اقامے کی مدت ختم ہو گئی، خود کار طریقے سے تجدید کب ہوگی؟
اقامے کی مدت ختم ہو گئی، خود کار طریقے سے تجدید کب ہوگی؟
جمعرات 9 ستمبر 2021 0:09
پہلے مرحلے میں ممنوع ممالک سے لوگوں کے مملکت آنے پرپابندی عائد کی گئی (فوٹو اے ایف پی)
سعودی عرب میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے گذشتہ برس سے عائد سفری پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جارہی ہیں۔
پہلے مرحلے میں ممنوعہ ممالک یعنی جن ممالک میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد زیادہ تھی وہاں سے لوگوں کے مملکت آنے پرپابندی عائد کی گئی تھی جس کا مقصد کورونا کی وبا سے لوگوں کو محفوظ رکھنا ہےـ
پابندی کے حوالے سے سعودی وزارت صحت کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی جاری رپورٹ کے تناظر میں مرتب کی گئی احتیاطی تدابیرکی سفارشات اور قواعد پیش کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں وزارت داخلہ کی جانب سے سفارشات پرغور کرنے کے بعد انہیں منظورکرکے ضوابط کا اعلان کیا جاتا ہےـ
وزارت صحت کی جانب سے گذشتہ ماہ (اگست) کے اختتام سے قبل پاکستان سمیت دیگر ممنوعہ ممالک کے ایسے تارکین جو سعودی عرب کے اقامہ ہولڈر ہیں انہیں مملکت آنے کی مشروط اجازت دی جس کے تحت ایسے تارکین جنہوں نے سعودی عرب میں رہتے ہوئے ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوائی ہیں وہ براہ راست مملکت آسکتے ہیں۔
محکمہ پاسپورٹ ’جوازات ‘ کے ٹوئٹر پر ایک شخص نے دریافت کیا کہ ’سعودی عرب میں ویکسین کی پہلی خوراک لی تھی دوسری پاکستان میں لی۔ توکلنا ایپ پر سٹیٹس ’محصن‘ کا ہے۔ علاوہ ازیں ’صحتی‘ ایپ پر بھی ویکسینیشن کی تصدیق بھی ہے اور پاکستان میں لی گئی دوسری خوراک کا سرٹیفکیٹ بھی، کیا مملکت آسکتا ہوں؟‘
سوال کے جواب میں جوازات کا کہنا تھا کہ جن افراد کو ممنوعہ ممالک سے براہ راست مملکت آنے کی اجازت دی گئی ہے ان میں وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے مملکت میں کورونا کی دونوں خوراکیں لی ہیں اور توکلنا ایپ پران کا سٹیٹس ’محصن جرعتان‘ یعنی دونوں خوراکوں کے بعد کورونا سے محفوظ کا ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی محکمہ پاسپورٹ کی جانب سے پاکستان سمیت ان ممالک سے تعلق رکھنے والے اقامہ ہولڈر تارکین وطن کو براہ راست مملکت آنے کی اجازت دی ہے جنہوں نے مملکت سے جانے سے قبل کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں حاصل کرلی تھیں۔ ایسے افراد براہ راست یعنی بغیر کسی ملک میں دوہفتے قرنطینہ کیے بغیر مملکت آسکتے ہیں۔
پہلے مرحلہ میں پاکستان سمیت ممنوع ممالک کے شہریوں کو مملکت آنے سے قبل 14 دن کسی ایسے ملک میں قیام کرنا لازمی ہے جہاں سے مملکت آنے پرپابندی عائد نہیں یا وہ ممالک ممنوع ملک کی فہرست میں شامل نہیں۔
جوازات سے ایک اور ٹوئٹر صارف نے اقامہ اور خروج وعودہ کی مدت میں خودکار توسیع کے حوالے سے دریافت کیا کہ ’چھٹی پر وطن گیا ہوا ہوں مگر سفری پابندی کے باعث مملکت نہیں آسکا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اقامہ کی مدت ختم ہو گئی ہے جس میں تاحال خود کار طریقہ سے تجدید نہیں ہوئی، کیا کریں؟‘
تارکین کے اقامے اور خروج وعودہ کی مدت میں 30 ستمبر 2021 تک بغیر کسی فیس کے توسیع کی جائے گی (فوٹو ایس پی اے)
سوال کے جواب میں جوازات کا کہنا تھا کہ سفری پابندی کے حوالے سے ممنوعہ ممالک کے اقامہ ہولڈرغیر ملکی کارکنوں کے اقامہ اور خروج وعودہ کی مدت میں مرحلہ وار اور خود کارطریقے سےاضافہ کیا جارہا ہے۔ اس بارے میں انتظار کریں باری آنے پراقامہ اور خروج و عودہ کی مدت میں توسیع کردی جائے گی۔
واضح رہے ایوان شاہی کی جانب سے ریڈ لسٹ میں شامل ممالک کے ان اقامہ ہولڈرز غیرملکی کارکنوں کی سہولت کے لیے جو چھٹی پراپنے ملک میں گئے ہوئے ہیں مگرپابندی کے باعث مملکت نہیں آسکے ان کے اقامے اور خروج وعودہ کی مدت میں خود کارانداز میں توسیع کرنے کے احکامات صادرکیے جا چکے ہیں اور ان احکامات پرمرحلہ وارعمل درآمد کیا جارہا ہےـ
ایسے تارکین کے اقامے اور خروج وعودہ کی مدت میں 30 ستمبر 2021 تک بغیر کسی فیس کے توسیع کی جائے گی۔ ایسے تارکین کے اقامے اور خروج و عودہ کی مدت میں مذکورہ تاریخ تک مفت توسیع کی جائے گی۔