پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئیں نیب ترامیم قابل قبول نہیں ہیں، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس نے اس حوالے سے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے واک آؤٹ کیا ہے۔
منگل کو ہونے والے اجلاس میں وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے سفارتی کوششیں کی گئیں، اور چار ایسے بل ہیں جس پر ہم نے قانون سازی کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ ہم پاکستان کے مفاد کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مل کر قانون سازی کریں، اور اس حوالے سے 25 رکنی پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی تشکیل پائی ہے جس میں حکومتی اور اپوزیشن کے ممبران شامل ہیں۔
مزید پڑھیں
-
احسن اقبال اور شاہد خاقان کی ضمانت کی درخواستیں منظورNode ID: 461256
-
کیا عید کے بعد نیب ’جھاڑو پھیرے گا؟‘Node ID: 481341
-
’نیب کا غیر جانبدارانہ تصور دھندلا گیا‘Node ID: 493556
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف کے ساتھ نیب کے حوالے سے قانون سازی کو مشروط کیا جو ان کے لیے حیران کن بات تھی، اپوزیشن بطور پیکج ڈیل کرنا چاہتی ہے۔
شاہ محمود قریشی کے مطابق ’ان نشستوں میں اپوزیشن نے کہا کہ حکومت واضح کرے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ ہم نے اپنا موقف پیش کیا، لیکن اپوزیشن نے کہا کہ اس پر پیش رفت ممکن نہیں۔ اگر آپ کو ہمارا مسودہ موزوں دکھائی نہیں دیتا تو وہ اس کا حل بتا دیں۔‘
’اپوزیشن نے ایک مسودہ ہمارے سامنے رکھا اور اس میں 35 تجاویز میں ترامیم کا کہا۔ ہماری قانونی ٹیم نے اسے شق وار سمجھا اور وزیر اعظم کو پیش کیا۔‘
ویز خارجہ نے کہا کہ ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اپوزیشن کی طرف سے نیب قانون میں مجوزہ 35 ترامیم کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس طرح احتساب کا یہ قانون بے معنی ہو جائے گا۔‘
ان کے بقول ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ دو اہم موضوعات ہیں۔ اپوزیشن کے مطالبے کو تسلیم کرنا ملکی مفاد کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اپوزیشن کو اس پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

’میں بطور وزیر خارجہ ایک دفعہ پھر اپوزیشن سے گزارش کروں گا کہ ایف اے ٹی ایف اور نیب قانون کو الگ الگ کر کے دیکھیں۔‘
دوسری طرف متحدہ اپوزیشن نے منگل کو اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا اس نے نیب ترامیم منظور نہ ہونے پر پارلیمانی کمیٹی سے واک آؤٹ کیا ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان نے کہا کہ ’کل ہم نے نیب کے لیے جو ترامیم رکھیں، آج جب میٹنگ ہوئی تو حکومت نے بتایا کہ ہم اپوزیشن کی ترامیم سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہم نے اب کمیٹی سے معذرت کر لی ہے۔ حکومت نیک نیتی سے نہیں کر رہی ہے، لہٰذا ہم اب کمیٹی سے واک آؤٹ کر چکے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق حکومت سے کہا کہ یہ ترامیم نیب بل میں ہونی چاہییں، اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ حکومت ان ترامیم سے راضی نہیں ہے۔ اب ہماری مشاورت اے پی سی میں ہوگی۔‘
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے منگل کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'وہ تمام ارکان اسمبلی جن کے خلاف نیب میں مقدمات چل رہے ہیں وہ خود حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ کمیٹی سے الگ ہو جائیں۔'
وہ تمام اراکین اسمبلی جو نیب کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اگر خود نیب کے قانون میں ترامیم کرنے بیٹھ جائینگے تو ایسی ترامیم کا کیا بھرم رہ جائیگا؟ میرے خیال میں وہ اراکین جو نیب کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ان کو ازخود کمیٹی سے علیحدہ ہو جانا چاہئے، پارلیمان کی عزت کا خیال کریں
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) July 28, 2020
شہباز شریف، بلاول بھٹو ملاقات
ادھر منگل ہی کو لاہور میں مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے اور جی ڈی پی کی صورت حال ابتر ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کورونا کی وبا سے لاکھوں لوگ جان سے چلے گئے، دنیا میں چیزوں کی قیمتیں گریں لیکن پاکستان میں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس حکومت کے یُو ٹرن نے سرمایہ کاروں کو تباہ کردیا ہے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ عید کے بعد رہبر کمیٹی کی میٹنگ ہوگی اور اے پی سی میں ایجنڈے کا اعلان ہوگا۔
