متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مکمل طور پر معمول پر آ جائیں گے۔
اس معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے جس کے مطابق اسرائیل مقبوضہ غربِ اردن کے کچھ علاقوں کا اپنے ساتھ الحاق معطل کر رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی طرف سے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس تاریخی سفارتی بریک تھرو سے مشرقِ وسطٰی میں امن کو فروغ ملے گا۔ یہ معاہدہ تین رہنماؤں کی دلیرانہ سفارتکاری اور وژن کا ثبوت ہے۔ اس معاہدے سے ثابت ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل ایک نئے راستے پر چلنا چاہتے ہیں جس سے خطے کی بھرپور صلاحتیں بروئے کار آئیں گی۔‘
مزید پڑھیں
-
یہودی اسرائیل کیسے لائے گئے؟Node ID: 435056
-
'صدر ٹرمپ کا فلسطین، اسرائیل منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا'Node ID: 480946
-
’اسرائیل کے توسیع پسندانہ منصوبے کی مذمت کرتے ہیں‘Node ID: 487811
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتنیاہو کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے معاہدہ طے پا جانے کے بعد ٹویٹ کیا: ’ایک بہت بڑا بریک تھرو! ہمارے دو قریبی دوست ممالک متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تاریخی معاہد ہوگیا ہے۔‘
شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے کہا کہ ’اس معاہدے کے بعد فلسطینی علاقوں کا اسرائیل سے الحاق رک جائے گا۔‘
في اتصالي الهاتفي اليوم مع الرئيس الأمريكي ترامب ورئيس الوزراء الإسرائيلي نتنياهو، تم الاتفاق على إيقاف ضم إسرائيل للأراضي الفلسطينية. كما اتفقت الإمارات وإسرائيل على وضع خارطة طريق نحو تدشين التعاون المشترك وصولا الى علاقات ثنائية.
— محمد بن زايد (@MohamedBinZayed) August 13, 2020
شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے مزید کہا ہے کہ ’صدر ٹرمپ اور وزیرِاعظم نتین یاہو سے فون پر بات چیت کے دوران معاہدہ طے پا گیا ہے جس سے مزید فلسطینی علاقوں کا اسرائیلی سے الحاق رک جائے گا۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ دونوں ملک باہمی تعلقات کے قیام کے لیے تعاون کی نئی راہیں تلاش کریں گے اور ایک نقشۂ راہ متعین کریں گے۔‘
متحدہ عرب امارات کے خبررساں ادارے وام کے مطابق تینوں ممالک نے بتایا کہ مشرق وسطی کی بڑی اقتصادی طاقتوں میں سے دو کے درمیان براہ راست تعلقات کی شروعات کی بدولت خطہ ترقی کرے گا- شرح نمو بڑھے گی- جدید ٹیکنالوجی کو فروغ حاصل ہوگا اور اقوام عالم کے رشتے مضبوط ہوں گے-

مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی درخواست اور متحدہ عرب امارات کے مضبوط موقف کی بنیاد پر اسرائیل، فلسطینی علاقوں کو اپنی خودمختاری میں شامل نہیں کرے گا اور اب وہ اسرائیل عرب اور مسلم دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بنانے سنوارنے پر توجہ مرکوز کرے گا-
امریکہ، امارات اور اسرائیل دیگر ملکوں کو بھی اس سفارتی عمل میں شامل کریں گے اور اس نصب العین کے حصول کے لیے مہم چلائیں گے-
امارات اور اسرائیل کورونا ویکسین کی تیاری سے متعلق بھرپور فوری تعاون کریں گے اور ویکسین کے جلد ازجلد اجرا کی کوشش کریں گے- ان کاوشوں کی بدولت مذہب سے بالا ہوکر سب لوگوں کی جان بچانے میں مدد ملے گی-
