڑتے جیتنے میں کامیاب ہوگئی لیکن ایسی لرزہ براندام رہی کہ پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں معراج کے سامنے سہمی انگلستان کی پوری ٹیم اگلے ہی ٹیسٹ میں معراج کی بولنگ کے آگے ایسی سپر انداز ہوئی کہ بنگلہ دیش پہلی بار انگلستان کوکوئی ٹیسٹ ہرانے میں کامیاب ہو گیا۔
******
1