تازہ ترین



سیکشن: روشنی

ہجری تقویم، امت کی شناخت کی بنیاد

shadow

حضرت عمر ؓ کے عہد خلافت میں ممالکِ مفتوحہ کی وسعت اور دفاترِحکومت کے قیام سے حساب و کتاب کے معاملات زیادہ وسیع ہوئےتوایک سنہ کےمعاملہ پر غور کیا گیا چنانچہ سنہ ہجری کا تقرر عمل میں آیا

 

مفتی تنظیم عالم قاسمی ۔ حیدرآباد دکن

تاریخ عالم کا یہ عظیم واقعہ جس کی یاد سال کے آغاز و اختتام میں پوشیدہ ہے ، ہجرتِ نبوی کا واقعہ ہے کیونکہ پہلی محرم سے نیا اسلامی سال شروع ہوتا ہے اور اس واقعہ کی بنیاد واقعۂ ہجرت پر رکھی گئی ہے ۔ ہر سال جب 30 ذی الحجہ کا دن ختم ہوتا ہے اور پہلی محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو اس عظیم واقعے کی یاد ہمارے دِلوں میں تازہ کرد ینا چاہتا ہے ۔ یہ فی الحقیقت ایک جاری و قائم یادگار ہے ۔یہ دنیا کی تمام قوموں کی یاد گاروں کی طرح قوت کی کامرانیوں کی یادگار نہیں بلکہ کمزوری کی فتح مندیوں کی یادگار ہے ۔ یہ اسباب و وسائل کی فراوانیوں کی یادگار نہیں ، بے سروسامانیوں کی یادگار ہے ۔ یہ حکومت و طاقت کے جاہ و جلال کی یادگار نہیں ، محکومی و بے چارگی کے ثبات و استقلال کی یاد گارہے، یہ فتحِ مکہ کی یادگار نہیں جسے10 ہزار تلواروں کی چمک نے فتح کیا تھا، یہ فتحِ مدینہ کی یادگار ہے جسے تلواروں کی چمک نے نہیں بلکہ ایک بے سرو سامان انسان کی رُوحِ ’’ ہجرت ‘‘ نے فتح کیا تھا ۔ اسلام کے ظہور سے پہلے دنیا کی متمدن قوموں میں سنہ جاری تھے ۔ زیادہ مشہور یہودی ، رومی اور ایرانی سِنین(سنہ کی جمع، بہت سے سال) تھے ۔ عرب کی جاہلیت کی اندرونی زندگی اس قدر متمدن نہیں تھی کہ حساب و کتاب کی کسی وسیع پیمانے پر ضرورت ہوتی ۔اوقات و مواسم کی حفاظت اور یاداشت کیلئے ملک کا کوئی مشہور واقعہ لے لیتے اور اس سے وقت کا حساب لگا لیتے ۔ منجملہ سِنینِ جاہلیت کے ’’عام الفیل ‘‘ تھا ۔ یعنی شاہِ حبش ’’ابرہہ‘‘ کے حجاز پر حملہ کرنے کا سال۔ عرصے تک یہی واقعہ عرب کے حساب و کتاب میں بطورِ سنہ مستعمل رہا ۔

ظہورِ اسلام کے بعد یہ اہمیت خود عہدِ اسلام کے واقعات نے لے لی ۔ صحابہ کرام ؓ کا قاعدہ تھا کہ عہدِ اسلام کے واقعات میں کوئی ایک اہم واقعہ لے لیتے اورا ُسی سے حساب لگا لیتے تھے ۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد ہی سورہ ٔحج کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں قتال کی اجازت دی گئی تھی ۔ اس لئے کچھ دنوں تک یہی وجہ بطور ایک سنہ کے مستعمل رہا ۔ لوگ اسے’’سنہ اذن‘‘سے تعبیر کرتے ۔ یہ تعبیر وقت کے ایک خاص عدد کی طرح یاد داشت میں کام آتی تھی ۔ اس طرح سورہ براء ۃ کے نزول کے بعد بول چال میں’’ سنہ براء ۃ ‘‘ کا بھی رواج رہا ۔ عہدِ نبوی ﷺ کا آخری سنہ ’’سنہ الوداع ‘‘ تھا یعنی آنحضرت ﷺ کے آخری حج کا واقعہ جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہوگیا تھا اور ہجرت کے دسویں سال پیش آیا تھا ۔ بعض روایات سے اس طرح کی متعدد سنوں کا پتہ چلتا ہے،مثلاً سنہ المحیص ،سنہ الترفۂ،سنہ الزلزالاورسنہ الاستیناس وغیرہ۔ بیرونی نے ’’آثار الباقیہ ‘‘ میں اس طرح کے10 سنوں کا ذکر کیا ہے ۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد کچھ عرصہ تک یہی حالت جاری رہی لیکن حضرت عمر ؓ کی خلافت کا عہد شروع ہوا تو ممالکِ مفتوحہ کی وسعت اور دفاترِحکومت کے قیام سے حساب و کتاب کے معاملات زیادہ وسیع ہوئے اور ضرورت پیش آئی کہ سرکاری طور پر کوئی ایک سنہ قرار دے دیا جائے چنانچہ اس معاملہ پر غور کیا گیا اور سنہ ہجری کا تقرر عمل میں آیا ۔ اس وقت واقعہ ٔ ہجرت پر 16 برس گزر چکے تھے ۔ حضرت عمرؓ اور تمام صحابہؓ کا ذہن اس طرف گیا کہ اسلامی سنہ کی ابتداء واقعۂ ہجرت سے کی جائے ۔ اس بارے میں متعدد روایتیں منقول ہیں ۔ 

سب سے زیادہ مشہور میمون بن مہران کی ہے جسے تمام مورخین نے نقل کیا ہے،خلاصہ اس کا یہ ہے : ’’ایک مرتبہ ایک کاغذ حضرت عمر ؓکے سامنے پیش کیا گیا جس میں شعبان کا مہینہ درج تھا ۔ حضرت عمرؓنے کہا شعبان سے مقصود کون سا شعبان ہے ؟ اس برس کا یا آئندہ بر س کا ؟ پھر آپؓنے سر بر آوردہ صحابہؓ کو جمع کیا اور ان سے کہا اب حکومت کے مالی وسائل بہت زیادہ وسیع ہوگئے ہیں اور جو کچھ ہم تقسیم کرتے ہیں، وہ ایک ہی وقت میں ختم نہیںہوجاتا لہٰذا ضروری ہے حساب و کتاب کیلئے کوئی ایسا طریق اختیار کیا جائے کہ اوقات ٹھیک طور پر منضبط ہوسکیں ۔ اس پر لوگوں نے کہا ایرانیوں سے مشورہ کرنا چاہئے کہ اُن کے یہاں اس کے کیا طریقے تھے ؟ چنانچہ حضرت عمر ؓنے ہر مزان کو بلایا ۔ اُس سے کہا : ہمارے یہاں ایک حساب موجود ہے جسے ’’ماہ روز ‘‘ کہتے ہیں ۔ اِسی ماہ روز کو عربی میں ’’مورّخہ‘‘بنالیا گیا ہے ۔ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کی تاریخ کیلئے جو سنہ اختیار کیا جائے اس کی ابتداء کب سے ہو ؟ سب نے اتفاق کیا کہ ہجرت کے برس سے کی جائے چنانچہ ہجری سنہ قرار پایا ‘‘(تاریخ کبیر ذہبی و تاریخ مقریزی) ابو ہلال عسکری نے ’’الاوائل‘‘ میں اور مقریزی نے’’ تاریخ‘‘ میں حضرت سعید بن مسیّبؒ سے نقل کیا ہے کہ واقعۂ ہجرت سے سنہ شروع کرنے کی رائے حضرت علی ؓنے دی تھی وہ کہتے ہیں کہ ’’حضرت عمر ؓنے جب صحابہ ؓسے مشورہ کیا کہ کس دن سے تاریخ کا حساب شروع کیا جائے ؟ تو حضرت علی ؓنے فرمایا اُس دن سے جس دن آنحضرت ﷺ نے ہجرت کی اور مکہ سے مدینہ آئے ‘‘ (کتاب الاوائل قلمی، مقریزی)یعقوبی نے بھی اسے منجملہ ان امور کے قرار دیا ہے جو حضرت علی ؓ کی رائے سے انجام پائے ۔16ھ کے باب میں لکھا ہے’’اُسی زمانے میں حضرت عمرؓنے ارادہ کیا کہ ضبطِ کتابت کیلئے ایک تاریخ قرار دے دی جائے پہلے اُنہیں خیال ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی ولادت سے شروع کریںپھر خیال آیا کہ آپ ﷺ کی بعثت کے واقعے سے ابتداء کی جائے لیکن حضرت علی ؓنے رائے دی کہ ہجرت سے شروع کرنا چاہئے ‘‘ ان روایات کے مطالعہ کے بعد ضروری ہے کہ بعض امور پر غور کیا جائے : سب سے پہلے جو بات سامنے آتی ہے یہ کہ حضرت عمرؓ اور صحابہؓ نے یہ ضرورت محسوس کیوں کی کہ ایک نیا سنہ قرار دیا جائے ؟ امام شعبی کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ تاریخ کے تعین وتقرر کی ضرورت محسوس کر رہے تھے لیکن پسند نہیں کررہے تھے کہ دوسری قوموں کی تاریخ اختیار کر یں ۔ پہلی روایت میں جس ہر مزان کو بلانے اور مشورہ کر نے کا ذکر ہے ، یہ خوز ستان کا بادشاہ تھا اور مسلمان ہو کر مدینہ میں آباد ہو گیا تھا ۔

حضرت عمرؓ کی مجلس شوریٰ میں اس کا بار بارذکر آتا ہے ۔ بیرونی لکھتے ہیں :جب حضرت عمر ؓ نے اس سے مشورہ کیا تو اس نے نہ صرف ایرانیوں کا طریقہ ہی بتلایا بلکہ روسیوں کے طریقے کی بھی تشریح کی ۔ایرانیوں کے یہاں سنہ یزدگر کا تھا اور رومیوں کا مشہور سنہ سکندر کی پیدائش سے شروع ہو تا ہے ۔ بعض اصحاب کو خیال ہواکہ انہی دونوں میں سے کوئی سنہ اختیار کرلیا جائے لیکن حضرت عمر ؓ اور دوسرے لوگ اس سے متفق نہ ہوئے ۔ اس سے معلوم ہواکہ ایرانیوں اور رومیوںکے سِنین مجمع میں زیر بحث رہے اور بعض نے اسے اختیار کر نے کی رائے بھی دی ، لیکن عام ر جحان اس طرف تھا کہ نیا سنہ مقرر کرنا چاہئے۔ اس حقیقت پر بھی نظر رہے کہ سنہ کی ضرورت اور استعمال کی بڑی جگہ حساب کتاب کے دفاتر تھے اور حضرت عمرؓ نے باتفاقِ صحابہ ؓ دفاتر کیلئے وہی زبانیں اختیار کر لی تھیں جو بیشتر مفتوحہ ممالک میں رائج تھیں ۔

ایران کیلئے فارسی ، شام کیلئے سر یانی اور مصر کیلئے قبطی تھی۔ ظاہر ہے کہ جب دفاتر کیلئے ایران و شام کی زبانیں اختیار کر لی گئیں تو قد ر تی طور پر سنہ بھی وہی اختیار کر لینا تھا جو ان زبانوں کے حساب وکتاب میں رائج تھا ۔ اس کے قواعد بندھے چلے آتے تھے لیکن حضرت عمر ؓ اور صحابہؓ نے ایسا نہیں کیا کہ ایران اور روم ومصر کی زبانیں اختیار کرلیں مگر سنہ اپنا قائم کرنا چاہا ۔ غور کر نا چاہئے کہ اس اجتناب کی علت کیا تھی ؟ اس کی اصل علت یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم وتربیت نے صحابہؓ کی فکر جس سانچے میں ڈھال دی تھی وہ ایسا سانچہ تھا جس میں دوسرے درجے کا کوئی خیال سما ہی نہیں سکتا تھا ۔ وہ صرف اول درجہ کے خیالات کیلئے تھا ۔ بہت ممکن ہے کہ دنیا کے تمدنی علوم وفنون کے رائج نہ ہونے کی وجہ سے وہ کو ئی بات علموں ، طریقوں اور مصطلَحَ(محاوروں) نقطوں میں ادا نہ کر سکتے ہوں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات وہ ایک بات کی علت اس شکل وصورت میں نہ دیکھتے ہوں جس صورت میں آج دنیا دیکھ رہی ہے لیکن ان کی طبیعت کی افتاد اور ذہنیت کی روش کچھ اس طرح بن گئی تھی کہ جب کبھی کسی معاملے پر سوچ وبچار کر تے تھے تو خواہ علت و موجب سمجھ سکیں یا نہ سمجھ سکیں لیکن دماغ جاتا اسی طرف تھا جو علم وحکمت کیلئے بہتر سے بہتر اور بلند سے بلند پہلو ہوسکتے تھے ۔

یہی معنیٰ ہیں انبیا ئے کرام کے مقامِ ’’ تزکیہ ‘‘ کے ،یعنی دل ودماغ کی اس طرح تربیت کردی جاتی ہے کہ ایک موز وں ومستقیم سانچہ ڈھل جاتا ہے ۔ اب جب کبھی کو ئی ٹیڑھی چیز اس میں رکھی جا ئے گی وہ قبول نہیں کر ے گا اور موزوں چیز ہی اس میں سما سکتی ہے ۔ اسلام کی تربیت نے صحابہؓ کے دل ودماغ میں قومی شرف اور خود داری کی روح پھونک دی تھی ۔ قومی زندگی کی بنیاد یں جن اینٹوں پر استوار ہوتی ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک اینٹ کیلئے ان کے اندر پہچان اور لگاؤ تھا ۔ اگر چہ وہ لفظوں میں اور تعبیر وں میں انہیں بیان نہ کر سکیں ۔ جب حضرت عمرؓنے سنہ اور تاریخ کی ضرورت محسوس کی تو اگر چہ متمدن اقوام کے سنین رائج ومستعمل تھے لیکن ان کی طبیعت مائل نہ ہوسکی۔ اس لئے کہ ایسا کر نا نہ صرف قومی شرف وخود داری کے خلاف تھا بلکہ قومی زندگی کی بنیادی انیٹوں میں سے ایک اینٹ کھو دینا تھا۔

 

مکمل مضمون روشنی30دسمبر 2016کے شمارےمیں ملاحظہ فرمائیں

1