وٹامن سی کا حصول روزانہ کی بنیاد پر اس لیے بھی ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ انسانی جسم نہ تو وٹامن سی خود پیدا کرتا ہے اور نہ ہی اسے ذخیرہ کرتا ہے۔
اس کا حصول قدرتی غذاؤں کے استعمال سے کیا جا سکتا ہے۔
وٹامن سی کی کمی کی وجوہات
ایسے افراد جو متوازن غذا کا استعمال نہیں کرتے ان کے جسم میں عموماً وٹامن سی کی کمی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گردوں کے امراض میں مبتلا افراد جن کا ڈائیلاسز چل رہا ہو یا تمباکو نوشی کے عادی افراد کو روزانہ 35 ملی گرام وٹامن سی کی اضافی مقدار لینے کی تجویز دی جاتی ہے۔
ایسے افراد کے جسم میں ایسے فری ریڈیکل پیدا ہو جاتے ہیں جن کے لیے وٹامن سی کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
وٹامن سی کی کمی کی علامات تین ماہ کے اندر ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
زخموںکادیرسے ٹھیکہونا
جب کسی شخص کو زخم ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے جسم میں وٹامن سی کی کمی ہوجاتی ہے۔ جسم کو کولاجن بنانے کےلیے وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پروٹین ہوتی ہے جو جلد کی اصلاح کے لیے کام کرتی ہے۔
وٹامن سی خون کے سفید خلیے پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے جو جسم کی اصلاح کے لیے اس کی مدد کرتے ہیں۔
ناکیامسوڑوںسےخونبہنا
وٹامن سی خون کی رگوں کو مضبوط اور خون کو گاڑھا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے کولاجن بھی بنتا ہے جو دانتوں اور مسوڑھوں کو درست رکھتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو مسوڑھوں کی تکلیف میں مبتلا تھے، جب انہوں نے دو ہفتوں تک وٹامن سی سے بھرپور پھل کھائے تو ان کے مسوڑھے درست ہوگئے۔
وزنمیںاضافہ
نئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن سی کی کمی اور جسم میں چربی کا اضافہ بالخصوص پیٹ کی چربی ہونے میں گہرا ربط ہے۔ وٹامن سی کی وجہ سے جسم کی اضافی چربی پگھل جاتی ہے اور جسم کو طاقت ملتی ہے۔
جلدکاخشکہوجانا
وٹامن سی کی مکمل مقدار لینے سے چہرہ تر و تازہ اور نرم و ملائم رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ وٹامن سی کی مقدار اور قوت مدافعت کا مضبوط ہونا ہے۔قوت مدافعت کے مضبوط ہونے سے ہی جلد محفوظ رہتی ہے، اسی طرح ایسے منفی خلیوں اور فری ریڈیکلز سے جلد محفوظ رہتی ہے۔
تھکاوٹاورمایوسی
جدید سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن سی کی مقدار کی کمی سے وجہ جسم میں تھکاوٹ ، چڑچڑاپن اور مایوسی کا احساس ہونے لگتا ہے، جبکہ ایسے افراد جن میں وٹامن سی کی مقدار پوری ہے وہ ایسا محسوس نہیں کرتے بلکہ ان کا جسم پر کنٹرول زیادہ ہوتا ہے۔
قوتمدافعتکا کمزورہونا
وٹامن سی کا چونکہ قوت مدافعت سے براہ راست تعلق ہے، اس لیے اس کی کمی کی وجہ سے کئی امراض لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس بات کے کئی ثبوت ہیں کہ وٹامن سی کئی امراض سے نجات دلانے میں معاون ہوتا ہے، جیسے نمونیہ اور مثانے کے امراض وغیرہ۔ وٹامن سی دل کی بیماریوں اور کینسر کے حملے سے بھی محفوظ رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔
نظرکاکمزورہونا
اگر کسی شخص کی عمر بڑھ جانے کے سبب آنکھیں کمزور ہوگئیں تو اس کے لیے وٹامن سی اور کچھ اینٹی آکسیڈنٹ معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ وٹامن سی کی مکمل مقدار لینے سے آنکھوں کا موتیا ختم ہوسکتا ہے، البتہ اس بارےمیں ابھی مزید تحقیق باتی ہے۔
اسقربوط کی بیماری
اٹھارہویں صدی سے قبل ملاحوں کے لیے یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوتی تھی لیکن اب یہ بیماری تقریباً نایاب ہو چکی ہے۔ اس کا علاج 10 ملی گرام وٹامن سی کی مقدار لینے سے ممکن ہوتا تھا۔
اسقربوط کے مریضوں میں دانت گرنا، ناخن ٹوٹنا، جوڑوں کا درد، ہڈیوں کا ڈھیلا ہونا، جسم کے بالوں کا جھڑنا جیسی علامات ہوتی تھیں۔ ایسے مریضوں کو وٹامن سی کی مقدار لینے سے ایک دن میں فرق محسوس ہونا شروع ہوجاتا تھا اور وہ تین ماہ میں مکمل صحت یاب ہوجاتے تھے۔