پاکستان کی پارلیمان میں حکومت کی مخالفت کے باوجود بچے کی پیدائش پر ماں اور باپ کے لیے چھٹیوں کا بل منظور کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر قرۃ العین مری کی جانب سے پیش کیے گئے بل پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی۔ مجوزہ بل میں کمیٹی نے ترامیم بھی تجویز کیں جنھیں منظور کر لیا گیا ہے۔
بل کے مطابق کوئی بھی ملازم خاتون اپنے پہلے بچے کی پیدائش پر چھ، دوسرے بچے کی پیدائش پر چار جبکہ تیسرے بچے کی پیدائش پر تین ماہ تک چھٹی حاصل کر سکے گی۔
مزید پڑھیں
-
دہری شہریت چھپانے والے سرکاری افسروں کو نوٹسNode ID: 223836
-
سرکاری ملازمین کے لیے عید الاضحی کی 12 چھٹیوں کا اعلانNode ID: 426966
-
بچہ پیدا ہونے پر ملازم کو 3 دن کی چھٹیNode ID: 432561
اسی طرح اگر کسی مرد ملازم کی اہلیہ بچے کو جنم دے گی تو وہ مکمل تنخواہ کے ساتھ ایک ماہ تک چھٹی حاصل کر سکے گا۔
یہ سہولت پوری ملازمت میں صرف تین دفعہ ہی دستیاب ہوگی، تاہم غیر معمولی صورت حال میں خاتون کو بغیر تنخواہ کے تین ماہ اور مرد کو ایک ماہ تک چھٹی مل سکے گی۔
اس قانون کی خلاف ورزی کرنے اور چھٹی سے انکار کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔ جس کی کم از کم سزا چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
بل کی محرک قرۃ العین مری کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئین کے آرٹیکل 37 کی شق ای میں خاتون کو زچگی کے دوران رخصت کا حق حاصل ہے لیکن اس قانون کے ذریعے وہ مادرانہ تقاضوں کو پورا کرنے کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کرنا چاہتی ہیں۔
ان کے مطابق باپ اور بچے کے درمیان ابتدائی تعلق بچے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے قانون میں اس بات کی بھی گنجائش ہونی چاہیے کہ وہ باپ کو بھی یہ حق دے کہ وہ اپنے نوازئیدہ بچے کی دیکھ بھال کر سکے۔

بل کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تمام وفاقی اداروں، ڈویژنز اور وزارتوں کے علاوہ ملحقہ ادارے، انتظامی اور ماتحت دفاتر، غیر سرکاری تنظیمیں، فرمز، کارپوریشنز، خود مختار، نیم خود مختار، انٹرپرائز، کمپنی، فیکٹری اور ہر ایک ادارے پر ہوگا۔
بل کی منظوری کے وقت حکومت کی جانب وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے مخالفت کی۔ ان کا موقف تھا کہ ’وفاقی اداروں میں خواتین ملازمین کو بچے کی پیدائش کے وقت چھٹی کی سہولت پہلے ہی سے دستیاب ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بچے کے والد کے لیے رخصت کا دورانیہ ایک مہینے سے کم کر کے 15 دن کیا جائے۔ دنیا میں کہیں بھی اتنی طویل رخصت نہیں دی جاتی۔ مردوں کو تو پہلے ہی 48 چھٹیاں سالانہ مل سکتی ہیں تو مزید ایک ماہ کرنے سے نقصان ہوگا۔‘
