جرمنی نے ایک امریکی دواساز کمپنی ریجنی رون اور ایلی للی سے اینٹی باڈی کاک ٹیل حاصل کی ہے۔
یاد رہے کی گزشتہ سال اکتوبر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج رہے تھے۔ اس دوران ٹرمپ کا علاج ریجنی رون کمپنی کی تیار کردہ اینٹی باڈی کاک ٹیل سے کیا گیا تھا۔
ریجنی رون کمپنی لیبارٹری میں تیار کردہ دو قسم کی اینٹی باڈیز کو ملا کر کاک ٹیل تیار کرتی ہے۔ ان اینٹی باڈیز میں انفیکشن سے لڑنے والے پروٹین موجود ہوتے ہیں جو کورونا وائرس کو انسانی خلیوں میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔
دوسری جانب ایلی للی نے کورونا کے علاج کے لیے صرف ایک اینٹی باڈی کے استعمال سے خوراکیں تیار کی ہیں۔
جرمن وزیر صحت کے مطابق آئندہ ہفتے دو مختلف قسم کی اینٹی باڈیز یونیورسٹی ہسپتالوں میں مہیا ہوں گی۔
یورپی ممالک میں کورونا ویکسین کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ یورپی یونین میں جرمنی اینٹی باڈیز حاصل کرنے والا پہلا ملک ہے جو کورونا کے علاج میں ان کا استعمال کرے گا۔
وزیر صحت نے مزید کہا کہ کورونا کی شروع کی سٹیج میں اینٹی باڈیز کے ذریعے علاج بیماری کو مزید بگڑنے سے روک سکتا ہے۔
امریکہ نے ایمرجنسی کی صورتحال میں اینٹی باڈیز کے ذریعے علاج کی منظوری دے دی ہے تاہم یورپی نگران اداروں کی جانب سے استعمال کی اجازت باقی ہے۔
وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق جرمنی کے نگران ادارے (پی آئی ای) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے ہر کیس کی بنیاد پر دوائی کے استعمال کا تعین کیا جائے گا۔ نگران ادارے کا مزید کہنا تھا کہ مریض کی حالت کے مطابق ڈاکٹر ہی دوائی کے استعمال کی اجازت دیں گے۔