Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی شہری کے عجائب گھر میں مملکت میں ’چائے کے رواج‘ کی کہانی کیا ہے؟

عجائب گھر دو کمروں پر مشتمل ہے اور برسوں پرانے نوادر بھی موجود ہیں (فوٹو اخبار 24)
سعودی شہری مطلق المقاطی نجی عجائب گھر ’اواخر الستینات‘ (چھٹے عشرے کے اواخر) کے ذریعے  سعودی عرب میں چائے کے رواج کی کہانی پیش کر رہے ہیں۔ 
اخبار 24 کے مطابق چائے کی بین الاقوامی کمیٹی نے 2018 میں ایک  جائزہ جاری کرکے بتایا تھا کہ سعودی عرب چائے  درآمد کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے اور سالانہ 252 ملین ڈالر کی چائے درآمد کر رہا ہے۔ 

عراق اور کویت سے چائے درآمد کی جاتی تھی۔ (فوٹو اخبار 24)

المقاطی کا کہنا ہے کہ سعودی شہری قدیم زمانے سے چائے پسند کر رہے ہیں۔ آباؤ اجداد پڑوسی ملکوں سے اونیٹ اور ہائی لوکس  کے ذریعے چائے درآمد کیا کرتے تھے۔ 
المقاطی نے بتایا کہ اس کا عجائب گھر دو کمروں پر مشتمل ہے جس میں برسوں پرانے آلات اور نوادر جمع ہیں۔ نیز عراق اور کویت سے چائے کی درآمد کی کہانی بھی پیش کی جا رہی ہے۔ 

مطلق المقاطی کا کہنا ہے کہ ان کے گھروالوں نے کلاسک گاڑیوں کی ورکشاپ بھی قائم کر رکھی ہے (فوٹو اخبار 24)

المقاطی نے توجہ دلائی کہ ان کے گھر والے پرانی کلاسک گاڑیوں کی اصلاح و مرمت کے لیے سپیشل ورکشاپ قائم کی ہوئی ہے۔
مطلق المقاطی نے بتایا کہ ان میں دو گاڑیاں وہ بھی ہیں جو کلاسک گاڑیوں کے میلے میں پیش کی گئیں۔ ان  میں سے ایک  1969 کا ماڈل ہے۔ یہ گاڑی عراق اور کویت سے چائے درآمد کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی آج بھی اس گاڑی پر چائے کے پرانے ڈبے اور کارٹن لدے ہوئے ہیں۔ 

شہری نے عجائب گھر کا نام  ’اواخر الستینات‘ رکھا ہے۔  (فوٹو اخبار 24)

المقاطی نے بتایا کہ انہوں نے کئی سال نوادر جمع کیے جنہیں اب وہ اپنے گھر میں قائم عجائب گھر میں آنے والے شائقین کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ 
المقاطی کا  کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے عجائب گھر کا نام ’اواخر الستینات‘ بہت سوچ سمجھ کر رکھا ہے اس کے معنی چھٹے عشرے کے اواخر کے ہیں۔ یہ نام رکھنے کا مقصد گزشتہ صدی کے چھٹے عشرے کے آخری برسوں اور ساتویں عشرے کی شروعات میں مملکت میں مال و دولت کی فراوانی کی طرف توجہ مرکوز کرانا ہے۔
 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے اردو نیوز گروپ جوائن کریں

شیئر: