پاکستان میں ایوان بالا کے آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر بلوچستان متنازع حوالوں کے ساتھ خبروں میں ہے۔ امیدوار وں کے اعلان کے بعد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات پیدا ہوگئے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں مقیم کاروباری شخصیت عبدالقادر کو بلوچستان سے سینیٹ کا ٹکٹ دینے کے فیصلے پر پی ٹی آئی کی صوبائی تنظیم نے سخت مخالفت کی۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے عبدالقادر سے ٹکٹ واپس لے کر پارٹی کے دیرینہ رہنما ظہور آغا کو دے دیا۔
پشین سے تعلق رکھنے والے ظہور آغا پی ٹی آئی کے کوئٹہ ریجن کے سینیئر نائب صدر ہیں اور طویل عرصے سے پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔
مزید پڑھیں
-
سینیٹ الیکشن: ’اوپن بیلٹنگ نہ ہوئی تو اپوزیشن والے روئیں گے‘Node ID: 539926
-
’پارٹی نے سرزنش کرنے کے بجائے سینیٹ کی سیٹ تحفے میں دے دی‘Node ID: 540641
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے سنیچر کو تصدیق کی کہ ’پی ٹی آئی نے عبدالقادر کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے، کپتان ہمیشہ پارٹی کارکنوں کی آواز سنتا ہے۔‘
عبدالقادر کون ہیں؟
اسلام آباد میں مقیم عبدالقادر کاروباری شخصیت ہیں، اس سے قبل ان کی سیاسی وابستگی بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) سے رہی ہے۔ وہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے آزاد امیدوار تھے۔
انہیں مسلم لیگ ن کے منحرف ارکان صوبائی اسمبلی (جنہوں نے بعد میں بی اے پی کی بنیاد رکھی) کی حمایت حاصل تھی، تاہم کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر وہ مطلوبہ حمایت کے باوجود سینیٹر نہ بن سکے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی تصدیق کی کہ ’عبدالقادر ٹکٹ ملنے سے ایک روز قبل ہی پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عبدالقادر بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے مشترکہ امیدوار تھے اس لیے پی ٹی آئی نے انہیں ٹکٹ دیا۔‘
تاہم کوئٹہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالقادر نے بتایا کہ 'میں پی ٹی آئی کا سخت گیر حامی رہا ہوں، 2012 سے پارٹی کا بھرپور ساتھ دیا، دھرنے کے وقت بھی لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ ان کی جائے پیدائش ہے اور انہوں نے بنیادی تعلیم اور قانون کی ڈگری بھی کوئٹہ اور بلوچستان یونیورسٹی سے حاصل کی۔‘
’سارا کاروبار یہاں کیا اور صرف دس سال قبل اسلام آباد منتقل ہوا۔ اگرچہ میرا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں گزرتا ہے تاہم بلوچستان کے لیے 127ارب روپے کے سڑکوں کے منصوبوں میں میرا کلیدی کردار رہا ہے۔‘
عبدالقادر نے الزام لگایا کہ ’پی ٹی آئی بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند اپنے بیٹے کو سینیٹر بنوانا چاہتے تھے اس لیے ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘
اس سے قبل سنیچر کی شام کو بلوچستان میں پی ٹی آئی کے چاروں صوبائی ریجنز کے صدور ڈاکٹر منیر بلوچ، حاجی نواب خان دمڑ، تاج محمد رند اور وارث دشتی نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں الزام لگایا کہ ’عبدالقادر ایک پیرا شوٹر، نیب زدہ
اور شہباز شریف کے کاروباری شراکت دار رہ چکے ہیں، ان کا کبھی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔‘
بلوچستان سے سینیٹ کا ٹکٹ قادر صاحب سے واپس لے کر ظہور آغا کو جاری کیا جا رہا ہے۔ کپتان ہمیشہ اپنے پارٹی ورکر کی آواز سنتا ہے۔
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) February 13, 2021
’بیس برسوں سے جدوجہد کرنے والی پارٹی کے دیرینہ کارکنوں اور پارٹی منشور کو نظر انداز کرکے عبدالقادر کو پی ٹی آئی میں شامل ہونے سے پہلے ہی سینیٹ ٹکٹ دے دیا گیا۔‘
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر منیر بلوچ کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں بیٹھے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے بعض سینیئر رہنماؤں نے اس حوالے سے منفی کردار ادا کیا ہے۔‘
’ایسی باتیں سامنے آرہی ہیں کہ عبدالقادر کو وزیراعظم عمران خان سے ملانے اور ٹکٹ دلوانے کے بدلے ان رہنماؤں نے بھاری مراعات حاصل کی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’وزیراعظم عمران خان نے خود بھی کہا تھا کہ بلوچستان سے سینیٹ کے ایک ووٹ کی قیمت 50 سے 70 کروڑ روپے تک لگ رہی ہے۔ وزیراعظم کا اس مسئلے پر خود واضح مؤقف رہا ہے اس لیے انہیں ان الزامات پر کارروائی کرنی چاہیے۔‘
دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ جنرل نشستوں پر پارٹی کے جنرل سیکریٹری منظور کاکڑ، سابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور پارٹی کے سینیئر رہنما خان آف قلات خاندان کے آغا عمر احمد زئی کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

نوشکی سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت اورنگزیب جمالدینی، سابق صوبائی وزیر عبدالخالق اچکزئی کے علاوہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی اے این پی کی سابق سینیٹر ستارہ ایاز کو بھی ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اورنگزیب جمالدینی کے علاوہ باقی تمام مرد امیدوار بلوچستان عوامی پارٹی کے معروف رہنما ہیں۔
دوسری جماعت اور دوسرے صوبے سے تعلق رکھنے والی خاتون کو سینیٹ ٹکٹ کیوں دیا گیا؟ اس سوال پر بی اے پی کے جنرل سیکریٹری منظور کاکڑ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس میں کوئی بری بات نہیں ایسا تمام ہی جماعتیں کرتی ہیں۔‘
’پیپلز پارٹی نے بھی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی خاتون کو کراچی سے ٹکٹ دیا ہے۔ ستارہ ایاز کافی عرصے سے بی اے پی کا ساتھ دیتی رہی ہیں اس لیے انہیں ٹکٹ دیا گیا ہے۔‘
ستارہ ایاز 2015 میں خیبر پختونخوا سے اے این پی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئی تھیں۔ اے این پی نے اکتوبر 2019 میں پارٹی پالیسیوں کی خلاف ورزی، گروپ بندی اور تنظیم سے بغاوت کا الزام لگا کر انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔

بی اے پی نے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پارٹی کے بانی رہنما سعید احمد ہاشمی، منظور کاکڑ، سابق نگراں وزیر، گوادر چیمبر آف کامرس کے سابق صدر نوید کلمتی اور دکی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نواز ناصر کو ٹکٹ دیے ہیں۔
اقلیتی نشست پر وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امور دھنیش کمار اور خلیل جارج کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں، جبکہ خواتین کی نشست پر سماجی کارکن شانیہ خان، ثمینہ ممتاز اور کاشفہ گچکی امیدوار ہوں گی۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بھائی اور وزیراعلیٰ جام کمال کے دو قریبی رشتہ داروں نے ٹکٹ کے لیے درخواستیں دی تھیں تاہم انہیں ٹکٹ نہیں دیے گئے۔
پشتون اضلاع اور نصیرآباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والے بی اے پی کے سینیئر رہنماؤں نے پارٹی اجلاسوں میں ٹکٹ کی تقسیم میں نظر انداز کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام نے بلوچستان سے مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا خلیل احمد بلیدی، کامران مرتضیٰ، آسیہ ناصر اور ہیمن داس کو ٹکٹ جاری کیے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے بلوچستان اسمبلی میں دس ارکان اسمبلی ہیں جن میں اکثریت کا تعلق پشتون اضلاع سے ہے۔
