سعودی وژن 2030 پر دستاویزی فلم ' قومی تبدیلی کا سفر'
سیاسی تبدیلیاں ہوئیں، مارکیٹس بدلیں، تجارتی جنگوں اور تباہیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ (فوٹو عرب نیوز)
'قومی تبدیلی کا سفر' کے زیرعنوان ایک دستاویزی فلم گزشتہ اتوارکو نشر کی گئی جس میں سعودی وژن 2030 کے اجرا سے قبل کی سعودی عرب کی معیشت اور معاشرے کی کہانی بیان کی گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب کے وزرا نے عمر الجریسی کے ساتھ ایک نشست میں سعودی عرب کے سفر پر کھل کر بات کی ہے۔
1970 کی دہائی سے مملکت میں معیشت کی ترقی کے لئے پانچ سالہ منصوبے مرتب کئے جاتے رہے لیکن وژن 2030 کے بعد یہ سب بدل گیا۔
الجریسی نے دریافت کیا کہ 2015 میں پانچ سالہ منصوبے کی بجائے ہمیں قومی تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
قومی تبدیلی کمیٹی کے صدر محمد التویجری نے جواباً کہا کہ دنیا بدل گئی۔
جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں،مارکیٹس بدل گئیں، تجارتی جنگوں اور تباہیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے پہلے معاشی مسئلے” تیل پر انحصار“سے خطاب کیا جس نے برآمدات اور درآمدات کے لئے سعودی عرب کودوسرے ممالک پر انحصار پر مجبور کر دیا۔
الفالح نے کہا کہ مملکت نے ابتدا میں تیل سے مالا مال ہونے کی حیثیت سے اپنی معیشت کی تعمیر کی تھی اور یہی بات ہمارے لئے انحصار کا سبب بنی۔

وزیر تجارت ماجد القصبی نے دستاویزی فلم میں خواتین کے حقوق سےمتعلق امور میں مملکت کی درجہ بندی پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی بینک رینکنگ میں خواتین کے لئے عالمی تشخیص میں سعودی عرب وہ واحد ملک تھا جو نیچے تھا۔
وزیر انصاف ولید الصمعانی نے عدالت میں مناسب کارروائی کے لئے خواتین کے معاملات میں تاخیر پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ در حقیقت بہت سی وجوہ تھیں جوانصاف کی فراہمی میں تاخیر کا سبب بنتی تھیں۔

وژن2030 کےاعلان سے پہلے بھی یہاں کی بہت سی اہم خواتین نے اپنی جدوجہد کے بارے میں شیئر کیا۔
انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت میں خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق سعودی نائب وزیر ہند الزاہد نے کہا کہ خواتین گاڑی نہیں چلا سکتی تھیں، تمام شعبوں میں کام نہیں کرسکتی تھیں ، خواتین میں کوئی رہنما بھی نہیں تھیں۔
ماضی میں خواتین کے لئے معاملات سے متعلق سعودی قانونی مشیر نجلا القحطانی نے اس دستاویزی فلم میں کہا کہ انہیں 2015 میں عدالتوں میں بحیثیت خاتون مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھاتاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ خواتین کے قانونی معاملات میں ہونے والی پیشرفت کے باعث 2020 میں سعودی عرب، ورلڈ بینک انڈیکس میں خواتین اور قانون کے معاملے میں سبقت لے گیا۔

وزیر تجارت ماجد القصبی نے کہا کہ عالمی بینک نے2020 میں سعودی عرب کو کاروباری ماحول کے لئے دنیا کا سب سے زیادہ اصلاح یافتہ ملک تسلیم کیا۔
یہ مملکت کیلئے ایک تاریخی سنگ میل ہے جس پر ہمیں خاص طورپر فخر ہے۔ ایسا صرف اصلاحات کی تعداد کے باعث ہی نہیں ہوا بلکہ ان اصلاحات کے عملی نفاذ کی رفتار اور ان سے مرتب ہونے والے اثرات نے بھی ایسا مثبت تاثرپیدا کیا۔
صرف پانچ سال کے عرصے میں سعودی عرب میں کاروبار کی تعداد 70 فیصد بڑھ گئی جو ساڑھے چھ سے11لاکھ سے بھی زیادہ ہوگئی۔