تازہ ترین



سیکشن: روشنی

تنہائی میں حرمت پامال کرنا ، نیکیوں کے ضیاع کا سبب

shadow

بعض لوگ ظاہر میں دین دار اور عبادت گزار ہوتے ہیں لیکن وہ تنہائی میں گناہوں سے اپنے دامن کو نہیں بچاتے۔ ایسے لوگوں کی دینداری انہیں کچھ کام نہ آئے گی

 

***** مولانا محمد عابد ندوی ۔ جدہ ****

گناہ اور اﷲ کی نافرمانی ، پروردگار کی ناراضگی کا باعث ہے ۔ اﷲ ہی خالق و مالک اوررازق ہے ، بندوں پر اس کے بے شمار انعامات و احسانات ہیں ، نیز وہ بزرگ و برتر ، بڑی عظمتوں والا اور عرش عظیم کا مالک ہے۔ وہ آقا و مولیٰ ہے اور بندے اس کے محکوم ۔ پروردگار کی تعظیم و توقیر اور عظمت و بزرگی کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اس کی نافرمانی کے تصور سے بھی کانپ اُٹھے۔ عام طورپر آدمی ظاہر میں لوگوں کے ڈر خوف اور شرم و حیاسے بہت سے محرمات اورگناہوں سے دور رہتا ہے لیکن جب انسانوں میں کوئی دیکھنے والی آنکھ نہ ہو اور وہ تنہائی میں ہو تب اﷲ تعالیٰ کا ڈر خوف ، اس کی نگرانی کا احساس اور پروردگار کے سمیع و بصیر ہونے کا استحضار ہی آدمی کو گناہ اور پروردگار کی نافرمانی سے روکتا ہے۔

مختلف موقعوں پر رسول اﷲﷺنے تنہائی میں اﷲ تعالیٰ سے ڈرنے کی خاص طورپر وصیت فرمائی۔ بعض لوگ ظاہر میں دین دار اور عبادت گزار ہوتے ہیں لیکن وہ تنہائی میں گناہوں سے اپنے دامن کو نہیں بچاتے۔ ایسے لوگوں کی دینداری انہیں کچھ کام نہ آئے گی۔ ان کی عبادت اور نیکیوں کی اﷲ تعالیٰ کے ہاں کوئی قیمت نہ ہوگی ۔

تنہائی میں اﷲ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کرنے اور بے خوف و خطر اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں میں مبتلا ہونے کے سبب روز قیامت ان کی ساری نیکیاں بے وقعت و بے حیثیت اور رائیگاں ہوسکتی ہیں ۔حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺنے ارشاد فرمایا : ’’ میں اپنی اُمت کے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو روز قیامت تہامہ کے پہاڑوں کے مثل نیکیاں لے کر حاضر ہوں گے لیکن اﷲ تعالیٰ انہیں بے حیثیت اور پراگندہ ذروں کی طرح بکھیر دے گا ۔‘‘ حضرت ثوبانؓ نے دریافت کیا : یا رسول اﷲﷺ ہمیں ان لوگوں کی حالت اور وصف بتلادیجئے تاکہ ہم نادانستہ ان لوگوں میں سے نہ ہوجائیں ۔ رسول اﷲﷺنے ارشاد فرمایا: ’’ وہ تمہارے ہی بھائی بند ہوں گے ، تمہاری طرح راتوں میں عبادت بھی کرتے ہوں گے لیکن جب وہ لوگ تنہائی میں ( لوگوں کی نگاہوں سے دور ) ہوں گے تو اﷲ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کریں گے۔ ‘‘ ( ابن ماجہ ) ۔ یعنی تنہائی میں اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں سے ان کا دامن داغدار ہوگا ۔ حدیث بالا سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ پہاڑوں کے مثل بے شمار نیکیاں ، قیام اللیل اور راتوں کی عبادتیں بھی نامۂ اعمال میں ہوں لیکن ساتھ ہی بندہ تنہائی میں اﷲ تعالیٰ کی حرمتوں کو بھی پامال کرتا ہو تو ایسی عبادت وشب بیداری اور نیکیوں کا اسے کوئی فائدہ نہ پہنچ سکے گا ۔ان نیکیوں کی حفاظت کے لئے یہ بھی ضروری ہے بندہ تنہائی میں اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ، اس کی قوت و عظمت اور بڑائی کا استحضار کرتے ہوئے گناہوں سے دور رہے ، ورنہ اس کی یہ نیکیاں ضائع و برباد ہوسکتی ہیں ۔ قتل مومن پر خوشی : انسانی جان کی خاص طورپر جبکہ وہ مسلمان اور صاحب ایمان بھی ہو ، اﷲ تعالیٰ کے ہاں بڑی قیمت اور قدر و منزلت ہے۔ ناحق کسی کا خون بہانا بہت بڑا گناہ ہے۔ احادیث میں صراحت ہے کہ مسلمان کا خون اور اس کی عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ کسی مسلمان سے اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی مسلمان بھائی کو عمداً قتل کرے گا۔ ایسے شخص کے لئے تو قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ کا غضب و لعنت اور جہنم کی وعید آئی ہے ( النساء 93 ) ایسا شخص ندامت کے آنسو بہاکر سچی توبہ نہ کرے تو اس بات کا خطرہ ہے کہ اس کی نیکیاں اور اعمالِ صالحہ بھی اسے جہنم کے دردناک عذاب اور غضب الٰہی سے نہ بچاسکیں گی۔ رسول اﷲﷺسے ایک حدیث ان الفاظ میں مروی ہے: ’’ ہر گناہ ایسا ہے کہ ممکن ہے اﷲ اس کو بخش دے ، سوائے اس کے کہ کوئی شرک کی حالت میں مر جائے یا وہ جس نے کسی مومن کو عمداً قتل کیا ہو۔ ‘‘ ( ابوداؤد ، نسائی ) ۔ اسی طرح رسول اﷲﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ’’ جس نے کسی مومن کو قتل کیا ، پھر اس کے قتل پر خوش ہوا تو اﷲ اس سے نہ کوئی فرض قبول کرے گا اور نہ نفل۔ ‘‘ ( ابوداؤد ) ۔

یعنی کوئی عبادت اور نیکی ایسے شخص کی اﷲ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں لہٰذا اعمال صالحہ کی حفاظت اور عند اﷲ ان کی قبولیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایسے سنگین گناہ سے آدمی اپنے دامن کو بچائے رکھے ۔ مال حرام کا صدقہ : حدیث پاک میں صراحت ہے کہ اﷲ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی کو قبول فرماتا ہے ، اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے کہ خیانت اور چوری سے حاصل کئے ہوئے مال کا صدقہ اﷲ قبول نہیں فرماتا۔ اﷲ تعالیٰ نے رسولوں سے بھی خطاب کرکے فرمایا کہ: ’’ پاکیزہ چیزیں کھاؤ اورنیک عمل کرو ۔‘‘(المؤمنون51)۔ اس حکم میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عمل صالح کی توفیق اوران کی قبولیت میں حلال و طیب غذا کو بھی بڑا دخل ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جس بندہ کے پیٹ میں حرام غذا داخل ہو اور اس کے جسم پر حرام لباس ہو تو ایسے شخص کی نماز اور دُعاء بھی قبول نہیں ہوتی۔ صدقہ کرکے احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے بھی صدقہ بے اثر اور باطل ہوجاتا ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور تکلیف پہنچاکر باطل نہ کرو اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے۔ ‘‘ ( البقرہ264 ) ۔

یعنی صدقہ میں ریا کاری اور احسان جتاکر تکلیف پہنچانا ایسی برائی ہے کہ اس سے صدقہ باطل ہوجاتا ہے ، احسان جتانے والے کی دیگر نیکیاں بھی ضائع ہوسکتی ہیں ۔ روزے اور حج کے اجر و ثواب اور فائدہ سے محرومی : روزہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور خواہشات نفسانی سے رکنے کا نام ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور قرب حاصل کرنے کا اہم ذریعہ روز ہ ہے جو کہ تقویٰ پرہیزگاری سکھاتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے روزہ میں خاص طورپر جھوٹ بولنے اورغلط کام کرنے سے روکا گیا جبکہ جھوٹ اور گناہ کے کام روزہ کے علاوہ بھی حرام ہی ہیں۔ الغرض روزہ میں جھوٹ بولنا یا گناہوں کا ارتکاب کرنا ، ایسی برائی ہے کہ اس سے روزہ کا فائدہ اور اجر و ثواب ضائع ہوسکتا ہے،رسول اﷲﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ’’ جس کسی نے ( روزہ رکھ کر ) جھوٹ اور غلط کام نہ چھوڑا تو اﷲ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ ‘‘ ( بخاری ) ۔ اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے : ’’ بہت سے روزہ داروں کے حصہ میں ( اجر و ثواب کے بجائے ) صرف بھوک پیاس ہی آتی ہے ۔‘‘ حج اہم ترین عبادت : حج بھی اہم ترین عبادت اور اسلام کا رکن ہے۔ گناہوں کا کفارہ ، حصولِ مغفرت اور جنت کا ذریعہ ہے لیکن رسول اﷲﷺ کا یہ واضح ارشاد گرامی ہے :

’’ جس نے بھی حج کیا اور ( اس میں ) شہوانی کام اور باتیں نہیں کیں اور گناہ سے بچتا رہا تو وہ ( گناہوں سے پاک صاف ) اس طرح واپس لوٹے گا جس طرح سے کہ وہ ماں سے پیدائش کے دن تھا۔ ‘‘ معلوم ہوا کہ حج میں لڑائی جھگڑا ، فسق و فجور اور شہوانی باتوں سے یا شہوانی افعال سے حج کا یہ عظیم فائدہ حاصل نہ ہوگا ۔ نمازوں کی عدم قبولیت : نماز ، اسلام کا اہم ترین رکن اور دین کا بنیادی ستون ہے۔ یہ فواحش و منکرات سے بھی روکتی ہے اور قرب الٰہی کا اہم ذریعہ ہے لیکن احادیث میں صراحت ہے کہ بعض برائیاں ایسی ہیں کہ ان کے ارتکاب سے نماز میں اﷲ تعالیٰ کے دربار میں شرف قبولیت سے محرومی رہتی ہیں۔ ایک حدیث میں رسول اﷲﷺ کا ارشاد گرامی ہے: جس نے شراب پی اور نشہ سے بدمست ہو ا اس کی40 دن کی نماز قبول نہ ہوں گی۔ ‘‘ ( ابن ماجہ ، ترمذی )۔ ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے کہ جس نے تھوڑی سی شراب پی اور نشہ سے بدمست نہ ہوا تو جب تک اس کے پیٹ اور رگوں میں کچھ بھی شراب رہے گی اس وقت تک اس کی نماز قبول نہ ہوگی اور اگر شراب پی کر نشہ میں مبتلا ہوگیا تو40 راتوں کی نمازیں قبول نہ ہوں گی ۔‘‘ ( نسائی )۔ اسی طرح جس گناہ سے نمازیں نامقبول ہوتی ہیں ، اُن میں کاہنوں اور نجومیوں سے غیب کے حالات دریافت کرنا بھی ہے۔ رسول اﷲﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’ جو کسی کاہن کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو اس کی 40 دن کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی۔ ‘‘ ( مسلم) ۔

یہ وعید بھی اس کے لئے ہے جو کاہن سے غیب کے حالات یا خبروں کے بارے میں دریافت کرے۔ اگر کوئی کاہن کی بتائی ہوئی باتوں پر تصدیق کرے اور انھیں سچا جانے تو اس پر اور بھی سخت وعید ہے ، ایسے شخص کے بارے میں آپﷺنے فرمایا: ’’ اس نے یقینا اس چیز کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر اُتارا گیا۔ ‘‘ ( ترمذی ، ابوداؤد )۔ یعنی شریعت محمدیؐ کے انکار کی طرح ہے ، یہ کفریہ عمل ہے جو آدمی کو کفر سے قریب تر کردیتا ہے ۔ جو عورت شوہر کی نافرمان ہو تو ا س کی نمازیں بھی قبول نہیں ہوتیں تاآںکہ وہ نافرمانی سے باز آجائے اور اطاعت و فرمانبرداری کرنے لگے ۔ رسول اﷲﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ’’ 2افراد ایسے ہیں جن کی نمازیں ان کے سروں سے آگے بھی نہیں بڑھتیں، ایک وہ غلام جو آقا سے راہ فرار اختیار کرلے جب تک کہ وہ اپنے آقا کے پاس واپس نہ آجائے ، دوسرے وہ عورت جو شوہر کی نافرمان ہو یہاں تک کہ وہ نافرمانی سے باز آجائے۔ ‘‘ ( طبرانی ، مستدرک حاکم )۔ اسی طرح وہ عورت جو خوشبو لگاکر مسجد کو جائے یا وہ امام جو لوگوں کے نہ چاہنے کے باوجود ان کی امامت کرے ان کی بھی نمازیں حدیث رسول اﷲﷺ کی روشنی میں اوپر کو نہیں پڑھتیں اور اﷲ تعالیٰ کے نزدیک شرف قبولیت سے محروم رہتی ہیں ۔ یہ وہ چند برائیاں ہیں جن سے اعمالِ صالحہ ضائع ہوجاتے اور نیکیوں کا اثر زائل ہوجاتا ہے ، اِن سے بچنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے تاکہ نیکیاں نامۂ اعمال میں محفوظ رہیں اور روز قیامت ان کا فائدہ پہنچ سکے ۔

1