لبنانی فورسز کے رکن پارلیمنٹ زیاد الحواط کا کہنا ہے کہ یہ حکم تہران سے آیا ہے اور حزب اللہ اور امل موومنٹ خلل ڈالنے والی جوڑی ہے۔
زیاد الحواط نے مزید کہا کہ ان دونوں پارٹیوں نے لبنان کو بیرونی مرضی کے مطابق بنا دیا ہے لیکن پارلیمانی انتخابات آنے والے ہیں اور اب فیصلہ ہم پر ہے۔
واضح رہے کہ حزب اللہ اور امل موونٹ کی جانب سے گذشتہ روز کہا گیا کہ وہ تین ماہ کے بائیکاٹ کے بعد کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔
اس فیصلے نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے جب کہ اتوار کے روز لبنانی کرنسی کی شرح پر مثبت اثرات نمودار ہوئے ہیں۔
لبنان کے وزیراعظم نجیب میقاتی نے دونوں پارٹیوں کے اس اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے قومی بجٹ کا مسودہ آنے پر وہ کابینہ کا اجلاس بلائیں گے۔
نجیب میقاتی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے بار بار ذاتی مطالبات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے خاص طور پر اس وقت جب ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔
وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے بحالی کا منصوبہ ترتیب دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
کچھ سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ اس وقت حزب اللہ اور امل موومنٹ کو سیاسی تعطل اور عوامی دباؤ کا بھی سامنا ہے جس میں ان پر ملکی بحران میں اضافے کا الزام ہے۔
واضح رہے کہ لبنان میں آئندہ پارلیمانی انتخابات قریب ہیں اور دونوں جماعتیں مئی میں مذکورہ انتخابات کی تاریخ سے قبل عوام کی ناراضگی کو ہر صورت ختم کرنا چاہتی ہیں۔
واضح رہے کہ دونوں جماعتوں نے ہفتے کو اپنے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ہم قومی بجٹ کی منظوری کے لیے کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے معاہدے کا اعلان کرتے ہیں۔
ملک میں اقتصادی بحالی کے منصوبے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان تمام باتوں کا تعلق لبنان کے شہریوں کے حالات زندگی بہتر بنانے سے ہے۔
حزب اللہ اور امل موومنٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی جانب سے ماضی میں کئے گئے بائیکاٹ کا اعلان بیروت پورٹ دھماکہ کیس کے جج طارق بطار کی طرف سے اٹھائے گئے غیر آئینی اقدامات، سنگین قانونی خلاف ورزیوں، کھلم کھلا سیاست، انصاف کی کمی اور معیار کے احترام کی کمی کے باعث تھا۔