Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کریڈٹ کارڈ کے درست اور غلط استعمال میں فرق، سُود سے کیسے بچا جائے؟

لوگ عموماً ڈیبٹ کارڈ، جسے عام طور پر اے ٹی ایم کارڈ بھی کہا جاتا ہے اور کریڈٹ کارڈ کے درمیان فرق نہیں سمجھ پاتے۔
کریڈٹ کارڈز کس طرح کام کرتے ہیں، ان کا فائدہ کیا ہے اور نقصان کیا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ آپ کو کریڈٹ کارڈ چاہیے بھی یا نہیں؟ اس حقیقت کو فراموش مت کیجیے گا کہ بینک ان کریڈٹ کارڈز سے کس طرح پیسہ بناتے ہیں اور آپ اس بارے میں ہمیشہ انجان رہتے ہیں۔
ڈیبٹ کارڈز یا اے ٹی ایم کارڈز کے بارے میں تو آپ نے سنا ہی گا؟
ڈیبٹ کارڈ بینک عموماً آپ کو اپنا اکاؤنٹ کھلوانے کے بعد فراہم کرتے ہیں۔ آپ اگر ڈیبٹ کارڈ استعال کرتے ہیں تو آپ کو رقم نکلوانے کے لیے بینک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ گھر یا دفتر کے قریب ہی موجود اے ٹی ایم سے آپ نہ صرف رقم نکلوا سکتے ہیں بلکہ آن لائن رقم ٹرانسفر بھی کر سکتے ہیں۔
کریڈٹ کارڈز بھی بظاہر یہی کام کرتے ہیں۔ تاہم ان دونوں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ میں موجود رقم آپ کی اپنی نہیں ہوتی۔ اس کو آپ ایک قسم کا بینک لون یا قرض کہہ سکتے ہیں۔
اس کی مثال ہم یوں دیں گے کہ مہینے کے آخر میں آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے نہیں ہیں، آپ کو کوئی ضروری خریداری کرنی ہے تو اس وقت کریڈٹ کارڈ ہی آپ کے کام آ سکتا ہے، جس کو استعمال کر کے آپ کچھ بھی خرید سکتے ہیں اور بینک کو بعد میں بل کی صورت میں ادائیگی کر سکتے ہیں۔
کریڈٹ کارڈ میں بینک کی جانب سے آپ کو ایک ماہانہ حد دی جاتی ہے جسے آپ استعمال کر سکتے ہیں اور ایک ماہ کے عرصے کے بعد آپ کو بل کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔
یہ حقیقت مگر ذہن نشین رکھیں کہ کوئی بینک بھی کریڈٹ کارڈ آسانی سے جاری نہیں کرتا۔ آپ کو کریڈٹ کارڈ کے حصول کے لیے مختلف دستاویزات جمع کروانی ہوتی ہیں جو آپ کی مالی حالت سے متعلق ہوتی ہیں اور ان کے مطابق ہی آپ کو کریڈٹ کارڈ جاری کیا جاتا ہے جن میں سلور، گولڈ، پلاٹینیم، ڈائمنڈ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی کریڈٹ لمٹ اور فوائد کے علاوہ شرائط و ضوابط میں بھی فرق ہوتا ہے۔

کریڈٹ کارڈ میں موجود رقم آپ کی اپنی نہیں ہوتی۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

آپ ان فوائد کو آسان زبان میں ’بینیفٹس‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔
بینیفٹس میں آپ کو کیش بیک مل سکتا ہے، مختلف برانڈز، ریستورانوں، ائیرپورٹس اور شاپنگ سینٹرز پر خصوصی ڈسکاؤنٹس بھی آفر کیے جاتے ہیں۔
آپ کے کریڈٹ کی حد یا لمٹ یہ طے کرتی ہے کہ آپ کو بینک ماہانہ کتنی رقم  فراہم کرے گا جس سے ایک روپیہ زیادہ بھی آپ خرچ نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے آپ کا کریڈٹ سکور اور آمدن دیکھی جاتی ہے کہ آپ کتنا کماتے ہیں اور بینک کے ساتھ مالی معاملات میں کیسے ہیں۔ لین دین میں اگر تاخیر نہیں کرتے تو بینک آپ کو اچھی خاصی کریڈٹ لمٹ آفر کر سکتے ہیں۔ 
کریڈٹ کارڈ ایشو کروانے کے بعد آپ کو ایک طے شدہ اماؤنٹ فراہم کی جاتی ہے جس کی ادائیگی آپ آن لائن یا کارڈ کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ 
سب سے اہم بات یہ ہے اور یہ ایک ٹرک بھی ہے کہ کریڈٹ کارڈ کے درست استعمال سے آپ کریڈٹ کا سرکل اچھا خاصا چلا سکتے ہیں۔ 
میرا بل جولائی کی 15 تاریخ کو بنا جسے واپس کرنے کی تاریخ 5 اگست ہے۔ مجھے 5 اگست کو وہ سارے پیسے ادا کرنے ہیں جو پچھلے ایک ماہ میں میَں نے کریدٹ کارڈ سے خرچ کیے۔ اب میں یہ کروں گا کہ میں اپنا کریڈٹ کارڈ ہمیشہ بل بن جانے کے بعد ہی استعمال کروں گا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگلا بل 15 اگست کو بنے گا جس کی ادائیگی مجھے 5 ستمبر کو کرنا ہوگی۔ یوں مجھے 45 سے 50 دن کا وقت مل جائے گا۔ 

 اپنی کریڈٹ لمٹ ہمیشہ اپنی ماہانہ آمدنی سے کم رکھیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

میں اگر بل ادا کرنے میں تاخیر کروں؟ سب سے پہلے لیٹ پیمنٹ فیس چارج کی جائے گی اور میری خرچ کی ہوئی رقم پر انٹرسٹ ریٹ بھی چارج کیا جائے گا۔ 
بینک آپ کو ’منیمم پیمنٹ‘ کا آپشن بھی دیتا ہے جس سے آپ کچھ رقم ادا کر کے لیٹ پیمنٹ فیس سے بچ سکتے ہیں مگر سود سے بچنے کے لئے یہ طریقۂ کار موثر نہیں ہے۔ 
آپ اگر تاخیر سے ادائیگیاں کرنا معمول بنا لیتے ہیں اور کریڈٹ کارڈ  بھی استعمال کرتے رہتے ہیں تو آپ آہستہ آہستہ ڈیبٹ ٹریپ میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔
اس سے بچنے کا واحد طریقہ بل کی بروقت ادائیگی ہے۔ اپنی کریڈٹ لمٹ ہمیشہ اپنی ماہانہ آمدنی سے کم رکھیں، تاکہ کوئی مسئلہ اگر پیش بھی آئے تو آپ بآسانی اس دلدل سے نکل سکیں۔ 
اب ان تمام باتوں میں سب سے بڑا فائدہ کریڈٹ کارڈ کے استعمال کا یہ ہوسکتا ہے کہ آپ اپنا نہیں بینک کا پیسہ استعمال کررہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ آپ کریڈٹ کارڈ پر کیش بیک ریوارڈز، سپیشل ڈسکاؤنٹس اور مختلف آفرز سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 
سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ اگر بلز ٹائم پر ادا کر رہے ہیں اور کوئی سود بھی ادا نہیں کر رہے تو بینک پیسہ کیسے کماتا ہے؟
آپ کی کریڈٹ ہسٹری اچھی چل رہی ہو تو آپ کو نت نئی آفرز کی پیشکش کی جاتی ہے، آپ کبھی نہ کبھی کوئی آفر قبول بھی کر لیتے ہیں اور پھر بعد میں رقم ادا نہیں کرپاتے۔ پھر آپ کو آپ کے بلز پر اقساط کروانے کا آپشن بھی فراہم کیا جاتا ہے، اور جب آپ اقساط کروائیں گے تو بینک پراسیسنگ فیس چارج کرے گا اور سال سے زیادہ دورانیے کی اقساط پر مارک اپ بھی چارج ہوگا۔ 
سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اگر آن لائن ادائیگی کرنا چاہ رہے ہیں تو کریڈٹ کارڈ سے بہتر آپشن کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ 

شیئر: