انہوں نے لکھا ہے کہ ’میں بہت خوش ہوں کہ 18 مئی کو پہلی پرواز ووہان سے ہمارے پاکستانی طلبہ کو واپس لے کر آئے گی۔‘
زلفی بخاری نے پاکستانی طلبہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ بہادر فوجیوں کی طرح ڈٹے رہے، وزیراعظم عمران خان اور پاکستان کے لوگوں کو آپ پر فخر ہے۔ وطن واپسی پر خوش آمدید۔‘
ووہان میں وائرس پھیلنے کے بعد پاکستانی حکام نے وبا کے ممکنہ پھیلاؤ کے ڈر سے طلبہ کو وطن واپس لانے سے انکار کر دیا گیا تھا جس پر ان طلبہ کے والدین نے احتجاج بھی کیا تھا تاہم بعدازاں حکومت کے اس فیصلے کو سراہا گیا تھا۔
اس موقعے پر چین کے قونصل جنرل لی بیجیان نے کہا تھا کہ پاکستان کا چین سے اپنے شہریوں کو واپس نہ لانے کا فیصلہ ’بہت ہی مشکل لیکن اچھا‘ تھا۔
کراچی پریس کلب میں ’میٹ دی پریس‘ پروگرام سے خطاب میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ چین سے شہریوں کو واپس لانے یا وہاں رکھنے کا فیصلہ بہت ہی مشکل تھا۔‘
بیجیان کے مطابق 50 ہزار پاکستانی ورکرز اور طالب علم چین میں رہ رہے ہیں اور ان کو نکالنے سے وائرس پھیلنے کا خدشہ تھا۔