قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد سمیت کئی سرکاری افسران کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کر دی۔
وفاقی کابینہ احتساب بیورو کی سفارش کی حتمی منظوری دے گی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے سرکولیشن کے ذریعے وفاقی وزرا کو بھجوائی گئی سمری میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے خلاف نیب میں مختلف مقدمات کی تفتیش جاری ہے اس لیے ان کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے نام ای سی ایل میں ڈالنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں
-
چیئرمین نیب کی تعیناتی پر ہمیشہ تنازعات کیوں جنم لیتے ہیں؟Node ID: 604071
-
قومی اسمبلی میں حکومت کو ایک دن میں دو مرتبہ ’شکست‘Node ID: 617016
-
کب کب وزرائے اعظم سپریم کورٹ میں پیش ہوئےNode ID: 617221
قومی احتساب بیورو کی طرف سے مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور سابق وزیراعظم نوازشریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔
نیب کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان تینوں شخصیات کو مختلف مقدمات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ان کے نام ای سی ایل لسٹ میں ڈالے جائیں۔ قومی احتساب بیورو کی سفارش پر وفاقی کابینہ حتمی منظوری دے گی۔
شہباز شریف، فواد حسن فواد اور محمد یعقوب، بلال قدوائی، امتیاز حیدر اور کامران کیانی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے ملی بھگت سے آشیانہ اقبال منصوبے کا کنٹریکٹ پیراگون سٹی کو دیا۔
ملزمان نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پی ایل ڈی سی کے معاملات میں مداخلت کی اور کمپنیز آرڈیننس کی خلاف ورزی کی۔ ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس زیر سماعت ہے اور خدشہ ہے کہ وہ بیرون ملک فرار ہو جائیں گے تاکہ احتساب سے بچ سکیں۔
شہباز شریف کا اس سے پہلے 17 مئی 2020 کو بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔
