پاکستان نے قطر میں کام کرنے والے اپنے شہریوں کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے خلیجی ریاست کے حکام سے بات کی ہے۔
عرب نیوز پاکستان کے مطابق پاکستان کی حکومت نے قطر کے حکام کے ساتھ فیفا ورلڈکپ کے منصوبوں پر کام کرنے والے اپنے شہریوں کو ادائیگیوں کا معاملہ اس وقت معاملہ اٹھایا ہے جب پاکستانی کارکنوں کو تنخواہوں کی فراہمی روک دی گئی ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز پاکستانیز کے ڈائریکٹر جنرل کاشف احمد نور نے عرب نیوز پاکستان کی نامہ نگار صائمہ شبیر کو بتایا کہ قطر میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں۔
کاشف احمد نور کے مطابق سنہ میں قطر کی حکومت نے ورلڈکپ فٹبال کے پراجیکٹس کے لیے ایک لاکھ ملازمتوں کا وعدہ کیا تھا جبکہ ہزار سے زائد پاکستانی کارکنوں کو بھیجا گیا۔ ’ہمیں اس بارے مزید معلومات نہیں ہیں ذاتی حیثیت میں کتنے کارکن قطر گئے۔‘
مزید پڑھیں
-
'قطر افغانستان میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے'Node ID: 481796
-
بحرین، قطر اور عمان میں کورونا کے نئے مریضوں کی تصدیقNode ID: 481941
-
قطر: غیرملکی کارکن تنخواہوں کے منتظرNode ID: 484456
انہوں نے بتایا کہ قطر میں حکام نے ڈیسکون سمیت بعض کمپنیوں کو ادائیگی روکی ہے۔
ڈیسکون ملٹی نیشنل کمپنی ہے جس کا دفتر پاکستان ہے جو مقامی کارکنوں کو قطر لے کر گئی ہے۔
کاشف احمد نور نے کہا کہ ’ڈیسکون نے کئی پاکستانیوں کو ملازمتیں دی ہیں جن میں سے بعض کو تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ پیش آیا۔ ہم نے یہ معاملہ کمپنی سے اٹھایا ہے اور کارکنوں کی پاکستان واپسی تک ان کو سیلری، رہائش اور کھانے کی فراہمی کے لیے کہا ہے۔‘
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز پاکستانیز کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ ان کو مزید بھی شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ سامنے آیا اور یہ معاملہ متعلقہ حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے عرب نیوز کو بتایا کہ دوحا میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے کارکنوں کو تنخواہوں کی ادائیگی پر قطر کی وزارت محنت سے بات کی گئی ہے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ قطر میں ورلڈکپ فٹبال کے لیے سٹیٹڈیمز کی تیاریوں کے منصوبے پر کام کرنے والے کارکنوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ کا سامنا ہے۔
