Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی میں ڈاکٹر نے بیٹی اور نوجوان کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ کر دیا

سندھ میں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 123 افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیا جا چکا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کے علاقے گلشن اقبال بکھر گوٹھ میں سچل تھانے کی حدود میں ایک ڈاکٹر نے ’غیرت کے نام‘ پر اپنی بیٹی سمیت دو افراد کو قتل کر دیا۔
جمعے کو سچل تھانے کے ایس ایچ او نے اردو نیوز کو بتایا کہ پولیس نے واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے لڑکی لاریب کے والد ڈاکٹر رفیق شیخ اور بھائی کو حراست میں لے لیا ہے۔
’ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ بیٹی اور اس کے ساتھ موجود لڑکے کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔‘
پولیس نے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ابتدائی معلومات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹر رفیق شیخ کی بیٹی لاریب گلشن اقبال کے رہائشی حسن نامی نوجوان سے دوستی تھی۔
’حسن جمعے کی صبح لاریب سے ملاقات کے لیے اس کے گھر باہر اپنی سفید ویگو گاڑی میں پہنچا تھا۔ ملزم رفیق شیخ نے صبح اٹھتے گھر میں دیکھا تو بیٹی لاریب موجود نہیں تھی۔ جسے ڈھونڈنے وہ باہر نکلا تو ایک سفید گاڑی اس کے گھر باہر کھڑی تھی۔ ملزم نے گاڑی کے قریب جا کر دیکھا تو دونوں گاڑی میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ ملزم رفیق نے گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود حسن اور لاریب شدید زخمی ہو گئے اور ہسپتال پہنچنے سے قبل دونوں کی موت ہو گئی۔‘
لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے مقدمے کے اندراج کے لیے مقتول حسن کے گھر والوں کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ 
علاقہ مکینوں کے مطابق ڈاکٹر رفیق شیخ کافی عرصے سے اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ ڈاکٹر رفیق کراچی کے ایک ہسپتال میں کام کرتے ہیں اور پرائیوریٹ کلینک بھی چلاتے ہیں۔
علاقہ مکین سہیل منگی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’فائرنگ کی آواز سنتے ہی اہل علاقہ نے فوری طور پر ایمبولینس اور پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔ مرنے والی لڑکی ڈاکٹر رفیق کی بیٹی ہے۔ جبکہ لڑکے کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ اس علاقے کا نہیں ہے۔‘

لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ہمسایوں کے مطابق دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے۔
مقتول حسن کے اہلخانہ اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کر جناح ہسپتال پہنچے ہیں۔ اہلخانہ نے بچے کی موت پر بات کرنے سے معذرت کی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ میں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 123 افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیا جا چکا ہے۔
سندھ میں خواتین کے حقوق اور کاروکاری کے روک تھام کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیم سندھ سہائی آرگنائزیشن کی جانب سے جنوری تا جون تک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چھ ماہ میں 91 خواتین اور 32 مردوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے سب سے زیادہ واقعات سندھ کے علاقے جیکب آباد میں پیش آئے ہیں جہاں 19 افراد کو قتل کیا گیا ہے جن میں 12 خواتین اور سات مرد شامل ہیں۔

شیئر: